پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب : الرجلان يدعيان السلعة وليس بينهما بينة
باب: ایک چیز کے دو دعوے دار ہوں اور کسی کے پاس گواہ نہ ہوں تو اس کی حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2330
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اخْتَصَمَ إِلَيْهِ رَجُلَانِ بَيْنَهُمَا دَابَّةٌ وَلَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ فَجَعَلَهَا بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی جھگڑا لے کر آئے، اور ان دونوں کے درمیان ایک جانور تھا (جس پر دونوں اپنا اپنا دعویٰ کر رہے تھے) اور ان دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہ تھا، تو آپ نے اسے دونوں کو آدھا آدھا بانٹ دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2330]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”دو آدمیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مقدمہ پیش کیا، ان کے درمیان (جھگڑے کی وجہ) ایک جانور تھا۔ ان میں سے کسی کے پاس گواہ نہ تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو وہ جانور آدھا آدھا تقسیم کر دیا (کہ وہ جانور فروخت کر کے قیمت آپس میں تقسیم کر لیں۔)“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2330]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأقضیة 22 (3613، 3614، 3615)، سنن النسائی/آداب القضاة 34 (5426)، (تحفة الأشراف: 9088)، مسند احمد (4/403) (ضعیف)» (قتادہ سے مروی ان احادیث میں روایت ابوموسیٰ اشعری سے ہے، اور بعض رواة نے اسے سعید بن ابی بردہ عن أبیہ مرسلاً روایت کیا ہے، اور بعض حفاظ نے اسے سماک بن حرب سے مرسلاً صحیح مانا ہے، ملاحظہ ہو: تحفة الأشراف: 9088 و الإرواء: 2656)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3613
| ادعيا بعيرا أو دابة إلى النبي ليست لواحد منهما بينة فجعله النبي بينهما |
سنن ابن ماجه |
2330
| اختصم إليه رجلان بينهما دابة وليس لواحد منهما بينة فجعلها بينهما نصفين |
سنن النسائى الصغرى |
5426
| رجلين اختصما إلى النبي في دابة ليس لواحد منهما بينة فقضى بها بينهما نصفين |
بلوغ المرام |
1214
| ان رجلين اختصما إلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم في دابة ليس لواحد منهما بينة فقضى بها بينهما نصفين |
Sunan Ibn Majah Hadith 2330 in Urdu
أبو بردة بن أبي موسى الأشعري ← عبد الله بن قيس الأشعري