سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. بَابُ: خِيَارِ الأَمَةِ إِذَا أُعْتِقَتْ
باب: آزاد ہو جانے کے بعد لونڈی کو اختیار ہے کہ وہ اپنے شوہر کے پاس رہے یا نہ رہے۔
حدیث نمبر: 2074
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَائِشَةَ ،" أَنَّهَا أَعْتَقَتْ بَرِيرَةَ، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ لَهَا زَوْجٌ حُرٌّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کر دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اختیار دے دیا، (کہ وہ اپنے شوہر کے پاس رہیں یا اس سے جدا ہو جائیں) اور ان کے شوہر آزاد تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2074]
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اختیار دے دیا اور ان کا خاوند آزاد تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2074]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الرضاع 7 (1154)، (تحفة الأشراف: 15959)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العتق 10 (2536)، سنن ابی داود/الطلاق 20 (2235)، سنن النسائی/الزکاة 99 (2615)، الطلاق 30 (3480)، موطا امام مالک/الطلاق 10 (25)، مسند احمد (6/46، 115، 123، 172، 175، 178، 191، 207)، سنن الدارمی/الطلاق 15 (2337) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: آزادی کے بعد پہلا نکاح باقی رکھے یا نہ رکھے، لیکن یہ جب ہے کہ اس کا شوہر غلام ہو، اگر شوہر آزاد ہو تو اختیار نہ ہو گا، امام مالک، شافعی اور جمہور علماء کا یہی قول ہے اور ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ ہر حال میں اختیار ہو گا، اور اس باب میں مختلف احادیث وارد ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله حر والمحفوظ عبد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2235) ترمذي (1155)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 453
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2235) ترمذي (1155)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 453
حدیث نمبر: 2075
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا، يُقَالُ لَهُ: مُغِيثٌ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ خَلْفَهَا وَيَبْكِي وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى خَدِّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ:" يَا عَبَّاسُ أَلَا تَعْجَبُ مِنْ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ وَمِنْ بُغْضِ بَرِيرَةَ مُغِيثًا، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ رَاجَعْتِيهِ، فَإِنَّهُ أَبُو وَلَدِكِ"، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَأْمُرُنِي، قَالَ:" إِنَّمَا أَشْفَعُ"، قَالَتْ: لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر غلام تھا اس کو مغیث کہا جاتا تھا، گویا کہ میں اس وقت اس کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ بریرہ کے پیچھے پھر رہا ہے، اور رو رہا ہے اور اس کے آنسو اس کے گالوں پہ بہہ رہے ہیں، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عباس رضی اللہ عنہ سے فرما رہے ہیں: ”عباس! کیا تمہیں بریرہ سے مغیث کی محبت اور مغیث سے بریرہ کی نفرت پہ تعجب نہیں ہے“؟ چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ”کاش تو مغیث کے پاس لوٹ جاتی، وہ تیرے بچے کا باپ ہے“، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے حکم دے رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”نہیں، میں صرف سفارش کر رہا ہوں“، تو وہ بولی: مجھے مغیث کی کوئی ضرورت نہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2075]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر غلام تھے، انہیں مغیث رضی اللہ عنہ کہتے تھے۔ (مجھے وہ منظر یاد ہے) گویا میں ان (مغیث رضی اللہ عنہ) کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے پیچھے روتے پھر رہے ہیں اور ان کے رخساروں پر آنسو بہہ رہے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے عباس! کیا آپ کو تعجب نہیں ہوتا کہ مغیث بریرہ سے (شدید) محبت کرتا ہے اور بریرہ رضی اللہ عنہا، مغیث رضی اللہ عنہ سے (شدید) نفرت کرتی ہے؟“ (ایک بار) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”کاش! تم ان سے رجوع کر لو، آخر وہ تمہارے بچوں کے باپ ہیں۔“ انہوں نے کہا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ مجھے حکم فرما رہے ہیں؟“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو سفارش کرتا ہوں۔“ تو انہوں نے کہا: ”مجھے ان کی کوئی ضرورت نہیں۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2075]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطلاق 15 (5282)، 16 (5283)، سنن ابی داود/الطلاق 19 (2231)، سنن الترمذی/الرضاع 7 (1154)، سنن النسائی/آداب القضاء 27 (5419)، (تحفة الأشراف: 6048)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/215)، سنن الدارمی/الطلاق 15 (2338) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
حدیث نمبر: 2076
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: مَضَى فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ سُنَنٍ خُيِّرَتْ حِينَ أُعْتِقَتْ، وَكَانَ زَوْجُهَا مَمْلُوكًا وَكَانُوا يَتَصَدَّقُونَ عَلَيْهَا، فَتُهْدِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُ:" هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ، وَقَالَ: الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ میں تین سنتیں سامنے آئیں ایک تو یہ کہ جب وہ آزاد ہوئیں تو انہیں اختیار دیا گیا، اور ان کے شوہر غلام تھے، دوسرے یہ کہ لوگ بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقہ دیا کرتے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ کر دیتیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”وہ اس کے لیے صدقہ ہے، اور ہمارے لیے ہدیہ ہے“، تیسرے یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کے سلسلہ میں فرمایا: ”حق ولاء (غلام یا لونڈی کی میراث) اس کا ہے جو آزاد کرے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2076]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے تین سنتیں قائم ہوئیں (اور تین شرعی مسائل معلوم ہوئے:) (ایک یہ کہ) جب وہ آزاد ہوئیں تو انہیں اختیار دیا گیا۔ اور ان کا خاوند غلام تھا۔ (دوسری یہ کہ) لوگ انہیں صدقہ دیتے تھے، وہ (اس سے کچھ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ دے دیتی تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”یہ اس پر صدقہ ہے، اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔“ (تیسری یہ کہ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولاء اسی کا ہے جو آزاد کرے۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2076]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17432)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العتق 10 (2536)، الأطعمة 31 (5430)، الفرائض 20 (6760)، 22 (6754)، 23 (6759)، سنن ابی داود/الفرائض 12 (2916)، سنن الترمذی/البیوع 33 (2126)، الولاء 1 (2125)، سنن النسائی/الطلاق 30 (3479)، موطا امام مالک/الطلاق10 (25)، مسند احمد (6/42، 170، 180، 186، 209)، سنن الدارمی/الطلاق 15 (2336) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جب بریرہ رضی اللہ عنہا کے مالکوں نے ولاء (حق وراثت) لینا چاہا تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو خرید کر آزاد کر دو، ولاء (حق وراثت) اسی کو ملے گا جو آزاد کرے“۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 2077
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" أُمِرَتْ بَرِيرَةُ، أَنْ تَعْتَدَّ بِثَلَاثِ حِيَضٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا گیا کہ وہ تین حیض عدت گزاریں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2077]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کو ”تین حیض عدت گزارنے کا حکم دیا گیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2077]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16002، ومصباح الزجاجة: 731) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
حدیث نمبر: 2078
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُذَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيَّرَ بَرِيرَةَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو اختیار دیا (کہ وہ اپنے شوہر مغیث کی زوجیت میں رہیں یا نہ رہیں)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2078]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کو اختیار دیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2078]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13590، ومصباح الزجاجة: 732) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن