🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. بَابُ: أَجْرِ الأُجَرَاءِ
باب: مزدور کی اجرت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2442
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَلِيمٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثَلَاثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ كُنْتُ خَصْمَهُ خَصَمْتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: رَجُلٌ أَعْطَى بِي ثُمَّ غَدَرَ، وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَأَكَلَ ثَمَنَهُ، وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَاسْتَوْفَى مِنْهُ وَلَمْ يُوفِهِ أَجْرَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین شخص ایسے ہیں کہ قیامت کے دن ان کا مدمقابل میں ہوں گا، اور جس کا میں قیامت کے دن مدمقابل ہوں گا اس پر غالب آؤں گا، ایک وہ جو مجھ سے عہد کرے پھر بدعہدی کرے، دوسرے وہ جو کسی آزاد کو پکڑ کر بیچ دے پھر اس کی قیمت کھائے، اور تیسرے وہ جو کسی کو مزدور رکھے اور اس سے پورا کام لے اور اس کی اجرت نہ دے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2442]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین شخص ایسے ہیں جن کے خلاف قیامت کے دن میں خود مدعی ہوں گا، اور جس کے خلاف میں مدعی ہوں گا میں اس سے مقدمہ جیت جاؤں گا (لہٰذا یہ تین افراد ضرور سزا پائیں گے۔) (ایک) وہ شخص جو اللہ کا نام لے کر عہد کرے، پھر عہد شکنی کرے، (دوسرا) وہ جو کسی آزاد انسان کو (غلام بنا کر) بیچ ڈالے اور اس کی قیمت کھا لے، اور (تیسرا) وہ شخص جو کسی کو مزدور رکھے، پھر اس سے پورا کام لے کر اس کو اجرت پوری نہ دے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2442]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/البیوع 106 (2227)، الإجارة 10 (2270)، (تحفة الأشراف: 12952)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/358) (صحیح) (ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: رقم: 287)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف خ لكن فيه يحيى بن سليم قال الحافظ ابن حجر صدوق سيء الحفظ
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2443
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَطِيَّةَ السَّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْطُوا الْأَجِيرَ أَجْرَهُ قَبْلَ أَنْ يَجِفَّ عَرَقُهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مزدور کو اس کا پسینہ سوکھنے سے پہلے اس کی مزدوری دے دو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2443]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مزدور کو اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے مزدوری دے دو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2443]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6736، ومصباح الزجاجة: 860) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں عبد الرحمن بن زید ضعیف راوی ہیں، اور وہب بن سعید یہ عبد الوہاب بن سعید صدوق ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ کام ختم ہوتے ہی اس کی اجرت دے دو، یہ نہیں کہ اجرت دینے میں حیلہ کرو اور کام لے لو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں