سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
76. باب : الخطبة يوم النحر
باب: یوم النحر کے خطبہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 3056
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْخَيْفِ مِنْ مِنًى، فَقَالَ:" نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مَقَالَتِي فَبَلَّغَهَا، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ غَيْرُ فَقِيهٍ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ، ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُؤْمِنٍ: إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ، وَالنَّصِيحَةُ لِوُلَاةِ الْمُسْلِمِينَ، وَلُزُومُ جَمَاعَتِهِمْ، فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ".
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں مسجد خیف میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اللہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جو میری بات سنے، اور اسے لوگوں کو پہنچائے، کیونکہ بہت سے فقہ کی بات سننے والے خود فقیہ نہیں ہوتے، اور بعض ایسے ہیں جو فقہ کی بات سن کر ایسے لوگوں تک پہنچاتے ہیں جو ان سے زیادہ فقیہ ہوتے ہیں، تین باتیں ایسی ہیں جن میں کسی مومن کا دل خیانت نہیں کرتا، ایک اللہ کے لیے عمل خالص کرنے میں، دوسرے مسلمان حکمرانوں کی خیر خواہی کرنے میں، اور تیسرے مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ ملے رہنے میں، اس لیے کہ ان کی دعا انہیں چاروں طرف سے گھیرے رہتی ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3056]
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں مقام خیف پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھے جو میری بات سنے اور اسے (دوسروں تک) پہنچا دے۔ بعض لوگوں کے پاس فقہ کی بات ہوتی ہے اور وہ خود فقیہ نہیں ہوتے۔ بعض لوگ فقہ کی بات اپنے سے زیادہ فقیہ تک پہنچا دیتے ہیں۔ تین کاموں میں مؤمن کا دل خیانت نہیں کرتا: عمل کو اللہ کے لیے خلوص کے ساتھ ادا کرنا، مسلمان حکمرانوں کی خیر خواہی کرنا اور ان کی اجتماعیت میں شامل رہنا کیونکہ ان کی دعا دوسروں کو بھی شامل ہوتی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3056]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3198، ومصباح الزجاجة: 1060)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/80) (یہ حدیث مکرر ہے دیکھئے: 231) (صحیح)» (سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، اور عبدالسلام ضعیف ہیں، لیکن متن صحیح ہے، بلکہ حدیث متواتر ہے، ملاحظہ ہو: دراستہ حدیث نضر اللہ 000 للشیخ عبد المحسن العباد)
وضاحت: ۱؎: شیطان کا مکر جماعت پر نہیں چلتا، اور جو جماعت سے الگ رہتا ہے شیطان اسے اچک لیتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥جبير بن مطعم القرشي، أبو محمد، أبو سعيد، أبو عدي | صحابي | |
👤←👥محمد بن جبير القرشي، أبو سعيد محمد بن جبير القرشي ← جبير بن مطعم القرشي | ثقة | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← محمد بن جبير القرشي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥عبد السلام بن أبي الجنوب المدني عبد السلام بن أبي الجنوب المدني ← محمد بن شهاب الزهري | متروك الحديث | |
👤←👥ابن إسحاق القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر ابن إسحاق القرشي ← عبد السلام بن أبي الجنوب المدني | صدوق مدلس | |
👤←👥عبد الله بن نمير الهمداني، أبو هشام عبد الله بن نمير الهمداني ← ابن إسحاق القرشي | ثقة صاحب حديث من أهل السنة | |
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن محمد بن نمير الهمداني ← عبد الله بن نمير الهمداني | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
3056
| نضر الله امرأ سمع مقالتي فبلغها رب حامل فقه غير فقيه رب حامل فقه إلى من هو أفقه منه ثلاث لا يغل عليهن قلب مؤمن إخلاص العمل لله النصيحة لولاة المسلمين لزوم جماعتهم فإن دعوتهم تحيط من ورائهم |
سنن ابن ماجه |
231
| نضر الله امرأ سمع مقالتي فبلغها رب حامل فقه غير فقيه رب حامل فقه إلى من هو أفقه منه |
سنن الدارمي |
234
| نضر الله عبدا سمع مقالتي فوعاها ثم أداها إلى من لم يسمعها رب حامل فقه لا فقه له رب حامل فقه إلى من هو أفقه منه ثلاث لا يغل عليهن قلب المؤمن إخلاص العمل لله طاعة ذوي الأمر لزوم الجماعة فإن دعوتهم تكون من ورائهم |
سنن الدارمي |
233
| رحم الله من سمع مقالتي اليوم فوعاها رب حامل فقه ولا فقه له رب حامل فقه إلى من هو أفقه منه اعلموا أن أموالكم ودماءكم حرام عليكم كحرمة هذا اليوم في هذا الشهر في هذا البلد اعلموا أن القلوب لا تغل على ثلاث إخلاص العمل لله مناصحة أولي الأمر |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3056 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3056
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
فقہ کی بنیاد حدیث نبوی پر ہے۔
جس اجتہاد کی بنیاد قرآن وحدیث پر نہیں وہ اجتہاد قابل اعتماد نہیں۔
(2)
علمی مسائل دوسروں تک پہنچانے چاہیں۔
(3)
دین کا علم اس شخص سے بھی حاصل کرلینا چاہیے جو بظاہر علم عمر مرتبے میں کم تر ہو۔
بعض اوقات اس سے ایسا علمی نکتہ مل جاتا ہے کہ جو بڑے علماء سے نہیں ملتا۔
(4)
علم و تفقہ کی کوئی حد نہیں۔
ممکن ہے بعد میں آنے والے کسی شخص کو وہ اجتہادی اور علمی نکتہ سمجھ میں آجائے۔
جس کی طرف پہلے گزرجانے والے بڑے علماء کی توجہ مبذول نہیں ہوئی۔
(5)
مومن کا دل خیانت نہیں کرتا اس کا مطلب یہ ہے کہ مومن ان تین کاموں کو بہتر سے بہتر انداز سے انجام دینے کی کوشش کرتا ہے۔
اور کوتاہی نہیں کرتا۔
(6)
مومن کی مومن سے خیر خواہی کا تقاضہ یہ ہے کہ صرف اپنے لیے دعا نہ کرے بلکہ دوسروں کے لیے بھی دعا کی جائے۔
خواہ دوست یا رشتہ دار ہوں یا اجنبی خواہ ہم وطن ہوں یا دوسرے علاقوں میں رہائش پزیر ہوں۔
(7)
جو شخص دوسروں کے لیے دعا کرتا ہے۔
اسے بھی دوسروں کی دعائیں پہنچتی ہیں۔ (مزید دیکھیے فوائدومسائل:
حدیث: 230)
فوائد و مسائل:
(1)
فقہ کی بنیاد حدیث نبوی پر ہے۔
جس اجتہاد کی بنیاد قرآن وحدیث پر نہیں وہ اجتہاد قابل اعتماد نہیں۔
(2)
علمی مسائل دوسروں تک پہنچانے چاہیں۔
(3)
دین کا علم اس شخص سے بھی حاصل کرلینا چاہیے جو بظاہر علم عمر مرتبے میں کم تر ہو۔
بعض اوقات اس سے ایسا علمی نکتہ مل جاتا ہے کہ جو بڑے علماء سے نہیں ملتا۔
(4)
علم و تفقہ کی کوئی حد نہیں۔
ممکن ہے بعد میں آنے والے کسی شخص کو وہ اجتہادی اور علمی نکتہ سمجھ میں آجائے۔
جس کی طرف پہلے گزرجانے والے بڑے علماء کی توجہ مبذول نہیں ہوئی۔
(5)
مومن کا دل خیانت نہیں کرتا اس کا مطلب یہ ہے کہ مومن ان تین کاموں کو بہتر سے بہتر انداز سے انجام دینے کی کوشش کرتا ہے۔
اور کوتاہی نہیں کرتا۔
(6)
مومن کی مومن سے خیر خواہی کا تقاضہ یہ ہے کہ صرف اپنے لیے دعا نہ کرے بلکہ دوسروں کے لیے بھی دعا کی جائے۔
خواہ دوست یا رشتہ دار ہوں یا اجنبی خواہ ہم وطن ہوں یا دوسرے علاقوں میں رہائش پزیر ہوں۔
(7)
جو شخص دوسروں کے لیے دعا کرتا ہے۔
اسے بھی دوسروں کی دعائیں پہنچتی ہیں۔ (مزید دیکھیے فوائدومسائل:
حدیث: 230)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3056]
Sunan Ibn Majah Hadith 3056 in Urdu
محمد بن جبير القرشي ← جبير بن مطعم القرشي