🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

29. بَابُ: الشِّوَاءِ
باب: بھنے ہوئے گوشت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3309
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: مَا أَعْلَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَأَى شَاةً سَمِيطًا، حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھنی ہوئی بکری دیکھی ہو یہاں تک کہ آپ اللہ سے جا ملے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3309]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الرقاق 17 (6457)، الأطعمة 26 (5385)، (تحفة الأشراف: 1406)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/128، 134، 250) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: «سمیط» وہ بکری جس کو بال نکال کر کھال سمیت بھونا گیا ہو، یہ امیروں کا کھانا ہے، اور دوسرے لوگ کھال نکال کر گوشت بھونتے ہیں، اور مطلب اس کا یہ ہے کہ مکمل بھنی ہوئی بکری آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں دیکھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3310
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ , حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ سُلَيْمٍ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ:" مَا رُفِعَ مِنْ بَيْنِ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضْلُ شِوَاءٍ قَطُّ , وَلَا حُمِلَتْ مَعَهُ طِنْفِسَةٌ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کبھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے بچا ہوا بھنا گوشت نہیں اٹھایا گیا اور نہ ہی آپ کے ساتھ کبھی دری (چٹائی) لے جائی گئی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3310]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1446، ومصباح الزجاجة: 1138) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (جبارہ اور کثیر بن سلیم دونوں ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
جبارة وكثير بن سليم مجروحان
والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 495

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3311
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ زِيَادٍ الْحَضْرَمِيُّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الجَزْءٍ الزُّبَيْدِيِّ , قَالَ:" أَكَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فِي الْمَسْجِدِ , لَحْمًا قَدْ شُوِيَ , فَمَسَحْنَا أَيْدِيَنَا بِالْحَصْبَاءِ , ثُمَّ قُمْنَا فُصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بھنا ہوا گوشت کھایا، پھر ہم نے اپنے ہاتھ کنکریوں سے پونچھ لیے، پھر ہم نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور ہم نے (پھر سے) وضو نہیں کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3311]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5232، ومصباح الزجاجة: 1139)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/191) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں ابن لہیعہ ضعیف راوی ہیں، «فمسحنا أيدينا بالحصباء» کے علاوہ بقیہ حدیث صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح أبی دادو: 187)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 3300)
قال الشيخ الألباني: صحيح دون مسح الأيدي
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن لھيعة اختلط و لم يحدث بھذا اللفظ قبل اختلاطه
والحديث السابق (الأصل: 3300) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 495

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں