🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

49. بَابُ: مَا جَاءَ فِي إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ
باب: اچھی طرح وضو کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 426
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ سَالِمٍ أَبُو جَهْضَمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِسْبَاغِ الْوُضُوءِ".
ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کامل وضو کا حکم دیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 426]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوب کامل وضو کرنے کا حکم دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 426]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الصلاة 131 (808)، سنن الترمذی/الجہاد 23 (1701)، سنن النسائی/الطہارة 106 (141)، الخیل 9 (3611)، (تحفة الأشراف: 5791)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/ 225، 232، 234، 249، 255) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: «اسباغ الوضوء» کے معنی ہیں، ہر اس عضو تک جس کا دھونا وضو میں ضروری ہے، پوری طرح احتیاط کے ساتھ پانی پہنچانا، تاکہ کوئی جگہ سوکھی نہ رہ جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 427
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يُكَفِّرُ اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا، وَيَزِيدُ بِهِ فِي الْحَسَنَاتِ"؟ قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جس سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹا دیتا اور نیکیوں میں اضافہ کرتا ہے؟، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اللہ کے رسول! ضرور بتائیے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ناپسندیدگی کے باوجود مکمل وضو کرنا ۱؎، اور مسجدوں کی جانب دور سے چل کر جانا ۲؎، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 427]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: کیا میں تمہیں وہ اعمال نہ بتاؤں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ غلطیاں معاف فرما دیتا ہے اور نیکیوں میں اضافہ فرما دیتا ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: کیوں نہیں! اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس وقت کامل (سنوار کر) وضو کرنا جب (سردی وغیرہ کی وجہ سے) دل نہ چاہتا ہو، اور مسجدوں کی طرف زیادہ قدم اٹھانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 427]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4046، ومصباح الزجاجة: 176)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطھارة 39 (51)، مسند احمد (3/3، 16، 95)، دي الطہارة 30 (725) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی سخت سردی اور بیماری کے باوجود (جس میں پانی کا استعمال سخت ناپسندیدہ کام ہوتا ہے)، مکمل وضو کرنا۔ ۲؎: یہ مسجد سے گھر دور ہونے کی صورت میں حاصل ہو گا، اسی طرح اس سے مراد بار بار مسجد جانا بھی ہو سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 428
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَمْزَةَ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كَفَّارَاتُ الْخَطَايَا إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ، وَإِعْمَالُ الْأَقْدَامِ إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غلطیوں کے کفارے یہ ہیں: اس وقت کامل وضو کرنا جب دل نہ چاہتا ہو، اور مسجدوں کی طرف (چلنے کے لیے) پاؤں کام میں لانا اور نماز کے بعد نماز کا انتظار کرنا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 428]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غلطیوں کے کفارے یہ ہیں: اس وقت کامل وضو کرنا جب دل نہ چاہتا ہو، اور مسجدوں کی طرف (چلنے کے لیے) پاؤں کام میں لانا اور نماز کے بعد نماز کا انتظار کرنا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 428]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14812)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطہارة 14 (251) أتم منہ، سنن الترمذی/الطہارة 39 (51)، سنن النسائی/الطہارة 107 (143)، مسند احمد (2/277، 2/303) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں