سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب : يمين رسول الله صلى الله عليه وسلم التي كان يحلف بها
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم اور حلف کا بیان۔
حدیث نمبر: 2093
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ . ح وحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى جَمِيعًا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" كَانَتْ يَمِينُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم یوں ہوتی تھی: «لا وأستغفر الله» ”ایسا نہیں ہے، اور میں اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہوں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2093]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأیمان والنذور 12 (3265)، (تحفة الأشراف: 14802)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/288) (ضعیف)» (سند میں محمد بن ہلال اور ان کے والد دونوں مجہول ہیں، نیز ملاحظہ ہو: المشکاة: 3423)
وضاحت: ۱؎: لغو وہ قسم ہے جو آدمی کی زبان پر بے قصد و ارادہ جاری ہو جائے، اس سے کوئی کفارہ لازم نہیں آتا، یہ قسمیں آپ کی اسی قبیل سے ہوتیں مگر اس سے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے استغفار کیا تاکہ امت کے لوگ اس سے بھی پرہیز کریں، صحیح بخاری میں ہے کہ اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یوں قسم کھاتے تھے: «لا ومقلب القلوب» اور صحیحین میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «وأيم الله إن كان لخليقاً للإمارة» یعنی، اللہ کی قسم! زید بن حارثہ امیر ہونے کے لائق تھا، اور جبریل علیہ السلام نے اللہ سے کہا: رب تیری عزت کی قسم، جو کوئی اس کو سن پائے گا، وہ جنت میں جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3265)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 454
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3265)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 454
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3265
| لا وأستغفر الله |
سنن ابن ماجه |
2093
| كانت يمين رسول الله لا وأستغفر الله |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2093 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2093
اردو حاشہ:
فائدہ:
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے اور یہ جملہ قسم نہیں بلکہ قسم سے مشابہ ہے اس کی اصل یہ ہو سکتی ہے:
«لَاوَالله، وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ» (بذل المجھود)
فائدہ:
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے اور یہ جملہ قسم نہیں بلکہ قسم سے مشابہ ہے اس کی اصل یہ ہو سکتی ہے:
«لَاوَالله، وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ» (بذل المجھود)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2093]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3265
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کیسی ہوتی تھی؟
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قسم کھاتے تو فرماتے: «لا، وأستغفر الله» ”نہیں، قسم ہے میں اللہ سے بخشش اور مغفرت کا طلب گار ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3265]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قسم کھاتے تو فرماتے: «لا، وأستغفر الله» ”نہیں، قسم ہے میں اللہ سے بخشش اور مغفرت کا طلب گار ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3265]
فوائد ومسائل:
روایت ضیعف ہے۔
اور یہ جملہ قسم نہیں بلکہ قسم سے مشابہ ہے۔
اس کی اصل یہ ہوسکتی ہے۔
(لا واللہ استغفراللہ)(بزل المجہود)
روایت ضیعف ہے۔
اور یہ جملہ قسم نہیں بلکہ قسم سے مشابہ ہے۔
اس کی اصل یہ ہوسکتی ہے۔
(لا واللہ استغفراللہ)(بزل المجہود)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3265]
هلال بن أبي هلال المذحجي ← أبو هريرة الدوسي