سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ: مَنْ ضَحَّى بِشَاةٍ عَنْ أَهْلِهِ
باب: سارے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری کی قربانی کا بیان۔
حدیث نمبر: 3147
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيَّادٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ : كَيْفَ كَانَتِ الضَّحَايَا فِيكُمْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ:" كَانَ الرَّجُلُ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَحِّي بِالشَّاةِ عَنْهُ، وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، فَيَأْكُلُونَ وَيُطْعِمُونَ ثُمَّ تَبَاهَى النَّاسُ فَصَارَ كَمَا تَرَى".
عطا بن یسار کہتے ہیں کہ میں نے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آپ لوگوں کی قربانیاں کیسی ہوتی تھیں؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آدمی اپنے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری قربانی کرتا تھا تو اسے سارے گھر والے کھاتے اور لوگوں کو کھلاتے، پھر لوگ فخر و مباہات کرنے لگے، تو معاملہ ایسا ہو گیا جو تم دیکھ رہے ہو۔ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3147]
حضرت عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں تم لوگوں میں قربانیاں کس طرح کی ہوتی تھیں؟ انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں آدمی اپنی طرف سے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری کی قربانی کر دیا کرتا تھا۔ (اس میں سے) وہ خود بھی کھاتے اور دوسروں کو بھی کھلاتے۔ بعد میں لوگ فخر (کے طور پر زیادہ جانور ذبح) کرنے لگے تو وہ حال ہو گیا جو آپ (آج کل) دیکھ رہے ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3147]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأضاحي 10 (1505)، (تحفة الأشراف: 3481) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 3148
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ ، قَالَ:" حَمَلَنِي أَهْلِي عَلَى الْجَفَاءِ بَعْدَ مَا عَلِمْتُ مِنَ السُّنَّةِ، كَانَ أَهْلُ الْبَيْتِ يُضَحُّونَ بِالشَّاةِ وَالشَّاتَيْنِ، وَالْآنَ يُبَخِّلُنَا جِيرَانُنَا".
ابوسریحہ کہتے ہیں کہ سنت کا طریقہ معلوم ہو جانے کے بعد بھی ہمارے اہل نے ہمیں زیادتی پر مجبور کیا، حال یہ تھا کہ ایک گھر والے ایک یا دو بکریوں کی قربانی کرتے تھے، اور اب (اگر ہم ایسا کرتے ہیں) تو ہمارے ہمسائے ہمیں بخیل کہتے ہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3148]
حضرت ابو سریحہ (حذیفہ بن اسید غفاری) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میرے گھر والوں نے مجھے غلط کام پر مجبور کر دیا جبکہ مجھے سنت طریقہ معلوم ہے، ایک گھر والے ایک بکری یا دو بکریاں ذبح کیا کرتے تھے۔ اب تو (اگر ہم ایک کی قربانی دیں تو) ہمارے ہمسائے ہمیں بخیل کہنے لگتے ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3148]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3301، ومصباح الزجاجة: 1090) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: تو ان کے طعنہ کے ڈر سے خلاف سنت بہت سی بکریاں قربانی کرنا پڑتی ہیں، لیکن اللہ تعالی کے خاص بندے کسی کے طعن و تشنیع سے نہیں ڈرتے، اور سنت کے موافق فی گھر ایک بکری ذبح کرتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح