سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَابُ: الأَكْلِ مِمَّا يَلِيكَ
باب: (برتن میں اور دستر خوان پر) اپنے قریب سے کھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3273
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا وُضِعَتِ الْمَائِدَةُ فَلْيَأْكُلْ مِمَّا يَلِيهِ، وَلَا يَتَنَاوَلْ مِنْ بَيْنِ يَدَيْ جَلِيسِهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دستر خوان لگایا جائے تو ہر شخص کو اس جانب سے کھانا چاہیئے جو اس سے قریب ہو، وہ اپنے ساتھی کے سامنے سے نہ کھائے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3273]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دستر خوان پر کھانا لگا دیا جائے تو آدمی کو اپنے سامنے سے کھانا چاہیے، اپنے ساتھی کے آگے سے نہ کھائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3273]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7327، ومصباح الزجاجة: 1124) (ضعیف جدا)» (عبدالاعلی بن اعین نے ابن ابی کثیر سے منکر احادیث روایت کی ہے، نیز ملاحظہ ہو: المشکاة: 4254)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث الآتي (3295)
عبد الأعلي بن أعين: ضعيف (تقريب: 3729)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 493
إسناده ضعيف
انظر الحديث الآتي (3295)
عبد الأعلي بن أعين: ضعيف (تقريب: 3729)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 493
حدیث نمبر: 3274
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي السَّوِيَّةِ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عِكْرَاشٍ ، عَنْ أَبِيهِ عِكْرَاشِ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَفْنَةٍ كَثِيرَةِ الثَّرِيدِ وَالْوَدَكِ , فَأَقْبَلْنَا نَأْكُلُ مِنْهَا، فَخَبَطْتُ يَدِي فِي نَوَاحِيهَا، فَقَالَ:" يَا عِكْرَاشُ كُلْ مِنْ مَوْضِعٍ وَاحِدٍ، فَإِنَّهُ طَعَامٌ وَاحِدٌ"، ثُمَّ أُتِينَا بِطَبَقٍ فِيهِ أَلْوَانٌ مِنَ الرُّطَبِ، فَجَالَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الطَّبَقِ، وَقَالَ:" يَا عِكْرَاشُ كُلْ مِنْ حَيْثُ شِئْتَ، فَإِنَّهُ غَيْرُ لَوْنٍ وَاحِدٍ".
عکراش بن ذویب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک لگن لایا گیا جس میں بہت سا ثرید اور روغن تھا، ہم سب اس میں سے کھانے لگے، میں اپنا ہاتھ پیالے میں ہر طرف پھرا رہا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عکراش! ایک جگہ سے کھاؤ، اس لیے کہ یہ پورا ایک ہی کھانا ہے“، پھر ایک طبق لایا گیا جس میں مختلف اقسام کی تازہ کھجوریں تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ طبق میں چاروں طرف گھومنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عکراش! جہاں سے جی چاہے کھاؤ، اس لیے کہ اس میں کئی طرح کی کھجوریں ہیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3274]
حضرت عکراش بن ذویب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بڑا پیالا پیش کیا گیا، جس میں بہت سا ثرید اور چکنائی تھی۔ ہم لوگ اس میں سے کھانے لگے تو میرا ہاتھ اس میں ہر طرف گھوم رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عکراش! ایک جگہ سے کھاؤ، یہ ایک ہی کھانا ہے۔“ پھر ہمارے سامنے ایک تھال رکھا گیا جس میں مختلف قسم کی تازہ کھجوریں تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ تھال میں گھومنے لگا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مجھ سے) فرمایا: ”اے عکراش! جہاں سے چاہو کھاؤ، یہ ایک ہی قسم نہیں۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3274]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأطعمة 41 (1848)، (تحفة الأشراف: 10016) (ضعیف)» (علاء بن فضل ضعیف راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 5098)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1848)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 493
إسناده ضعيف
ترمذي (1848)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 493