🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. باب : الرجلان يدعيان السلعة وليس بينهما بينة
باب: ایک چیز کے دو دعوے دار ہوں اور کسی کے پاس گواہ نہ ہوں تو اس کی حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2330
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اخْتَصَمَ إِلَيْهِ رَجُلَانِ بَيْنَهُمَا دَابَّةٌ وَلَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ فَجَعَلَهَا بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی جھگڑا لے کر آئے، اور ان دونوں کے درمیان ایک جانور تھا (جس پر دونوں اپنا اپنا دعویٰ کر رہے تھے) اور ان دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہ تھا، تو آپ نے اسے دونوں کو آدھا آدھا بانٹ دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2330]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مقدمہ پیش کیا، ان کے درمیان (جھگڑے کی وجہ) ایک جانور تھا۔ ان میں سے کسی کے پاس گواہ نہ تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو وہ جانور آدھا آدھا تقسیم کر دیا (کہ وہ جانور فروخت کر کے قیمت آپس میں تقسیم کر لیں۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2330]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الأقضیة 22 (3613، 3614، 3615)، سنن النسائی/آداب القضاة 34 (5426)، (تحفة الأشراف: 9088)، مسند احمد (4/403) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (قتادہ سے مروی ان احادیث میں روایت ابوموسیٰ اشعری سے ہے، اور بعض رواة نے اسے سعید بن ابی بردہ عن أبیہ مرسلاً روایت کیا ہے، اور بعض حفاظ نے اسے سماک بن حرب سے مرسلاً صحیح مانا ہے، ملاحظہ ہو: تحفة الأشراف: 9088 و الإرواء: 2656)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن قيس الأشعري، أبو موسىصحابي
👤←👥أبو بردة بن أبي موسى الأشعري، أبو بردة
Newأبو بردة بن أبي موسى الأشعري ← عبد الله بن قيس الأشعري
ثقة
👤←👥سعيد بن أبي بردة الأشعري
Newسعيد بن أبي بردة الأشعري ← أبو بردة بن أبي موسى الأشعري
ثقة ثبت
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← سعيد بن أبي بردة الأشعري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥سعيد بن أبي عروبة العدوي، أبو النضر
Newسعيد بن أبي عروبة العدوي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة حافظ
👤←👥روح بن عبادة القيسي، أبو محمد
Newروح بن عبادة القيسي ← سعيد بن أبي عروبة العدوي
ثقة
👤←👥زهير بن محمد المروزي، أبو محمد، أبو عبد الرحمن
Newزهير بن محمد المروزي ← روح بن عبادة القيسي
ثقة
👤←👥محمد بن معمر القيسي، أبو عبد الله
Newمحمد بن معمر القيسي ← زهير بن محمد المروزي
ثقة
👤←👥إسحاق بن منصور الكوسج، أبو يعقوب
Newإسحاق بن منصور الكوسج ← محمد بن معمر القيسي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
3613
ادعيا بعيرا أو دابة إلى النبي ليست لواحد منهما بينة فجعله النبي بينهما
سنن ابن ماجه
2330
اختصم إليه رجلان بينهما دابة وليس لواحد منهما بينة فجعلها بينهما نصفين
سنن النسائى الصغرى
5426
رجلين اختصما إلى النبي في دابة ليس لواحد منهما بينة فقضى بها بينهما نصفين
بلوغ المرام
1214
ان رجلين اختصما إلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم في دابة ليس لواحد منهما بينة فقضى بها بينهما نصفين
Sunan Ibn Majah Hadith 2330 in Urdu