سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب : من ضحى بشاة عن أهله
باب: سارے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری کی قربانی کا بیان۔
حدیث نمبر: 3148
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ ، قَالَ:" حَمَلَنِي أَهْلِي عَلَى الْجَفَاءِ بَعْدَ مَا عَلِمْتُ مِنَ السُّنَّةِ، كَانَ أَهْلُ الْبَيْتِ يُضَحُّونَ بِالشَّاةِ وَالشَّاتَيْنِ، وَالْآنَ يُبَخِّلُنَا جِيرَانُنَا".
ابوسریحہ کہتے ہیں کہ سنت کا طریقہ معلوم ہو جانے کے بعد بھی ہمارے اہل نے ہمیں زیادتی پر مجبور کیا، حال یہ تھا کہ ایک گھر والے ایک یا دو بکریوں کی قربانی کرتے تھے، اور اب (اگر ہم ایسا کرتے ہیں) تو ہمارے ہمسائے ہمیں بخیل کہتے ہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3148]
حضرت ابو سریحہ (حذیفہ بن اسید غفاری) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میرے گھر والوں نے مجھے غلط کام پر مجبور کر دیا جبکہ مجھے سنت طریقہ معلوم ہے، ایک گھر والے ایک بکری یا دو بکریاں ذبح کیا کرتے تھے۔ اب تو (اگر ہم ایک کی قربانی دیں تو) ہمارے ہمسائے ہمیں بخیل کہنے لگتے ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3148]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3301، ومصباح الزجاجة: 1090) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: تو ان کے طعنہ کے ڈر سے خلاف سنت بہت سی بکریاں قربانی کرنا پڑتی ہیں، لیکن اللہ تعالی کے خاص بندے کسی کے طعن و تشنیع سے نہیں ڈرتے، اور سنت کے موافق فی گھر ایک بکری ذبح کرتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
Sunan Ibn Majah Hadith 3148 in Urdu
عامر الشعبي ← حذيفة بن أسيد الغفاري