🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. بَابُ: إِجَارَةِ الأَجِيرِ عَلَى طَعَامِ بَطْنِهِ
باب: صرف خوراکی پر مزدور رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2444
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ مَسْلَمَةَ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُتْبَةَ بْنَ النُّدَّرِ ، يَقُولُ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ طسم حَتَّى إِذَا بَلَغَ قِصَّةَ مُوسَى قَالَ:" إِنَّ مُوسَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آجَرَ نَفْسَهُ ثَمَانِيَ سِنِينَ أَوْ عَشْرًا عَلَى عِفَّةِ فَرْجِهِ وَطَعَامِ بَطْنِهِ".
عتبہ بن ندر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے تو آپ نے سورۃ «طسم» پڑھی، جب موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ پر پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موسیٰ علیہ السلام نے اپنے آپ کو عفت و پاک دامنی اور خوراک کے عوض آٹھ یا دس سال تک مزدور بنایا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2444]
حضرت عتبہ بن ندر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ ﴿طسم﴾ [سورة القصص: 1] تلاوت فرمائی، حتیٰ کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعے [سورة القصص: 27-28] تک پہنچے تو فرمایا: موسیٰ علیہ السلام نے آٹھ دس سال پاک دامنی اور پیٹ بھر روٹی کے عوض مزدوری کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2444]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9759، ومصباح الزجاجة: 861) (ضعیف جدا)» ‏‏‏‏ (بقیہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، اور مسلمہ بن علی منکرالحدیث ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 1488)
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث ضعیف ہے، اور یہ معلوم ہے کہ جب موسی علیہ السلام مصر سے بھاگ کر مدین میں پہنچے تو وہاں شعیب علیہ السلام کے نوکر ہوئے، اقرار یہ تھا کہ آٹھ یا دس برس تک عفت کے ساتھ ان کی خدمت کریں اور کھانا پیٹ بھر کھائیں، مدت کے بعد ایک بیٹی کا نکاح ان سے کر دیا جائے یہ قصہ قرآن شریف میں تفصیل سے مذکور ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
مسلمة بن علي:متروك
والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 467

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2445
حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ:" نَشَأْتُ يَتِيمًا وَهَاجَرْتُ مِسْكِينًا وَكُنْتُ أَجِيرًا لِابْنَةِ غَزْوَانَ بِطَعَامِ بَطْنِي وَعُقْبَةِ رِجْلِي، أَحْطِبُ لَهُمْ إِذَا نَزَلُوا وَأَحْدُو لَهُمْ إِذَا رَكِبُوا، فَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ الدِّينَ قِوَامًا وَجَعَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ إِمَامًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری پرورش یتیمی کی حالت میں ہوئی، اور ہجرت کرنے کے وقت میں مسکین تھا، اور غزوان کی بیٹی کا صرف خوراک کی اور باری باری اونٹ پر چڑھنے کے عوض مزدور تھا، جب وہ لوگ ٹھہرتے تو میں ان کے لیے لکڑیاں چنتا، اور جب وہ سوار ہوتے تو میں ان کے اونٹوں کی حدی خوانی کرتا، تو شکر ہے اللہ کا جس نے دین کو مضبوط کیا، اور ابوہریرہ کو امام بنایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2445]
حضرت حیان (بن بسطام ہذلی رحمہ اللہ) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے فرمایا: میں نے یتیمی کی حالت میں پرورش پائی اور مفلسی کی حالت میں ہجرت کی۔ میں پیٹ بھر کھانے اور (سفر کے دوران میں) اپنی باری پر سواری کی شرط پر بنت غزوان کا نوکر تھا۔ (سفر کے دوران میں) جب وہ لوگ (کسی منزل پر) ٹھہرتے تو میں ان کے لیے ایندھن جمع کر کے لایا کرتا تھا اور جب وہ سوار ہو کر چلتے تو میں حُدی خوانی کرتا (تاکہ اونٹ تیز چلیں۔) اللہ کا شکر ہے جس نے دین کو سہارا (اور ترقی کا باعث) بنایا، اور ابوہریرہ کو (دینی اور دنیاوی طور پر) امام (عالم اور گورنر) بنا دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2445]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12295، ومصباح الزجاجة: 862) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (حیان بن بسطام ضعیف راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں