🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

10. بَابُ: مَنْ نَامَ عَنِ الصَّلاَةِ أَوْ نَسِيَهَا
باب: نماز کے وقت سو جائے یا اسے پڑھنا بھول جائے تو کیا کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 695
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يَغْفُلُ عَنِ الصَّلَاةِ، أَوْ يَرْقُدُ عَنْهَا؟ قَالَ:" يُصَلِّيهَا إِذَا ذَكَرَهَا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے متعلق سوال کیا گیا جو نماز سے غافل ہو جائے، یا سو جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب یاد آ جائے تو پڑھ لے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 695]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی آدمی نماز پڑھنا بھول جائے یا سویا رہ جائے (تو کیا کرے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب یاد آئے، اسی وقت نماز پڑھ لے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 695]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/المواقیت 52 (615)، (تحفة الأشراف: 1151)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الموا قیت 37 (597)، صحیح مسلم/المساجد 55 (684)، سنن ابی داود/الصلاة 11 (442)، سنن الترمذی/الصلاة 17 (178)، مسند احمد (3/100، 243، 266، 269، 282)، سنن الدارمی/الصلاة 26 (1265) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ایک روایت میں اتنا زیادہ ہے وہی اس کا وقت ہے یعنی جس وقت جاگ کر اٹھے یا جب نماز یاد آ جائے اسی وقت پڑھ لے، اگرچہ اس وقت سورج نکلنے یا ڈوبنے کا وقت ہو یا ٹھیک دوپہر کا وقت ہو، یا فجر یا عصر کے بعد یاد آئے، کیونکہ یہ حدیث عام ہے، اور اس سے ان احادیث کی تخصیص ہو گئی جس میں ان اوقات میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، یہی قول امام احمد کا ہے، اور بعضوں نے کہا نماز پڑھے جب تک سورج نہ نکلے یا ڈوب نہ جائے، اور یہ قول حنفیہ کا ہے، کیونکہ بخاری نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب سورج کا کنارہ نکلے تو نماز میں دیر کرو، یہاں تک کہ سورج اونچا ہو جائے، اور جب سورج کا کنارہ غائب ہو جائے، تو نماز میں دیر کرو یہاں تک کہ بالکل غائب ہو جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 696
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے، تو جب یاد آئے پڑھ لے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 696]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کوئی نماز پڑھنا بھول جائے تو اسے چاہیے کہ جب اسے یاد آئے، پڑھ لے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 696]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 55 (684)، سنن ابی داود/الصلاة 11 (442)، سنن الترمذی/الصلاة 17 (178)، سنن النسائی/المواقیت 51 (614)، (تحفة الأشراف: 1430)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/110، 243، 267، 269، 282) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 697
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَفَلَ مِنْ غَزْوَةِ خَيْبَرَ، فَسَارَ لَيْلَهُ حَتَّى إِذَا أَدْرَكَهُ الْكَرَى عَرَّسَ، وَقَالَ لِبِلَالٍ:" اكْلَأْ لَنَا اللَّيْلَ"، فَصَلَّى بِلَالٌ مَا قُدِّرَ لَهُ، وَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ، فَلَمَّا تَقَارَبَ الْفَجْرُ اسْتَنَدَ بِلَالٌ إِلَى رَاحِلَتِهِ مُوَاجِهَ الْفَجْرِ، فَغَلَبَتْ بِلَالًا عَيْنَاهُ وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى رَاحِلَتِهِ، فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ بِلَالٌ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ حَتَّى ضَرَبَتْهُمُ الشَّمْسُ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَهُمُ اسْتِيقَاظًا، فَفَزَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَيْ بِلَالُ"، فَقَالَ بِلَالٌ: أَخَذَ بِنَفْسِي الَّذِي أَخَذَ بِنَفْسِكَ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" اقْتَادُوا"، فَاقْتَادُوا رَوَاحِلَهُمْ شَيْئًا، ثُمَّ تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى بِهِمُ الصُّبْحَ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ:" مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: وَأَقِمِ الصَّلاةَ لِذِكْرِي سورة طه آية 14"، قَالَ: وَكَانَ ابْنُ شِهَابٍ يَقْرَؤُهَا لِلذِّكْرَى.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ خیبر سے واپس لوٹے تو رات میں چلتے رہے، یہاں تک کہ جب نیند آنے لگی تو رات کے آخری حصہ میں آرام کے لیے اتر گئے، اور بلال رضی اللہ عنہ سے کہا: آج رات ہماری نگرانی کرو، چنانچہ بلال رضی اللہ عنہ کو جتنی توفیق ہوئی اتنی دیر نماز پڑھتے رہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سوتے رہے، جب فجر کا وقت قریب ہوا تو بلال رضی اللہ عنہ نے مشرق کی جانب منہ کر کے اپنی سواری پر ٹیک لگا لی، اسی ٹیک لگانے کی حالت میں ان کی آنکھ لگ گئی، نہ تو وہ جاگے اور نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے اور کوئی، یہاں تک کہ انہیں دھوپ لگی تو سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے، اور گھبرا کر فرمایا: بلال!، بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، جس نے آپ کی جان کو روکے رکھا اسی نے میری جان کو روک لیا ۱؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگے چلو، صحابہ کرام اپنی سواریوں کو لے کر کچھ آگے بڑھے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، اور بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے نماز کے لیے اقامت کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کر لی تو فرمایا: جو شخص کوئی نماز بھول جائے تو جب یاد آئے پڑھ لے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «أقم الصلاة لذكري» نماز اس وقت قائم کرو جب یاد آ جائے (سورة: طه: ۱۴)۔ راوی کہتے ہیں کہ ابن شہاب اس کو «لذكري»  کے بجائے «للذكرى»  پڑھتے تھے ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 697]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہٴ خیبر سے واپس آئے تو ایک رات سفر جاری رکھا، جب نیند آنے لگی تو رات کے آخری حصے میں آرام کے لیے ٹھہرے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: آج رات ہمارے لیے (وقت کا) خیال رکھنا۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نماز پڑھتے رہے جب تک ان کی قسمت میں تھی۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سو گئے۔ جب فجر کا وقت قریب ہوا، بلال رضی اللہ عنہ فجر (کے طلوع ہونے کی سمت، یعنی مشرق) کی طرف منہ کر کے اپنی سواری سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔ (تاکہ جونہی فجر طلوع ہو، اذان کہہ دیں) وہ سواری سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے کہ انہیں نیند آگئی۔ نہ بلال رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے، نہ کوئی اور صحابی بیدار ہوا، حتی کہ انہیں دھوپ (کی گرمی) محسوس ہوئی، سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کھلی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا گئے۔ فرمایا: اے بلال! بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان، جس ذات نے آپ کو (بیداری سے) روک لیا، اسی نے مجھے بھی روک لیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوچ کرو۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنی سواریوں کو تھوڑی دور چلایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (قافلہ روک کر) وضو کیا، اور بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے نماز کی اقامت کہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھائی۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی تو فرمایا: جس شخص کو نماز کی ادائیگی یاد نہ رہے، اسے چاہیے کہ جب یاد آئے نماز پڑھ لے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي﴾ [سورة طه: 14] اور نماز قائم کرو میری یاد کے لیے۔ امام زہری رحمہ اللہ اس آیت کو اس طرح پڑھتے تھے ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِلذِّكْرَى﴾ [سورة طه: 14] ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 697]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 55 (680)، سنن ابی داود/الصلاة 11 (435)، (تحفة الأشراف: 13326)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/ التفسیر طہ 21 (3163)، سنن النسائی/المواقیت 53 (620)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة 6 (25) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی میں بھی نیند کی گرفت میں آگیا اور مجھ پر نیند بھی طاری ہوگئی۔ ۲؎: مشہور قراءت «أقم الصلاة لذكري» (طہٰ: ۱۴) ہی ہے، مذکورہ جگہ سے سواریوں کو ہانک لے جانے اور کچھ دور پر جا کر نماز پڑھنے کی تأویل میں علماء کے مختلف اقوال ہیں بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا اس وجہ سے کیا تھا تاکہ سورج اوپر چڑھ آئے اور وہ وقت ختم ہو جائے جس میں نماز پڑھنے کی ممانعت ہے ان کے نزدیک چھوٹی ہوئی نماز بھی ان اوقات میں پڑھنی جائز نہیں، لیکن صحیح قول یہ ہے کہ چھوٹی ہوئی نماز کی قضا ہر وقت جائز ہے، ممنوع اوقات میں نماز ادا کرنے کی ممانعت نوافل کے ساتھ خاص ہے، مالک، اوزاعی، شافعی اور احمد بن حنبل وغیرہم ائمہ کرام کا یہی مذہب ہے، ان لوگوں کے نزدیک اس کی صحیح تاویل یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسی جگہ نماز پڑھنا نہیں چاہتے تھے جہاں لوگوں کو غفلت و نسیان لاحق ہوا ہو، ابوداؤد کی ایک روایت میں  «تحولوا عن مكانكم الذي أصابتكم فيه الغفلة» اس جگہ سے ہٹ جاؤ جہاں پر تم غفلت کا شکار ہو گئے تھے فرما کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس کی وجہ بیان فرما دی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 698
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: ذَكَرُوا تَفْرِيطَهُمْ فِي النَّوْمِ، فَقَالَ: نَامُوا حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ، فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ صَلَاةً، أَوْ نَامَ عَنْهَا فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا وَلِوَقْتِهَا مِنَ الْغَدِ"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ: فَسَمِعَنِي عِمْرَانُ بْنُ الْحُصَيْنِ وَأَنَا أُحَدِّثُ بِالْحَدِيثِ، فَقَالَ: يَا فَتًى انْظُرْ كَيْفَ تُحَدِّثُ، فَإِنِّي شَاهِدٌ لِلْحَدِيثِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَمَا أَنْكَرَ مِنْ حَدِيثِهِ شَيْئًا.
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے نیند کی وجہ سے اپنی کوتاہی کا ذکر چھیڑا تو انہوں نے کہا: لوگ سو گئے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیند میں کوتاہی نہیں ہے، کوتاہی بیداری کی حالت میں ہے، لہٰذا جب کوئی شخص نماز بھول جائے یا اس سے سو جائے تو جب یاد آئے پڑھ لے، اور اگلے روز اس کے وقت میں پڑھ لے ۱؎۔ عبداللہ بن رباح کہتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے سنا تو کہا: نوجوان! ذرا غور کرو، تم کیسے حدیث بیان کر رہے ہو؟ اس حدیث کے وقت میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا، وہ کہتے ہیں کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے اس میں سے کسی بھی بات کا انکار نہیں کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 698]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نیند میں اپنی تقصیر کا ذکر کیا، یعنی یہ تقصیر کہ وہ سورج نکلنے تک سوئے رہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سوتے ہوئے (تاخیر ہو جانے میں) کوئی کوتاہی نہیں، تقصیر (گناہ) تو جاگتے ہوئے (تاخیر کر دینے میں) ہوتی ہے۔ جب کوئی شخص نماز پڑھنا بھول جائے یا سویا رہ جائے تو جب اسے یاد آئے (یا جب بیدار ہو) اسی وقت نماز پڑھ لے اور اگلے دن اس کے وقت پر ادا کرے۔ (حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے شاگرد) حضرت عبد اللہ بن رباح نے کہا: میں یہ حدیث بیان کر رہا تھا کہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے بھی سن لیا، انہوں نے فرمایا: لڑکے! توجہ سے حدیث بیان کرو، اس حدیث (کے ارشاد فرمائے جانے) کے موقع پر میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا۔ (میں نے حدیث بیان کی تو) انہوں نے حدیث میں کسی غلطی کی نشان دہی نہیں کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 698]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الصلاة 11 (437)، (تحفة الأشراف: 12089)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 55 (681)، سنن الترمذی/الصلاة 16 (177)، سنن النسائی/المواقیت 53 (618)، مسند احمد (5/305) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ جب یاد آئے یا سونے کے بعد جاگتے ہی اسی وقت نماز پڑھ لے، اور دوسرے دن کوشش کرے کہ نماز کو وقت ہی پر پڑھے، نماز سے سستی کی عادت نہ ڈالے، اگرچہ ظاہر لفظ سے ایسا لگتا ہے کہ جاگنے کے بعد پڑھے، اور دوسرے دن اس کے وقت میں بھی پڑھے،لیکن اس کا کوئی قائل نہیں کہ نماز دو بار پڑھی جائے، نیز جو معنی ہم نے بتایا ہے اس کی تائید سنن دار قطنی کی ایک روایت سے بھی ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں