سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
52. بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنْ ضَرْبِ الْخُدُودِ وَشَقِّ الْجُيُوبِ
باب: (مصیبت کے وقت) منہ پیٹنا اور گریبان پھاڑنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 1584
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ جميعا، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ مِنَّا مَنْ شَقَّ الْجُيُوبَ، وَضَرَبَ الْخُدُودَ، وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص (نوحہ میں) گریبان پھاڑے، منہ پیٹے، اور جاہلیت کی پکار پکارے، وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1584]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص گریبان چاک کرے اور رخساروں پر طمانچے مارے اور جاہلیت کی طرح بین (نوحہ) کرے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1584]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «حدیث علی بن محمد ومحمد بن بشار قد أخرجہ: صحیح البخاری/الجنائز 35 (1254)، سنن الترمذی/الجنائز 22 (999)، سنن النسائی/الجنائز 17 (1861)، (تحفة الأشراف: 9559)، وحدیث علی بن محمد وابو بکربن خلاّد قد أخرجہ: صحیح البخاری/المناقب 8 (3519)، الجنائز 38 (1297)، 39 (1298)، صحیح مسلم/الإیمان 44 (103)، سنن النسائی/الجنائز 17 (1861)، (تحفة الأشراف: 9569)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/386، 432، 442، 465) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 1585
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ الْمُحَارِبِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَرَامَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، وَالْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَعَنَ الْخَامِشَةَ وَجْهَهَا، وَالشَّاقَّةَ جَيْبَهَا، وَالدَّاعِيَةَ بِالْوَيْلِ وَالثُّبُورِ".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت پر لعنت کی جو اپنا (نوحہ میں) چہرہ نوچے، اپنا گریبان پھاڑے اور خرابی بربادی اور ہلاکت کے الفاظ پکارے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1585]
حضرت ابو امامہ (اسعد بن سہل بن حنیف) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”(اظہار غم کے لیے) چہرہ نوچنے والی پر، گریبان چاک کرنے والی پر، اور بربادی اور ہلاکت پکارنے والی پر لعنت فرمائی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1585]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4922، ومصباح الزجاجة: 571) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
حدیث نمبر: 1586
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ أَبِي الْعُمَيْسِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَخْرَةَ يَذْكُرُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، وأبى بردة ، قَالَا: لَمَّا ثَقُلَ أَبُو مُوسَى ، أَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ تَصِيحُ بِرَنَّةٍ فَأَفَاقَ، فَقَالَ لَهَا: أَوَ مَا عَلِمْتِ أَنِّي بَرِيءٌ مِمَّنْ بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ يُحَدِّثُهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَنَا بَرِيءٌ مِمَّنْ حَلَقَ، وَسَلَقَ، وَخَرَقَ".
عبدالرحمٰن بن یزید اور ابوبردہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی بیماری شدید ہو گئی، تو ان کی بیوی ام عبداللہ چلّا چلّا کر رونے لگیں، جب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو ہوش آیا تو انہوں نے بیوی سے کہا: کیا تم نہیں جانتی کہ میں اس شخص سے بری ہوں جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بری ہوئے، اور وہ اپنی بیوی سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس سے بری ہوں جو مصیبت کے وقت سر منڈائے، روئے چلائے اور کپڑے پھاڑے ۱؎“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1586]
حضرت عبدالرحمن بن یزید اور ابو بردہ رحمہما اللہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: جب حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ زیادہ بیمار ہو گئے تو ان کی بیوی ام عبداللہ رضی اللہ عنہا بلند آواز سے رونے لگیں۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کو کچھ افاقہ ہوا تو فرمایا: ”کیا تجھے معلوم نہیں کہ میں بھی اس سے بیزار ہوں جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیزاری کا اظہار فرمایا ہے؟“ (اس بیماری سے پہلے) وہ انہیں حدیث سنایا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس شخص سے بیزار ہوں جو (اظہار غم کے لیے) بال منڈوائے یا بین کرے یا کپڑے پھاڑے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1586]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإیمان 44 (104)، سنن النسائی/الجنائز20 (1866)، (تحفة الأشراف: 9020، 9081)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز29 (3130)، مسند احمد (4/396، 404، 405، 411، 416) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جیسے جاہلوں کی عادت ہوتی ہے، بلکہ ہندوؤں کی رسم ہے کہ جب کوئی مر جاتا ہے تو اس کے غم میں سر بلکہ داڑھی مونچھ بھی منڈوا ڈالتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم