یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب : الأكل مما يليك
باب: (برتن میں اور دستر خوان پر) اپنے قریب سے کھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3273
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا وُضِعَتِ الْمَائِدَةُ فَلْيَأْكُلْ مِمَّا يَلِيهِ، وَلَا يَتَنَاوَلْ مِنْ بَيْنِ يَدَيْ جَلِيسِهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دستر خوان لگایا جائے تو ہر شخص کو اس جانب سے کھانا چاہیئے جو اس سے قریب ہو، وہ اپنے ساتھی کے سامنے سے نہ کھائے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3273]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دستر خوان پر کھانا لگا دیا جائے تو آدمی کو اپنے سامنے سے کھانا چاہیے، اپنے ساتھی کے آگے سے نہ کھائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3273]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7327، ومصباح الزجاجة: 1124) (ضعیف جدا)» (عبدالاعلی بن اعین نے ابن ابی کثیر سے منکر احادیث روایت کی ہے، نیز ملاحظہ ہو: المشکاة: 4254)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث الآتي (3295)
عبد الأعلي بن أعين: ضعيف (تقريب: 3729)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 493
إسناده ضعيف
انظر الحديث الآتي (3295)
عبد الأعلي بن أعين: ضعيف (تقريب: 3729)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 493
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
3273
| إذا وضعت المائدة فليأكل مما يليه ولا يتناول من بين يدي جليسه |
سنن ابن ماجه |
3295
| إذا وضعت المائدة فلا يقوم رجل حتى ترفع المائدة ولا يرفع يده وإن شبع حتى يفرغ القوم وليعذر فإن الرجل يخجل جليسه فيقبض يده وعسى أن يكون له في الطعام حاجة |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3273 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3273
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
”مائدہ“ اس دستر خوان کو کہتے ہیں جس پر کھانا رکھا جا چکا ہو، اس لیے وضعت الماءدۃ کامطلب صرف دستر خوان بچھانا نہیں بلکہ اس پر کھانا لگانا ہو گا۔
خالی دستر خوان کو عربی میں ”خِوَان“ کہتے ہیں۔
فوائد و مسائل:
”مائدہ“ اس دستر خوان کو کہتے ہیں جس پر کھانا رکھا جا چکا ہو، اس لیے وضعت الماءدۃ کامطلب صرف دستر خوان بچھانا نہیں بلکہ اس پر کھانا لگانا ہو گا۔
خالی دستر خوان کو عربی میں ”خِوَان“ کہتے ہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3273]
Sunan Ibn Majah Hadith 3273 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عبد الله بن عمر العدوي