🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

11. بَابُ: الرَّجُلاَنِ يَدَّعِيَانِ السِّلْعَةَ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ
باب: ایک چیز کے دو دعوے دار ہوں اور کسی کے پاس گواہ نہ ہوں تو اس کی حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2329
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ خِلَاسٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّ رَجُلَيْنِ ادَّعَيَا دَابَّةً وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ فَأَمَرَهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْ يَسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ذکر کیا کہ ایک جانور پر دو آدمیوں نے دعویٰ کیا، اور ان دونوں میں سے کسی کے پاس گواہ نہیں تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو قسم پر قرعہ اندازی کا حکم دیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2329]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے ایک جانور کے بارے میں دعویٰ کیا اور ان کے درمیان (فیصلہ کرنے والی) کوئی گواہی موجود نہ تھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ قسم کھانے کے لیے قرعہ اندازی کر لیں۔ (پھر جس کا قرعہ نکلے وہ قسم کھا لے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2329]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الأقضیة 22 (3616، 3617)، (تحفة الأشراف: 14662)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الشہادات 24 (2674)، مسند احمد (2/489، 524) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس کی صورت یہ ہے کہ جانور ایک تیسرے شخص کے پاس ہو اور دو شخص اس کا دعوی کریں، اور تیسرا شخص کہے کہ میں اصل مالک کو نہیں پہچانتا، علی رضی اللہ عنہ کا یہی قول ہے، اور شافعی کے نزدیک وہ جانور تیسرے کے پاس رہے گا، اور ابوحنیفہ کے نزدیک دونوں دعوے داروں کو آدھا آدھا بانٹ دیں گے، اسی طرح اگر دو شخص ایک چیز کا دعوی کریں، اور دونوں گواہ پیش کریں اور کوئی ترجیح کی وجہ نہ ہو تو اس چیز کو آدھا آدھا بانٹ دیں گے، (ابوداود، حاکم، بیہقی)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3616) والحديث الآتي (2346)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 462

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2330
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اخْتَصَمَ إِلَيْهِ رَجُلَانِ بَيْنَهُمَا دَابَّةٌ وَلَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ فَجَعَلَهَا بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی جھگڑا لے کر آئے، اور ان دونوں کے درمیان ایک جانور تھا (جس پر دونوں اپنا اپنا دعویٰ کر رہے تھے) اور ان دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہ تھا، تو آپ نے اسے دونوں کو آدھا آدھا بانٹ دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2330]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مقدمہ پیش کیا، ان کے درمیان (جھگڑے کی وجہ) ایک جانور تھا۔ ان میں سے کسی کے پاس گواہ نہ تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو وہ جانور آدھا آدھا تقسیم کر دیا (کہ وہ جانور فروخت کر کے قیمت آپس میں تقسیم کر لیں۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2330]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الأقضیة 22 (3613، 3614، 3615)، سنن النسائی/آداب القضاة 34 (5426)، (تحفة الأشراف: 9088)، مسند احمد (4/403) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (قتادہ سے مروی ان احادیث میں روایت ابوموسیٰ اشعری سے ہے، اور بعض رواة نے اسے سعید بن ابی بردہ عن أبیہ مرسلاً روایت کیا ہے، اور بعض حفاظ نے اسے سماک بن حرب سے مرسلاً صحیح مانا ہے، ملاحظہ ہو: تحفة الأشراف: 9088 و الإرواء: 2656)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں