🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
76. باب : الخطبة يوم النحر
باب: یوم النحر کے خطبہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3057
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَافِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْمُخَضْرَمَةِ بِعَرَفَاتٍ فَقَالَ:" أَتَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا، وَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا، وَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟"، قَالُوا: هَذَا بَلَدٌ حَرَامٌ، وَشَهْرٌ حَرَامٌ، وَيَوْمٌ حَرَامٌ، قَالَ:" أَلَا وَإِنَّ أَمْوَالَكُمْ وَدِمَاءَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ، كَحُرْمَةِ شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، فِي يَوْمِكُمْ هَذَا، أَلَا وَإِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، وَأُكَاثِرُ بِكُمُ الْأُمَمَ فَلَا تُسَوِّدُوا وَجْهِي، أَلَا وَإِنِّي مُسْتَنْقِذٌ أُنَاسًا، وَمُسْتَنْقَذٌ مِنِّي أُنَاسٌ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ أُصَيْحَابِي، فَيَقُولُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اور اس وقت آپ عرفات میں اپنی کنکٹی اونٹنی پر سوار تھے: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سا دن ہے، اور کون سا مہینہ ہے، اور کون سا شہر ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ حرمت والا شہر، حرمت والا مہینہ، اور حرمت والا دن ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! تمہارے مال اور تمہارے خون بھی ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں جیسے تمہارا یہ مہینہ تمہارے اس شہر میں اور تمہارے اس دن میں، سنو! میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا، اور تمہاری کثرت کے سبب دوسری امتوں پر فخر کروں گا، تو تم مجھے رو سیاہ مت کرنا، سنو! کچھ لوگوں کو میں (عذاب کے فرشتوں یا جہنم سے) نجات دلاؤں گا، اور کچھ لوگ مجھ سے چھڑائے جائیں گے (فرشتے مجھ سے چھین کر انہیں جہنم میں لے جائیں گے)، میں کہوں گا: یا رب! یہ میرے صحابہ ہیں وہ فرمائے گا: آپ نہیں جانتے جو انہوں نے آپ کے بعد بدعتیں ایجاد کی ہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3057]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں اپنی کان کٹی اونٹنی پر سوار تھے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ کون سا دن، کون سا مہینہ اور کون سا شہر ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یہ حرمت والا شہر، حرمت والا مہینہ اور حرمت والا دن ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! حقیقت یہ ہے کہ تمہارے مال اور تمہارے خون تمہارے لیے (ایک دوسرے کے لیے) اسی طرح قابل احترام ہیں جس طرح تمہارے اس شہر (مکہ مکرمہ) میں، تمہارے اس (حج کے) دن میں تمہارا مہینہ قابل احترام ہے۔ سنو! میں حوض (کوثر) پر تمہارا پیش رو ہوں گا اور تمہاری کثرتِ تعداد کی وجہ سے دوسری قوموں پر فخر کروں گا تو مجھے (قیامت کے دن) رسوا نہ کر دینا۔ سنو! میں کچھ افراد کو (جہنم سے) چھڑاؤں گا اور کچھ لوگ مجھ سے چھین لیے جائیں گے (اور جہنم میں بھیج دیے جائیں گے۔) میں کہوں گا: اے میرے رب! میرے ساتھی؟ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: آپ کو نہیں معلوم، انہوں نے آپ کے بعد کیا نئے کام کیے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3057]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9557، ومصباح الزجاجة: 1061) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: آپ کی وفات کے بعد اسلام سے پھر گئے، مسلمانوں کو مارا، اور اصحاب سے مراد یہ ہے کہ میری امت کے لوگ ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥مرة الطيب، أبو إسماعيل
Newمرة الطيب ← عبد الله بن مسعود
ثقة
👤←👥عمرو بن مرة المرادي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعمرو بن مرة المرادي ← مرة الطيب
ثقة
👤←👥سعيد بن سنان البرجمي، أبو سنان
Newسعيد بن سنان البرجمي ← عمرو بن مرة المرادي
ثقة
👤←👥زافر بن سليمان الإيادي، أبو سليمان
Newزافر بن سليمان الإيادي ← سعيد بن سنان البرجمي
مقبول
👤←👥إسماعيل بن توبة الثقفي، أبو سهل، أبو سليمان
Newإسماعيل بن توبة الثقفي ← زافر بن سليمان الإيادي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
3057
أموالكم ودماءكم عليكم حرام كحرمة شهركم هذا في بلدكم هذا في يومكم هذا فرطكم على الحوض أكاثر بكم الأمم فلا تسودوا وجهي إني مستنقذ أناسا ومستنقذ مني أناس فأقول يا رب أصيحابي إنك لا تدري ما أحدثوا بعدك
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3057 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3057
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جس طرح مکہ مکرمہ کا شہر قابل احترام ہےاسی طرح وہ تمام علاقے جن کا تعلق حج کی ادائیگی سے قابل احترام ہیں۔

(2)
اللہ کے حکم سے چند مہینے بھی قابل احترام ہیں اس لیے انھیں حرمت والے مہینے (اشهر الحرم)
کہا جاتا ہے۔
وہ چار مہینے ہیں:
ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اوررجب بالخصوص حج کا دن یوم عرفہ (نو ذوالحجہ)
بہت زیادہ احترام کا حامل ہے۔

(3)
جو چیز سامعین کوپہلےذہن نشین کرانے کے لیے سوال کی صورت میں دریافت کی جاسکتی ہے۔
جو چیز سامعین کو پہلے سے معلوم ہواس کی اہمیت ذہن نشین کرانے کے لیے سوال کی صورت میں دریافت کی جاسکتی ہے۔

(4)
تشبیہ اور تمثیل سے علمی مسائل کو اچھی طرح سمجھایا اور ذہن نشین کرایا جاسکتا ہے۔

(5)
قیامت کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حوض کوثر ملے گا جس سے آپ کے وہ امتی پانی پئیں گیں جنہوں نے زندگی میں سنت نبوی پر عمل کیا ہوگا۔

(6)
  بدعتوں کو ایجاد کرنا اور ان پر عمل کرنا حوض کوثر کے پانی سے محرومی کا باعث ہے۔

(7)
امت کی کثرت تعداد شرعاً مطلوب ہے۔
لیکن یہ بھی ضروری ہےکہ اسلامی تعلیمات وہدایات کے مطابق بچوں کی بہتر تربیت کر کےانھیں ایسے مسلمان بنایا جائے جنھیں دیکھ کر قیامت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشی حاصل ہو۔

(8)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امت کے گناہ گاروں کی سفارش کرینگے اور انھیں جہنم سے نکالیں گے۔

(9)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بعض لوگوں کی شفاعت سے منع کردیا جائے گا۔
ایسے لوگ جہنم میں طویل عرصے تک پڑے رہیں گے۔
اگر انھوں نے شرک اکبر یا کفر اکبر کا ارتکاب کیا ہوگا تو وہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہینگے۔
اعاذناالله
(10)
جس طرح مسلمان کو قتل کرنا اور اس کا مال ناجائز طریقے سے حاصل کرنا حرام ہے اسی طرح اس کی بے عزتی کرنا اور اسے ذلیل کرنے کی کوشش کرنا بھی حرام ہے۔

(11)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منصب رسالت کو کما حقہ ادا فرما دیا۔
اب اگر کوئی شخص گمراہی اختیار کرتا ہے تو خود ذمہ دار ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کا نام عضباء (کان کٹی)
تھا۔
ویسے اس کے کان کٹے ہوئے نہیں تھے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3057]

Sunan Ibn Majah Hadith 3057 in Urdu