🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

92. بَابُ: مَا يُنْهَى عَنْهُ الْمُحْرِمُ مِنَ الصَّيْدِ
باب: محرم کو کون سا شکار منع ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3090
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، جَمِيعًا عَنْ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا صَعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ ، قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِالْأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ، فَأَهْدَيْتُ لَهُ حِمَارَ وَحْشٍ فَرَدَّهُ عَلَيَّ، فَلَمَّا رَأَى فِي وَجْهِيَ الْكَرَاهِيَةَ، قَالَ:" إِنَّهُ لَيْسَ بِنَا رَدٌّ عَلَيْكَ، وَلَكِنَّا حُرُمٌ".
صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس گزرے، میں ابواء یا ودان میں تھا، میں نے آپ کو ہدیہ میں ایک نیل گائے دی، آپ نے اسے لوٹا دیا، پھر جب آپ نے میرے چہرہ پر ناگواری دیکھی تو فرمایا: ہم یہ تمہیں نہیں لوٹاتے، لیکن ہم احرام باندھے ہوئے ہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3090]
حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں ابواء یا ودان کے مقام پر تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے۔ میں نے آپ کی خدمت میں گورخر (کا گوشت) تحفے کے طور پر پیش کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مجھے واپس دے دیا (قبول نہ کیا۔) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے پر افسوس کے آثار دیکھے تو فرمایا: ہم آپ کو (یہ تحفہ) واپس تو نہ کرتے لیکن ہم احرام کی حالت میں ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3090]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/جزاء الصید 6 (1825)، الھبة 6 (2573)، 17 (2596)، صحیح مسلم/الحج 8 (1193)، سنن الترمذی/الحج 26 (849)، سنن النسائی/الحج 79 (2821)، (تحفة الأشراف: 4940)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 25 (83)، مسند احمد (4/37، 38، 71، 73)، سنن الدارمی/المناسک 22 (1872) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: محرم کے لیے خود بھی خشکی کا شکار کرنا جائز نہیں ہے، اسی طرح وہ جانور بھی جائز نہیں جو اس کے لیے شکار کیا جائے، اور اسی طرح محرم کو شکار زندہ جانور لا کر دیا جائے تو بھی اس کا کھانا جائز نہیں، اسی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نیل گائے کو واپس کر دیا، اکثر علماء کا یہ قول ہے کہ جس شکار کو حلال ذبح کر ے اس کا بھی کھانا محرم کے لیے جائز نہیں، ثوری اور مالک یہی مذہب ہے لیکن امام ابوحنیفہ اور امام احمد کا قول ہے کہ اس کا کھانا جائز ہے اگر محرم کے لیے ذبح نہ ہوا ہو، اور نہ محرم نے اس کے شکار میں مدد کی ہو جیسے آگے آئے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3091
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ:" أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمِ صَيْدٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَلَمْ يَأْكُلْهُ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شکار کا گوشت لایا گیا، اور آپ احرام کی حالت میں تھے تو آپ نے اسے نہیں کھایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3091]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکار کا گوشت پیش کیا گیا جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم احرام میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ نہ کھایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3091]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10199 (ألف)، ومصباح الزجاجة: 1072)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/105) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں عبدالکریم بن أبی المخارق ضعیف راوی ہے، لیکن یہ دوسرے طریق سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: 1621)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں