🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

76. بَابُ: الْخُطْبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ
باب: یوم النحر کے خطبہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3055
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَلَا أَيُّ يَوْمٍ أَحْرَمُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ؟"، قَالُوا: يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ، قَالَ:" فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ بَيْنَكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، أَلَا لَا يَجْنِي جَانٍ إِلَّا عَلَى نَفْسِهِ، وَلَا يَجْنِي وَالِدٌ عَلَى وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ عَلَى وَالِدِهِ، أَلَا إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يُعْبَدَ فِي بَلَدِكُمْ هَذَا أَبَدًا، وَلَكِنْ سَيَكُونُ لَهُ طَاعَةٌ فِي بَعْضِ مَا تَحْتَقِرُونَ مِنْ أَعْمَالِكُمْ فَيَرْضَى بِهَا، أَلَا وَكُلُّ دَمٍ مِنْ دِمَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ وَأَوَّلُ مَا أَضَعُ مِنْهَا دَمُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، كَانَ مُسْتَرْضِعًا فِي بَنِي لَيْثٍ فَقَتَلَتْهُ هُذَيْلٌ، أَلَا وَإِنَّ كُلَّ رِبًا مِنْ رِبَا الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ، لَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ، وَلَا تُظْلَمُونَ، أَلَا يَا أُمَّتَاهُ هَلْ بَلَّغْتُ؟"، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" اللَّهُمَّ اشْهَدْ" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ.
عمرو بن احوص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں فرماتے سنا: لوگو! سنو، کون سا دن زیادہ تقدیس کا ہے؟ آپ نے تین بار یہ فرمایا، لوگوں نے کہا: حج اکبر ۱؎ کا دن، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری عزت و آبرو ایک دوسرے پر ایسے ہی حرام ہیں جیسے تمہارے اس دن کی، اور تمہارے اس مہینے کی، اور تمہارے اس شہر کی حرمت ہے، جو کوئی جرم کرے گا، تو اس کا مواخذہ اسی سے ہو گا، باپ کے جرم کا مواخذہ بیٹے سے، اور بیٹے کے جرم کا مواخذہ باپ سے نہ ہو گا، سن لو! شیطان اس بات سے ناامید ہو گیا ہے کہ اب تمہارے اس شہر میں کبھی اس کی عبادت کی جائے گی، لیکن عنقریب بعض کاموں میں جن کو تم معمولی جانتے ہو، اس کی اطاعت ہو گی، وہ اسی سے خوش رہے گا، سن لو! جاہلیت کے سارے خون معاف کر دئیے گئے (اب اس کا مطالبہ و مواخذہ نہ ہو گا) اور میں حارث بن عبدالمطلب کا خون سب سے پہلے زمانہ جاہلیت کے خون میں معاف کرتا ہوں، (جو قبیلہ بنی لیث میں دودھ پیا کرتے تھے اور قبیلہ ہذیل نے انہیں شیر خوارگی کی حالت میں قتل کر دیا تھا) سن لو! جاہلیت کے تمام سود معاف کر دئیے گئے، تم صرف اپنا اصل مال لے لو، نہ تم ظلم کرو، نہ تم پر ظلم ہو، آگاہ رہو، اے میری امت کے لوگو! کیا میں نے اللہ کا حکم تمہیں پہنچا دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تین بار فرمایا، لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ نے پہنچا دیا، آپ نے فرمایا: اے اللہ! تو گواہ رہ، اور اسے آپ نے تین بار دہرایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3055]
حضرت عمرو بن احوص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے حجۃ الوداع میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: اے لوگو! کون سا دن زیادہ حرمت (اور احترام) والا ہے؟ تین بار فرمایا، حاضرین نے کہا: حجِ اکبر کا دن۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے خون، تمہارے مال، تمہاری عزتیں ایک دوسرے کے لیے اسی طرح قابلِ احترام ہیں جس طرح تمہارے اس شہر (مکہ مکرمہ) میں، تمہارے اس مہینے (ذوالحجہ) کا یہ دن قابلِ احترام ہے۔ سنو! مجرم کے جرم کی ذمہ داری صرف اسی پر ہے۔ باپ کے جرم کی ذمہ داری اس کے بیٹے پر نہیں اور بیٹے کے جرم کی ذمہ داری اس کے باپ پر نہیں۔ سنو! شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ تمہارے اس شہر میں کبھی اس کی پوجا کی جائے، لیکن بعض ایسے کاموں میں اس کی اطاعت ہوتی رہے گی جنہیں تم معمولی سمجھتے ہو، اور وہ اس پر راضی ہو جائے گا۔ سنو! جاہلیت میں کیا جانے والا ہر خون کالعدم ہے۔ سب سے پہلے میں حارث بن عبدالمطلب کا خون معاف کرتا ہوں۔ یہ (شیر خوار بچہ) قبیلہ بنو لیث میں پرورش پا رہا تھا، بنو ہذیل نے اسے قتل کر دیا۔ سنو! جاہلیت کا ہر سود کالعدم ہے، صرف اصل زر تمہارا حق ہے، نہ تم ظلم کرو، نہ تم پر ظلم کیا جائے۔ سنو! میری امت! کیا میں نے (اللہ کے احکام) پہنچا دیے؟ تین بار فرمایا، سب نے کہا: جی ہاں۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! گواہ رہ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3055]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع 5 (3334)، سنن الترمذی/الفتن 2 (2159)، تفسیر القرآن 10 (1) (3087)، (تحفة الأشراف: 10691)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/426، 489) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ہر حج کو حج اکبر کہتے ہیں، اور عمرہ کو حج اصغر، رہی بات عوام الناس کی جو ان کے درمیان مشہور ہے کہ حج اکبر اس حج کو کہتے ہیں، جس میں عرفہ کا دن جمعہ کے دن آئے اس کی شریعت میں کوئی اصل نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3056
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْخَيْفِ مِنْ مِنًى، فَقَالَ:" نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مَقَالَتِي فَبَلَّغَهَا، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ غَيْرُ فَقِيهٍ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ، ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُؤْمِنٍ: إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ، وَالنَّصِيحَةُ لِوُلَاةِ الْمُسْلِمِينَ، وَلُزُومُ جَمَاعَتِهِمْ، فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ".
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں مسجد خیف میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: اللہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جو میری بات سنے، اور اسے لوگوں کو پہنچائے، کیونکہ بہت سے فقہ کی بات سننے والے خود فقیہ نہیں ہوتے، اور بعض ایسے ہیں جو فقہ کی بات سن کر ایسے لوگوں تک پہنچاتے ہیں جو ان سے زیادہ فقیہ ہوتے ہیں، تین باتیں ایسی ہیں جن میں کسی مومن کا دل خیانت نہیں کرتا، ایک اللہ کے لیے عمل خالص کرنے میں، دوسرے مسلمان حکمرانوں کی خیر خواہی کرنے میں، اور تیسرے مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ ملے رہنے میں، اس لیے کہ ان کی دعا انہیں چاروں طرف سے گھیرے رہتی ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3056]
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں مقام خیف پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھے جو میری بات سنے اور اسے (دوسروں تک) پہنچا دے۔ بعض لوگوں کے پاس فقہ کی بات ہوتی ہے اور وہ خود فقیہ نہیں ہوتے۔ بعض لوگ فقہ کی بات اپنے سے زیادہ فقیہ تک پہنچا دیتے ہیں۔ تین کاموں میں مؤمن کا دل خیانت نہیں کرتا: عمل کو اللہ کے لیے خلوص کے ساتھ ادا کرنا، مسلمان حکمرانوں کی خیر خواہی کرنا اور ان کی اجتماعیت میں شامل رہنا کیونکہ ان کی دعا دوسروں کو بھی شامل ہوتی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3056]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3198، ومصباح الزجاجة: 1060)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/80) (یہ حدیث مکرر ہے دیکھئے: 231) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، اور عبدالسلام ضعیف ہیں، لیکن متن صحیح ہے، بلکہ حدیث متواتر ہے، ملاحظہ ہو: دراستہ حدیث نضر اللہ 000 للشیخ عبد المحسن العباد)
وضاحت: ۱؎: شیطان کا مکر جماعت پر نہیں چلتا، اور جو جماعت سے الگ رہتا ہے شیطان اسے اچک لیتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3057
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَافِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْمُخَضْرَمَةِ بِعَرَفَاتٍ فَقَالَ:" أَتَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا، وَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا، وَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟"، قَالُوا: هَذَا بَلَدٌ حَرَامٌ، وَشَهْرٌ حَرَامٌ، وَيَوْمٌ حَرَامٌ، قَالَ:" أَلَا وَإِنَّ أَمْوَالَكُمْ وَدِمَاءَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ، كَحُرْمَةِ شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، فِي يَوْمِكُمْ هَذَا، أَلَا وَإِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، وَأُكَاثِرُ بِكُمُ الْأُمَمَ فَلَا تُسَوِّدُوا وَجْهِي، أَلَا وَإِنِّي مُسْتَنْقِذٌ أُنَاسًا، وَمُسْتَنْقَذٌ مِنِّي أُنَاسٌ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ أُصَيْحَابِي، فَيَقُولُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اور اس وقت آپ عرفات میں اپنی کنکٹی اونٹنی پر سوار تھے: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سا دن ہے، اور کون سا مہینہ ہے، اور کون سا شہر ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ حرمت والا شہر، حرمت والا مہینہ، اور حرمت والا دن ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! تمہارے مال اور تمہارے خون بھی ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں جیسے تمہارا یہ مہینہ تمہارے اس شہر میں اور تمہارے اس دن میں، سنو! میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا، اور تمہاری کثرت کے سبب دوسری امتوں پر فخر کروں گا، تو تم مجھے رو سیاہ مت کرنا، سنو! کچھ لوگوں کو میں (عذاب کے فرشتوں یا جہنم سے) نجات دلاؤں گا، اور کچھ لوگ مجھ سے چھڑائے جائیں گے (فرشتے مجھ سے چھین کر انہیں جہنم میں لے جائیں گے)، میں کہوں گا: یا رب! یہ میرے صحابہ ہیں وہ فرمائے گا: آپ نہیں جانتے جو انہوں نے آپ کے بعد بدعتیں ایجاد کی ہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3057]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں اپنی کان کٹی اونٹنی پر سوار تھے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ کون سا دن، کون سا مہینہ اور کون سا شہر ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یہ حرمت والا شہر، حرمت والا مہینہ اور حرمت والا دن ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! حقیقت یہ ہے کہ تمہارے مال اور تمہارے خون تمہارے لیے (ایک دوسرے کے لیے) اسی طرح قابل احترام ہیں جس طرح تمہارے اس شہر (مکہ مکرمہ) میں، تمہارے اس (حج کے) دن میں تمہارا مہینہ قابل احترام ہے۔ سنو! میں حوض (کوثر) پر تمہارا پیش رو ہوں گا اور تمہاری کثرتِ تعداد کی وجہ سے دوسری قوموں پر فخر کروں گا تو مجھے (قیامت کے دن) رسوا نہ کر دینا۔ سنو! میں کچھ افراد کو (جہنم سے) چھڑاؤں گا اور کچھ لوگ مجھ سے چھین لیے جائیں گے (اور جہنم میں بھیج دیے جائیں گے۔) میں کہوں گا: اے میرے رب! میرے ساتھی؟ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: آپ کو نہیں معلوم، انہوں نے آپ کے بعد کیا نئے کام کیے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3057]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9557، ومصباح الزجاجة: 1061) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: آپ کی وفات کے بعد اسلام سے پھر گئے، مسلمانوں کو مارا، اور اصحاب سے مراد یہ ہے کہ میری امت کے لوگ ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3058
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ الْغَازِ ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا ، يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ عُمَرَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ يَوْمَ النَّحْرِ بَيْنَ الْجَمَرَاتِ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي حَجَّ فِيهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟"، قَالُوا: يَوْمُ النَّحْرِ، قَالَ:" فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟"، قَالُوا: هَذَا بَلَدُ اللَّهِ الْحَرَامُ، قَالَ:" فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟"، قَالُوا: شَهْرُ اللَّهِ الْحَرَامُ، قَالَ:" هَذَا يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ وَدِمَاؤُكُمْ وَأَمْوَالُكُمْ وَأَعْرَاضُكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ، كَحُرْمَةِ هَذَا الْبَلَدِ، فِي هَذَا الشَّهْرِ، فِي هَذَا الْيَوْمِ"، ثُمَّ قَالَ:" هَلْ بَلَّغْتُ؟"، قَالُوا: نَعَمْ، فَطَفِقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ اشْهَدْ، ثُمَّ وَدَّعَ النَّاسَ"، فَقَالُوا: هَذِهِ حَجَّةُ الْوَدَاعِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس سال حج کیا دسویں ذی الحجہ کو جمرات کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: آج کون سا دن ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ یوم النحر ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کون سا شہر ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ اللہ کا حرمت والا شہر ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کون سا مہینہ ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ اللہ کا حرمت والا مہینہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ حج اکبر کا دن ہے، اور تمہارے خون، تمہارے مال، تمہاری عزت و آبرو اسی طرح تم پر حرام ہیں جیسے اس شہر کی حرمت اس مہینے اور اس دن میں ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں نے (اللہ کے احکام تم کو) پہنچا دئیے ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں، (آپ نے پہنچا دئیے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمانے لگے: اے اللہ! تو گواہ رہ، اس کے بعد لوگوں کو رخصت کیا، تو لوگوں نے کہا: یہ حجۃ الوداع یعنی الوداعی حج ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3058]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج ادا فرمایا، اس حج کے موقع پر قربانی کے دن جمرات کے درمیان کھڑے ہوئے۔ (اس وقت) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کون سا دن ہے؟ لوگوں نے کہا: قربانی کا دن ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کون سا شہر ہے؟ انہوں نے کہا: یہ اللہ کا حرمت والا شہر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کون سا مہینہ ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ اللہ کا حرمت والا مہینہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ حج اکبر کا دن ہے اور تمہاری جانیں، تمہارے مال، تمہاری عزتیں ایک دوسرے کے لیے اسی طرح قابل احترام ہیں جس طرح اس مہینے کے اس دن میں اس شہر کا احترام ہے۔ پھر فرمایا: کیا میں نے پہنچا دیا؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ اشْهَدْ» اے اللہ! گواہ رہ۔پھر لوگوں کو الوداع کہا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: یہ «حَجَّةُ الْوَدَاعِ» یعنی الوداعی حج ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3058]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 132 (1742 تعلیقاً)، سنن ابی داود/المناسک 67 (1945)، (تحفة الأشراف: 8514) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی آپ کا آخری حج ہے، اس کے بعد آپ ہمیں جدائی کا داغ دے جائیں گے، نیز اس حج کے تھوڑے دنوں کے بعد آپ کی وفات ہوئی اس واسطے اس کو حجۃ الوواع کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں