سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ : أَجْرِ الأُجَرَاءِ
باب: مزدور کی اجرت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2443
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَطِيَّةَ السَّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْطُوا الْأَجِيرَ أَجْرَهُ قَبْلَ أَنْ يَجِفَّ عَرَقُهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مزدور کو اس کا پسینہ سوکھنے سے پہلے اس کی مزدوری دے دو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2443]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مزدور کو اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے مزدوری دے دو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2443]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6736، ومصباح الزجاجة: 860) (صحیح)» (سند میں عبد الرحمن بن زید ضعیف راوی ہیں، اور وہب بن سعید یہ عبد الوہاب بن سعید صدوق ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ کام ختم ہوتے ہی اس کی اجرت دے دو، یہ نہیں کہ اجرت دینے میں حیلہ کرو اور کام لے لو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2443
| أعطوا الأجير أجره قبل أن يجف عرقه |
بلوغ المرام |
774
| أعطوا الأجير أجره قبل أن يجف عرقه |
المعجم الصغير للطبراني |
515
| أعطوا الأجير أجره قبل أن يجف عرقه |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2443 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2443
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مزدور کو مزدوری کام ختم ہونے کےفوراً بعد ادا کر دینی چاہیے۔
(2)
کسی جائز وجہ کے بغیر ٹال مٹول کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
مزدور کو مزدوری کام ختم ہونے کےفوراً بعد ادا کر دینی چاہیے۔
(2)
کسی جائز وجہ کے بغیر ٹال مٹول کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2443]
Sunan Ibn Majah Hadith 2443 in Urdu
زيد بن أسلم القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي