سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. باب : ما جاء في الصلاة على القبر
باب: (مردہ دفن ہو جائے تو) قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1529
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ مَاتَتْ، وَلَمْ يُؤْذَنْ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ، فَقَالَ:" هَلَّا آذَنْتُمُونِي بِهَا؟"، ثُمَّ قَالَ لِأَصْحَابِهِ:" صُفُّوا عَلَيْهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا".
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک کالی عورت کا انتقال ہو گیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے انتقال کی خبر نہیں دی گئی، پھر جب آپ کو خبر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگوں نے مجھے اس کے انتقال کی خبر کیوں نہیں دی“؟ اس کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے کہا: اس پہ صف باندھو، پھر آپ نے اس عورت کی نماز جنازہ پڑھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1529]
حضرت عبداللہ بن عامر رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ”ایک سیاہ فام خاتون کی وفات ہوگئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع نہ دی گئی۔ (بعد میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس (کی وفات) کا علم ہوا تو فرمایا: ”تم نے مجھے اس کی وفات کی اطلاع کیوں نہ دی؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ”اس (کی نماز جنازہ) کے لیے صفیں بناؤ۔“ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جنازہ پڑھا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1529]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5040، ومصباح الزجاجة: 543)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/444) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
1529
| هلا آذنتموني بها فقال لأصحابه صفوا عليها فصلى عليها |
Sunan Ibn Majah Hadith 1529 in Urdu
عبد الله بن عامر العنزي ← عامر بن ربيعة العنزي