🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

32. بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الْقَبْرِ
باب: (مردہ دفن ہو جائے تو) قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1527
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ كَانَتْ تَقُمُّ الْمَسْجِدَ فَفَقَدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عَنْهَا بَعْدَ أَيَّامٍ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهَا مَاتَتْ، قَالَ:" فَهَلَّا آذَنْتُمُونِي؟ فَأَتَى قَبْرَهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک کالی عورت مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں دیکھا، کچھ روز کے بعد اس کے متعلق پوچھا تو آپ سے عرض کیا گیا کہ اس کا انتقال ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر مجھے خبر کیوں نہ دی، اس کے بعد آپ اس کی قبر پہ آئے، اور اس پر نماز جنازہ پڑھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1527]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سیاہ فام خاتون مسجد کی صفائی کیا کرتی تھیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نظر نہ آئیں تو چند دن بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق دریافت فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ وہ فوت ہو گئی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے مجھے اطلاع کیوں نہ دی؟ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی قبر پر تشریف لے گئے اور نماز جنازہ ادا کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1527]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصلاة 74 (458)، صحیح مسلم/الجنائز23 (956)، سنن ابی داود/الجنائز 61 (3203)، (تحفة الأشراف: 14650)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/353) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1528
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ ، وَكَانَ أَكْبَرَ مِنْ زَيْدٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا وَرَدَ الْبَقِيعَ فَإِذَا هُوَ بِقَبْرٍ جَدِيدٍ، فَسَأَلَ عَنْهُ، فَقَالُوا: فُلَانَةُ، قَالَ: فَعَرَفَهَا، وَقَالَ:" أَلَا آذَنْتُمُونِي بِهَا؟"، قَالُوا: كُنْتَ قَائِلًا صَائِمًا فَكَرِهْنَا أَنْ نُؤْذِيَكَ، قَالَ:" فَلَا تَفْعَلُوا لَا أَعْرِفَنَّ مَا مَاتَ فِيكُمْ مَيِّتٌ مَا كُنْتُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ إِلَّا آذَنْتُمُونِي بِهِ، فَإِنَّ صَلَاتِي عَلَيْهِ لَهُ رَحْمَةٌ"، ثُمَّ أَتَى الْقَبْرَ، فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا.
یزید بن ثابت رضی اللہ عنہ (وہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بڑے بھائی) کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، جب آپ مقبرہ بقیع پہنچے تو وہاں ایک نئی قبر دیکھی، آپ نے اس کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے کہا: فلاں عورت کی ہے، آپ نے اس کو پہچان لیا اور فرمایا: تم لوگوں نے اس کی خبر مجھ کو کیوں نہ دی؟، لوگوں نے کہا: آپ دوپہر میں آرام فرما رہے تھے، اور روزے سے تھے، ہم نے آپ کو تکلیف دینا مناسب نہ سمجھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب ایسا نہ کرنا، آئندہ مجھے یہ معلوم نہ ہونے پائے کہ پھر تم لوگوں نے ایسا کیا ہے، جب تم لوگوں میں سے کوئی شخص مر جائے تو جب تک میں تم میں زندہ ہوں مجھے خبر کرتے رہو، اس لیے کہ اس پر میری نماز اس کے لیے رحمت ہے، پھر آپ اس کی قبر کے پاس آئے، اور ہم نے آپ کے پیچھے صف باندھی، آپ نے اس پر چار تکبیریں کہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1528]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بڑے بھائی حضرت یزید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ باہر گئے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع (کے قبرستان) میں پہنچے تو آپ کو ایک نئی قبر نظر آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں دریافت فرمایا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: فلاں خاتون ہے (یہ ان کی قبر ہے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہچان لیا، فرمایا: تم نے مجھے اس کی (وفات کی) اطلاع کیوں نہ دی؟ انہوں نے کہا: آپ دوپہر کو آرام فرما رہے تھے اور آپ روزے سے تھے، تو ہمیں یہ بات اچھی نہ لگی کہ آپ کو تکلیف دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یوں نہ کیا کرو۔ مجھے (تم سے دوبارہ ایسے عمل کی) ہرگز خبر نہ ملے۔ جب تک میں تمہارے درمیان (زندہ) موجود ہوں۔ تم میں سے جو کوئی بھی فوت ہو، مجھے ضرور اطلاع کیا کرو کیونکہ میری دعا ان کے لیے رحمت کا باعث ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبر پر تشریف لے گئے ہم نے آپ کے پیچھے صف بنالی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر چار تکبیریں کہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1528]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الجنائز 94 (2024)، (تحفة الأشراف: 11824)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/388) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی اس کی نماز جنازہ پڑھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1529
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ مَاتَتْ، وَلَمْ يُؤْذَنْ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ، فَقَالَ:" هَلَّا آذَنْتُمُونِي بِهَا؟"، ثُمَّ قَالَ لِأَصْحَابِهِ:" صُفُّوا عَلَيْهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا".
