🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب : من نام عن الصلاة أو نسيها
باب: نماز کے وقت سو جائے یا اسے پڑھنا بھول جائے تو کیا کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 697
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَفَلَ مِنْ غَزْوَةِ خَيْبَرَ، فَسَارَ لَيْلَهُ حَتَّى إِذَا أَدْرَكَهُ الْكَرَى عَرَّسَ، وَقَالَ لِبِلَالٍ:" اكْلَأْ لَنَا اللَّيْلَ"، فَصَلَّى بِلَالٌ مَا قُدِّرَ لَهُ، وَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ، فَلَمَّا تَقَارَبَ الْفَجْرُ اسْتَنَدَ بِلَالٌ إِلَى رَاحِلَتِهِ مُوَاجِهَ الْفَجْرِ، فَغَلَبَتْ بِلَالًا عَيْنَاهُ وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى رَاحِلَتِهِ، فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ بِلَالٌ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ حَتَّى ضَرَبَتْهُمُ الشَّمْسُ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَهُمُ اسْتِيقَاظًا، فَفَزَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَيْ بِلَالُ"، فَقَالَ بِلَالٌ: أَخَذَ بِنَفْسِي الَّذِي أَخَذَ بِنَفْسِكَ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" اقْتَادُوا"، فَاقْتَادُوا رَوَاحِلَهُمْ شَيْئًا، ثُمَّ تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى بِهِمُ الصُّبْحَ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ:" مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: وَأَقِمِ الصَّلاةَ لِذِكْرِي سورة طه آية 14"، قَالَ: وَكَانَ ابْنُ شِهَابٍ يَقْرَؤُهَا لِلذِّكْرَى.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ خیبر سے واپس لوٹے تو رات میں چلتے رہے، یہاں تک کہ جب نیند آنے لگی تو رات کے آخری حصہ میں آرام کے لیے اتر گئے، اور بلال رضی اللہ عنہ سے کہا: آج رات ہماری نگرانی کرو، چنانچہ بلال رضی اللہ عنہ کو جتنی توفیق ہوئی اتنی دیر نماز پڑھتے رہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سوتے رہے، جب فجر کا وقت قریب ہوا تو بلال رضی اللہ عنہ نے مشرق کی جانب منہ کر کے اپنی سواری پر ٹیک لگا لی، اسی ٹیک لگانے کی حالت میں ان کی آنکھ لگ گئی، نہ تو وہ جاگے اور نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے اور کوئی، یہاں تک کہ انہیں دھوپ لگی تو سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے، اور گھبرا کر فرمایا: بلال!، بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، جس نے آپ کی جان کو روکے رکھا اسی نے میری جان کو روک لیا ۱؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگے چلو، صحابہ کرام اپنی سواریوں کو لے کر کچھ آگے بڑھے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، اور بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے نماز کے لیے اقامت کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کر لی تو فرمایا: جو شخص کوئی نماز بھول جائے تو جب یاد آئے پڑھ لے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «أقم الصلاة لذكري» نماز اس وقت قائم کرو جب یاد آ جائے (سورة: طه: ۱۴)۔ راوی کہتے ہیں کہ ابن شہاب اس کو «لذكري»  کے بجائے «للذكرى»  پڑھتے تھے ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 697]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 55 (680)، سنن ابی داود/الصلاة 11 (435)، (تحفة الأشراف: 13326)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/ التفسیر طہ 21 (3163)، سنن النسائی/المواقیت 53 (620)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة 6 (25) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی میں بھی نیند کی گرفت میں آگیا اور مجھ پر نیند بھی طاری ہوگئی۔ ۲؎: مشہور قراءت «أقم الصلاة لذكري» (طہٰ: ۱۴) ہی ہے، مذکورہ جگہ سے سواریوں کو ہانک لے جانے اور کچھ دور پر جا کر نماز پڑھنے کی تأویل میں علماء کے مختلف اقوال ہیں بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا اس وجہ سے کیا تھا تاکہ سورج اوپر چڑھ آئے اور وہ وقت ختم ہو جائے جس میں نماز پڑھنے کی ممانعت ہے ان کے نزدیک چھوٹی ہوئی نماز بھی ان اوقات میں پڑھنی جائز نہیں، لیکن صحیح قول یہ ہے کہ چھوٹی ہوئی نماز کی قضا ہر وقت جائز ہے، ممنوع اوقات میں نماز ادا کرنے کی ممانعت نوافل کے ساتھ خاص ہے، مالک، اوزاعی، شافعی اور احمد بن حنبل وغیرہم ائمہ کرام کا یہی مذہب ہے، ان لوگوں کے نزدیک اس کی صحیح تاویل یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسی جگہ نماز پڑھنا نہیں چاہتے تھے جہاں لوگوں کو غفلت و نسیان لاحق ہوا ہو، ابوداؤد کی ایک روایت میں  «تحولوا عن مكانكم الذي أصابتكم فيه الغفلة» اس جگہ سے ہٹ جاؤ جہاں پر تم غفلت کا شکار ہو گئے تھے فرما کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس کی وجہ بیان فرما دی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد
Newسعيد بن المسيب القرشي ← أبو هريرة الدوسي
أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← سعيد بن المسيب القرشي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر
Newيونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← يونس بن يزيد الأيلي
ثقة حافظ
👤←👥حرملة بن يحيى التجيبي، أبو حفص
Newحرملة بن يحيى التجيبي ← عبد الله بن وهب القرشي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
619
إذا نسيت الصلاة فصل إذا ذكرت فإن الله يقول أقم الصلاة لذكري
سنن النسائى الصغرى
620
من نسي صلاة فليصلها إذا ذكرها فإن الله قال أقم الصلاة لذكري
سنن النسائى الصغرى
621
من نسي صلاة فليصلها إذا ذكرها فإن الله يقول أقم الصلاة للذكرى
صحيح مسلم
1560
من نسي الصلاة فليصلها إذا ذكرها فإن الله قال أقم الصلاة لذكري
سنن أبي داود
435
من نسي صلاة فليصلها إذا ذكرها فإن الله قال أقم الصلاة للذكرى
سنن ابن ماجه
697
من نسي صلاة فليصلها إذا ذكرها فإن الله قال وأقم الصلاة لذكري
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 697 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث697
اردو حاشہ:
(1)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں نماز کی اتنی اہمیت تھی کہ سفر میں تھکاوٹ کے موقع پر آرام کرتے ہوئے بھی یہی خیال تھا کہ نماز لیٹ نہ ہوجائے۔
اس لیے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی باقاعدہ ڈیوٹی لگا دی تاکہ فجر کی نماز بروقت پڑھی جائے۔

(2)
حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اپنے فرائض کی ادائیگی کے لیے پورا اہتمام کیا۔
ایک یہ کہ بقیہ رات نماز پڑھتے رہے تاکہ نیند نہ آجائے اور پھر اذان کا وقت قریب ہوا تو بھی پوری مستعدی سے مشرق کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھ گئے تاکہ جونہی صبح صادق طلوع ہو اذان کہہ دیں۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص کے ذمہ کوئی اجتماعی کام لگایا جائے اسے چاہیے کہ اس کی ادائیگی کے لیے بہتر سے بہتر انداز سے کوشش کرے۔

(3)
کسی قوم یا جماعت کے سربراہ کو چاہیے کہ اگر اجتماعی کام میں کوئی خلل واقع ہوتو اس کے ذمہ دار سے باز پرس کرے تاکہ دوسرے لوگ اپنے فرائض میں کوتاہی کرنے سے اجتناب کریں۔

(4)
اگر معلوم ہو کہ کام میں خلل کی وجہ ذمہ دار کی بے پرواہی یا عمداً کوتاہی نہیں تو اس کا عذر قبول کیا جائے اور اسے مزید توبیخ نہ کی جائے۔

(5)
قافلہ کو اس مقام سے چلا کر کچھ دور ٹھر جانے میں یہ حکمت ہو سکتی ہے کہ سستی ختم ہو کر تمام افراد ہوشیار اور چست ہو جائیں تاکہ نماز میں نیند اور سستی کا اثر باقی نہ رہے۔

(6)
قضاء شدہ نماز بھی باجماعت ادا کی جاسکتی ہے۔

(7)
حدیث میں مذکورہ آیت کی دو قراءتیں ہیں اور دونوں صحیح ہیں۔
پہلی قراءت جو ہمارے ہاں رائج ہے۔
﴿وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذکْري﴾ اس کا مطلب یہ ہے کہ نماز کا اصل مقصد اللہ کی یاد ہے لہٰذا نماز پوری توجہ کے ساتھ ادا کرنا ضروری ہے۔
دوسری قراءت ﴿وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِلذِّکْرٰي﴾ سے زیر بحث مسئلہ کی دلیل بنتی ہے۔
اس صورت میں اس کا مطلب نصیحت کے لیے بھی ہوسکتا ہے۔
اور یاد کے لیے یا یاد کے وقت بھی۔
حدیث میں یہی آخری مطلب مراد ہے۔
اس سے دلیل لیتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مسئلہ بیان فرمایا کہ اگر کسی وجہ کوئی شخص نماز پڑھنا بھول جائے تو یاد آتے ہی فوراً ادا کرلینی چاہیے، بلاوجہ مزید تاخیر کرنا مناسب نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 697]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 619
جس نماز سے آدمی سو جائے تو اسے دوسرے روز اس کے وقت پر دوبارہ پڑھنے کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز بھول جاؤ تو یاد آنے پر اسے پڑھ لو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: «أقم الصلاة لذكري» ۱؎ نماز قائم کرو جب میری یاد آئے۔‏‏‏‏ عبدالاعلی کہتے ہیں: اس حدیث کو ہم سے یعلیٰ نے مختصراً بیان کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 619]
619 ۔ اردو حاشیہ: «وَأَقِمِ الصَّلاةَ لِذِكْرِي» [طه20: 14] اس کے ایک معنیٰ ہیں: مجھے یاد کرنے کے لیے نماز پڑھو۔ دوسرا ترجمہ حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔ ایک قرأت میں «للذكري» بھی پڑھا گیا ہے۔ اس کے معنی ہیں: نماز یاد آنے پر، یا معنی ہیں: نصیحت حاصل کرنے کے لیے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 619]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1560
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ خیبر سے واپس لوٹے۔ ایک رات چلتے رہے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نیند غالب آ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا اور بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: تم آج رات ہماری حفاظت کرو۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب تک اللہ کو منظور رہا نفل پڑھتے رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی سو گئے۔ جب صبح کا وقت آ گیا تو بلال ؓ فجر پھوٹنے کی (جگہ) کی طرف رخ کر کے اپنی سواری کو ٹیک لگا کر بیٹھ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:1560]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےبڑے پُراعتماد ہو کر یہ دعوی کیا تھا کہ آپ سو جائیں۔
میں آپ کو بیدار کروں گا۔
معلوم ہوتا ہے إن شاء اللہ نہیں کہا۔
اس لیےحضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کی طرح،
ان پر بھی نیند نے غلبہ پا لیا اور جب دھوپ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے بیدار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے قضاء ہونے پر افسوس ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا تم نے یہ کیا کیا؟ انہوں نے معذرت کی کہ میں نے عمداً ایسے نہیں کیا۔
اللہ تعالیٰ کو ایسے ہی منظور تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غفلت کا باعث بننے والی زمین کو چھوڑنے کا حکم دی اور آگے چل کر سب سے پہلے نماز کا اہتمام فرمایا۔
اسی لیے قضا شدہ نماز کو جتنا جلدی ممکن ہو پڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
حتیٰ الوسع ایسی جگہوں سے پرہیز کرنا چاہیے جو انسان کو دینی امور سے غافل کر دیتی ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1560]