🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. بَابُ: يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي كَانَ يَحْلِفُ بِهَا
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم اور حلف کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2090
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ رِفَاعَةَ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَلَفَ قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ".
رفاعہ جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قسم کھاتے تو یہ فرماتے: «والذي نفس محمد بيده» قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2090]
حضرت رفاعہ بن عرابہ جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب قسم کھاتے تو یوں فرماتے: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2090]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3612، ومصباح الزجاجة: 735) (صحیح) (اس سند میں محمد بن مصعب ضعیف راوی ہیں، لیکن یہ شواہد کی بناء پر صحیح ہے)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ قسم کھانی جائز ہے، بشرطیکہ سچ بات پر کھائے، لیکن یہ ضروری ہے کہ سوائے اللہ کے نام یا اس کی صفت کے دوسرے کسی کی قسم نہ کھائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2091
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ عَرَابَةَ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ:" كَانَتْ يَمِينُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي يَحْلِفُ بِهَا أَشْهَدُ عِنْدَ اللَّهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ".
رفاعہ بن عرابہ جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم جو آپ کھایا کرتے تھے، یوں ہوتی تھی: «والذي نفسي بيده» قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2091]
حضرت رفاعہ بن عرابہ جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں اللہ کے سامنے گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو قسم کھاتے تھے وہ یوں ہوتی تھی: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ» قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2091]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3612، ومصباح الزجاجة: 736) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں عبد الملک صنعانی ضعیف راوی ہے، لیکن حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2092
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الشَّافِعِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" كَانَتْ أَكْثَرُ أَيْمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا وَمُصَرِّفِ الْقُلُوبِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم اکثر یوں ہوتی تھی: «لا ومصرف القلوب» قسم ہے اس ذات کی جو دلوں کو پھیرنے والا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2092]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر ان الفاظ کے ساتھ قسم کھاتے تھے: «لَا وَمُقَلِّبِ الْقُلُوبِ» دلوں کو پھیرنے والے کی قسم! (بات اس طرح) نہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2092]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الأیمان والنذور 1 (3793)، (تحفة الأشراف: 6865)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/القدر14 (6617)، الأیمان 3 (6628)، التوحید 11 (7391)، سنن ابی داود/الأیمان والنذور 12 (3263)، سنن الترمذی/الأیمان 12 (1540)، مسند احمد (2/26، 67، 127)، سنن الدارمی/الأیمان والنذور 12 (2395) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (3793)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 454

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2093
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ . ح وحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى جَمِيعًا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" كَانَتْ يَمِينُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم یوں ہوتی تھی: «لا وأستغفر الله» ایسا نہیں ہے، اور میں اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہوں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2093]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم ہوتی تھی: «لَا، وَأَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ» نہیں! اور میں اللہ سے مغفرت اور بخشش کا طالب ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2093]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الأیمان والنذور 12 (3265)، (تحفة الأشراف: 14802)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/288) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں محمد بن ہلال اور ان کے والد دونوں مجہول ہیں، نیز ملاحظہ ہو: المشکاة: 3423)
وضاحت: ۱؎: لغو وہ قسم ہے جو آدمی کی زبان پر بے قصد و ارادہ جاری ہو جائے، اس سے کوئی کفارہ لازم نہیں آتا، یہ قسمیں آپ کی اسی قبیل سے ہوتیں مگر اس سے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے استغفار کیا تاکہ امت کے لوگ اس سے بھی پرہیز کریں، صحیح بخاری میں ہے کہ اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یوں قسم کھاتے تھے: «لا ومقلب القلوب» اور صحیحین میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «وأيم الله إن كان لخليقاً للإمارة» یعنی، اللہ کی قسم! زید بن حارثہ امیر ہونے کے لائق تھا، اور جبریل علیہ السلام نے اللہ سے کہا: رب تیری عزت کی قسم، جو کوئی اس کو سن پائے گا، وہ جنت میں جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3265)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 454

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں