سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
76. باب : الخطبة يوم النحر
باب: یوم النحر کے خطبہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 3058
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ الْغَازِ ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا ، يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ عُمَرَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ يَوْمَ النَّحْرِ بَيْنَ الْجَمَرَاتِ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي حَجَّ فِيهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟"، قَالُوا: يَوْمُ النَّحْرِ، قَالَ:" فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟"، قَالُوا: هَذَا بَلَدُ اللَّهِ الْحَرَامُ، قَالَ:" فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟"، قَالُوا: شَهْرُ اللَّهِ الْحَرَامُ، قَالَ:" هَذَا يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ وَدِمَاؤُكُمْ وَأَمْوَالُكُمْ وَأَعْرَاضُكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ، كَحُرْمَةِ هَذَا الْبَلَدِ، فِي هَذَا الشَّهْرِ، فِي هَذَا الْيَوْمِ"، ثُمَّ قَالَ:" هَلْ بَلَّغْتُ؟"، قَالُوا: نَعَمْ، فَطَفِقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ اشْهَدْ، ثُمَّ وَدَّعَ النَّاسَ"، فَقَالُوا: هَذِهِ حَجَّةُ الْوَدَاعِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس سال حج کیا دسویں ذی الحجہ کو جمرات کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”آج کون سا دن ہے“؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ یوم النحر ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کون سا شہر ہے“؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ اللہ کا حرمت والا شہر ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کون سا مہینہ ہے“؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ اللہ کا حرمت والا مہینہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حج اکبر کا دن ہے، اور تمہارے خون، تمہارے مال، تمہاری عزت و آبرو اسی طرح تم پر حرام ہیں جیسے اس شہر کی حرمت اس مہینے اور اس دن میں ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں نے (اللہ کے احکام تم کو) پہنچا دئیے ہیں“؟ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں، (آپ نے پہنچا دئیے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمانے لگے: ”اے اللہ! تو گواہ رہ“، اس کے بعد لوگوں کو رخصت کیا، تو لوگوں نے کہا: یہ حجۃ الوداع یعنی الوداعی حج ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3058]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج ادا فرمایا، اس حج کے موقع پر قربانی کے دن جمرات کے درمیان کھڑے ہوئے۔ (اس وقت) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کون سا دن ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”قربانی کا دن ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کون سا شہر ہے؟“ انہوں نے کہا: ”یہ اللہ کا حرمت والا شہر ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کون سا مہینہ ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”یہ اللہ کا حرمت والا مہینہ ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حج اکبر کا دن ہے اور تمہاری جانیں، تمہارے مال، تمہاری عزتیں ایک دوسرے کے لیے اسی طرح قابل احترام ہیں جس طرح اس مہینے کے اس دن میں اس شہر کا احترام ہے۔“ پھر فرمایا: ”کیا میں نے پہنچا دیا؟“ لوگوں نے کہا: ”جی ہاں۔“ تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اللَّهُمَّ اشْهَدْ» ”اے اللہ! گواہ رہ۔“”پھر لوگوں کو الوداع کہا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: ”یہ «حَجَّةُ الْوَدَاعِ» یعنی الوداعی حج ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3058]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 132 (1742 تعلیقاً)، سنن ابی داود/المناسک 67 (1945)، (تحفة الأشراف: 8514) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی آپ کا آخری حج ہے، اس کے بعد آپ ہمیں جدائی کا داغ دے جائیں گے، نیز اس حج کے تھوڑے دنوں کے بعد آپ کی وفات ہوئی اس واسطے اس کو حجۃ الوواع کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6043
| حرم عليكم دماءكم وأموالكم وأعراضكم كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا |
صحيح البخاري |
6785
| دماءكم وأموالكم وأعراضكم إلا بحقها كحرمة يومكم |
صحيح البخاري |
1742
| حرم عليكم دماءكم وأموالكم وأعراضكم كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا |
سنن ابن ماجه |
235
| ليبلغ شاهدكم غائبكم |
سنن ابن ماجه |
3058
| دماؤكم وأموالكم وأعراضكم عليكم حرام كحرمة هذا البلد في هذا الشهر في هذا اليوم هل بلغت قالوا نعم فطفق النبي اللهم اشهد ثم ودع الناس فقالوا هذه حجة الوداع |
Sunan Ibn Majah Hadith 3058 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي