سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
48. بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقَصْدِ فِي الْوَضُوءِ وَكَرَاهِيَةِ التَّعَدِّي فِيهِ
باب: وضو میں میانہ روی کی فضیلت اور حد سے تجاوز کرنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 421
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عُتَيِّ بْنِ ضَمْرَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِلْوُضُوءِ شَيْطَانًا يُقَالُ لَهُ: وَلَهَانُ، فَاتَّقُوا وَسْوَاسَ الْمَاءِ".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو میں وسوسہ ڈالنے کے کام کے لیے ایک شیطان ہے جس کو ولہان کہا جاتا ہے، لہٰذا تم پانی کے وسوسوں سے بچو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 421]
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو کا بھی ایک شیطان ہے، جسے «وَلْهَانُ» ”ولہان“ کہتے ہیں، اس لیے پانی کے وسوسے سے بچو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 421]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطہارة 43 (57)، (تحفة الأشراف: 66)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/126) (ضعیف جدًا)» (سند میں خارجہ بن مصعب متروک راوی ہے، اور کذابین سے تدلیس کرتا ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
ترمذي (57)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 393
إسناده ضعيف جدًا
ترمذي (57)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 393
حدیث نمبر: 422
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا خَالِي يَعْلَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنِ الْوُضُوءِ؟ فَأَرَاهُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ:" هَذَا الْوُضُوءُ فَمَنْ زَادَ عَلَى هَذَا فَقَدْ أَسَاءَ، أَوْ تَعَدَّى، أَوْ ظَلَمَ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دیہاتی آیا، اور آپ سے وضو کے سلسلے میں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین تین بار وضو کر کے اسے دکھایا، پھر فرمایا: ”یہی (مکمل) وضو ہے، لہٰذا جس نے اس سے زیادہ کیا اس نے برا کیا، یا حد سے تجاوز کیا، یا ظلم کیا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 422]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک اعرابی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے وضو کے بارے میں سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تین تین بار (اعضاء دھو کر) وضو کر کے دکھایا، پھر فرمایا: «هَكَذَا الْوُضُوءُ، فَمَنْ زَادَ عَلَى هَذَا فَقَدْ أَسَاءَ وَتَعَدَّى وَظَلَمَ» ”وضو یہ ہوتا ہے، جس نے اس پر اضافہ کیا، اس نے برا کیا، حد سے تجاوز کیا اور ظلم کیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 422]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 51 (135)، سنن النسائی/الطہارة 104 (140)، (تحفة الأشراف: 8809)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/180) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
حدیث نمبر: 423
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الشَّافِعِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ كُرَيْبًا ، يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ،" فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَوَضَّأَ مِنْ شَنَّةٍ وُضُوءًا يُقَلِّلُهُ، فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ كَمَا صَنَعَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس رات بسر کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں بیدار ہوئے، اور آپ نے ایک پرانے مشکیزے سے بہت ہی ہلکا وضو کیا، میں بھی اٹھا اور میں نے بھی ویسے ہی کیا جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 423]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں رات کو اپنی خالہ (ام المؤمنین) حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ٹھہرا۔ (رات کو) نبی صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مشک سے وضو کیا اور وضو بھی مختصر کیا (کم پانی استعمال کیا)، میں اٹھا اور میں نے بھی ویسے ہی کیا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 423]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 5 (138)، والأذان 161 (726)، صحیح مسلم/المسافرین 26 (763)، سنن الترمذی/الصلاة 57 (232)، سنن النسائی/ الغسل 29 (443)، (تحفة الأشراف: 6356)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/220، 244، 283، 330) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی بہت جلد اور تھوڑے پانی سے وضو کیا، اور یہ وقت تہجد کا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 424
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَتَوَضَّأُ، فَقَالَ: لَا تُسْرِفْ، لَا تُسْرِفْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو وضو کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: ”اسراف (فضول خرچی) نہ کرو، اسراف (فضول خرچی) نہ کرو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 424]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو وضو کرتے دیکھا تو فرمایا: ”فضول خرچی نہ کرو، فضول خرچی نہ کرو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 424]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6790) (موضوع)» (اس میں بقیہ مدلس، محمد بن الفضل کذاب اور فضل بن عطیہ ضعیف راوی ہیں، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 4782)
قال الشيخ الألباني: موضوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده موضوع
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف،الفضل بن عطية ضعيف وابنه كذاب وبقية مدلس ‘‘ محمد بن الفضل كذاب
والفضل بن عطية: صدوق وثقه الجمھور۔و بقية
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 393
إسناده موضوع
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف،الفضل بن عطية ضعيف وابنه كذاب وبقية مدلس ‘‘ محمد بن الفضل كذاب
والفضل بن عطية: صدوق وثقه الجمھور۔و بقية
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 393
حدیث نمبر: 425
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ حُيَيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيِّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِسَعْدٍ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ، فَقَالَ:" مَا هَذَا السَّرَفُ"؟ فَقَالَ: أَفِي الْوُضُوءِ إِسْرَافٌ؟ قَالَ:" نَعَمْ وَإِنْ كُنْتَ عَلَى نَهَرٍ جَارٍ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سعد رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، وہ وضو کر رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کیسا اسراف ہے؟“، انہوں نے کہا: کیا وضو میں بھی اسراف ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں چاہے تم بہتی نہر کے کنارے ہی کیوں نہ بیٹھے ہو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 425]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ وضو کر رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پاس سے گزرے تو فرمایا: ”یہ کیا اسراف ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”کیا وضو میں بھی اسراف ہوتا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اگرچہ تم بہتے دریا پر (اس کے کنارے بیٹھے) ہو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 425]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8870، ومصباح الزجاجة: 174)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/221) (حسن)» (تراجع الألبانی: رقم: 110، سند میں ابن لہیعہ ضعیف، اور حیی بن عبداللہ صاحب وھم راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: الارواء: 140، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 3292، وسلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 4782)
وضاحت: ۱؎: ان احادیث سے وضو میں بھی فضول خرچی منع ہے، آج کل بلاوجہ پانی زیادہ بہانے کا رواج ہو گیا ہے، مسلمانوں کو چاہئے کہ اس کا خاص خیال رکھیں، اور بلا ضرورت پانی نہ بہائیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن لهيعة عنعن
والحديث ضعفه الحافظ في التلخيص (144/1 ح 194 م) والبوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 393
إسناده ضعيف
ابن لهيعة عنعن
والحديث ضعفه الحافظ في التلخيص (144/1 ح 194 م) والبوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 393