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک کالی عورت کا انتقال ہو گیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے انتقال کی خبر نہیں دی گئی، پھر جب آپ کو خبر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں نے مجھے اس کے انتقال کی خبر کیوں نہیں دی؟ اس کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے کہا: اس پہ صف باندھو، پھر آپ نے اس عورت کی نماز جنازہ پڑھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1529]
حضرت عبداللہ بن عامر رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ایک سیاہ فام خاتون کی وفات ہوگئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع نہ دی گئی۔ (بعد میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس (کی وفات) کا علم ہوا تو فرمایا: تم نے مجھے اس کی وفات کی اطلاع کیوں نہ دی؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: اس (کی نماز جنازہ) کے لیے صفیں بناؤ۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جنازہ پڑھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1529]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5040، ومصباح الزجاجة: 543)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/444) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1530
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق الشَّيْبَانِيِّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ، فَدَفَنُوهُ بِاللَّيْلِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ أَعْلَمُوهُ، فَقَالَ:" مَا مَنَعَكُمْ أَنْ تُعْلِمُونِي"، قَالُوا: كَانَ اللَّيْلُ، وَكَانَتِ الظُّلْمَةُ فَكَرِهْنَا أَنْ نَشُقَّ عَلَيْكَ، فَأَتَى قَبْرَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک ایسے شخص کا انتقال ہو گیا، جس کی عیادت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے، لوگوں نے اسے رات میں دفنا دیا، جب صبح ہوئی اور لوگوں نے (اس کی موت کے بارے میں) آپ کو بتایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں نے مجھے اطلاع کیوں نہیں دی؟ لوگوں نے کہا کہ رات تھی اور تاریکی تھی، ہم نے آپ کو تکلیف دینا اچھا نہیں سمجھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قبر کے پاس آئے، اور اس کی نماز جنازہ پڑھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1530]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک آدمی فوت ہو گیا، (وفات سے پہلے بیماری کے ایام میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی عیادت کیا کرتے تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے رات ہی کو دفن کر دیا، جب صبح ہوئی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے خبر کرنے میں تمہیں کیا مانع تھا؟ انہوں نے کہا: رات کا وقت تھا اور اندھیرا بھی تھا تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دینا پسند نہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی قبر پر جا کر نمازِ جنازہ ادا کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1530]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 161 (857)، الجنائز5 (1247)، 54 (1321)، 55 (1322)، 59 (1326)، 66 (1336)، 69 (1340)، صحیح مسلم/الجنائز 23 (954)، سنن ابی داود/الجنائز 58 (3196)، سنن الترمذی/الجنائز 47 (1037)، سنن النسائی/الجنائز94 (2025، 2026)، (تحفة الأشراف: 5766)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/224، 238، 338) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1531
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَّى عَلَى قَبْرٍ بَعْدَ مَا قُبِرَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قبر پر دفن کیے جانے کے بعد اس میت کی نماز جنازہ پڑھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1531]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قبر پر میت کی تدفین کے بعد نمازِ جنازہ پڑھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1531]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنائز 23 (955)، (تحفة الأشراف: 283)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/406، 3/130) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1532
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مِهْرَانُ بْنُ أَبِي عُمَرَ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَّى عَلَى مَيِّتٍ بَعْدَ مَا دُفِنَ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک میت کی اس کے دفن کر دئیے جانے کے بعد نماز جنازہ پڑھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1532]
حضرت سلیمان بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک میت کا جنازہ اس کے دفن کیے جانے کے بعد ادا کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1532]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1943، ومصباح الزجاجة: 544) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے کیونکہ ابو سنان مہران، اور محمد بن حمید متکلم فیہ راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1533
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ شُرَحْبِيلَ ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: كَانَتْ سَوْدَاءُ تَقُمُّ الْمَسْجِدَ فَتُوُفِّيَتْ لَيْلًا، فَلَمَّا أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخْبِرَ بِمَوْتِهَا، فَقَالَ:" أَلَا آذَنْتُمُونِي بِهَا؟ فَخَرَجَ بِأَصْحَابِهِ، فَوَقَفَ عَلَى قَبْرِهَا، فَكَبَّرَ عَلَيْهَا، وَالنَّاسُ خَلْفَهُ وَدَعَا لَهَا، ثُمَّ انْصَرَفَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک کالی عورت مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی، ایک رات اس کا انتقال ہو گیا، جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے مرنے کی اطلاع دی گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں نے مجھے خبر کیوں نہ دی؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ نکلے اور اس کی قبر پر کھڑے ہو کر تکبیر کہی، اور لوگ آپ کے پیچھے تھے، آپ نے اس کے لیے دعا کی پھر آپ لوٹ آئے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1533]
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سیاہ فام خاتون مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی۔ ایک رات وہ فوت ہوگئی۔ صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی وفات کی اطلاع دی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے مجھے (اس وقت) کیوں نہ اس کی وفات کی اطلاع دی؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ساتھ لے کر نکلے اور اس کی قبر پر جا کھڑے ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے پیچھے تمام لوگوں نے اس پر (نماز جنازہ کی) تکبیریں کہیں اور اس کے لیے دعائیں کیں (نماز جنازہ پڑھی) پھر واپس آگئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1533]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4069، ومصباح الزجاجة: 545) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سابقہ حدیث تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ابن لہیعہ ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قبر پر نماز جنازہ صحیح ہے، سنن ترمذی میں ایک حدیث ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سعد کی قبر پر نماز جنازہ پڑھی، ان کے دفن پر ایک مہینہ گزر چکا تھا، نیز یہ حدیث عام ہے خواہ اس میت پر لوگ نماز جنازہ پڑھ چکے ہوں یا کسی نے نہ پڑھی ہو، ہر طرح اس کی قبر پر نماز جنازہ پڑھنا صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن لهيعة عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 433

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں