سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. باب : الشواء
باب: بھنے ہوئے گوشت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3311
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ زِيَادٍ الْحَضْرَمِيُّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الجَزْءٍ الزُّبَيْدِيِّ , قَالَ:" أَكَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فِي الْمَسْجِدِ , لَحْمًا قَدْ شُوِيَ , فَمَسَحْنَا أَيْدِيَنَا بِالْحَصْبَاءِ , ثُمَّ قُمْنَا فُصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بھنا ہوا گوشت کھایا، پھر ہم نے اپنے ہاتھ کنکریوں سے پونچھ لیے، پھر ہم نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور ہم نے (پھر سے) وضو نہیں کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3311]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5232، ومصباح الزجاجة: 1139)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/191) (صحیح)» (سند میں ابن لہیعہ ضعیف راوی ہیں، «فمسحنا أيدينا بالحصباء» کے علاوہ بقیہ حدیث صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح أبی دادو: 187)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 3300)
قال الشيخ الألباني: صحيح دون مسح الأيدي
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن لھيعة اختلط و لم يحدث بھذا اللفظ قبل اختلاطه
والحديث السابق (الأصل: 3300) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 495
إسناده ضعيف
ابن لھيعة اختلط و لم يحدث بھذا اللفظ قبل اختلاطه
والحديث السابق (الأصل: 3300) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 495
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
3300
| كنا نأكل على عهد رسول الله في المسجد الخبز واللحم |
سنن ابن ماجه |
3311
| أكلنا مع رسول الله طعاما في المسجد لحما قد شوي فمسحنا أيدينا بالحصباء ثم قمنا فصلي ولم يتوضأ |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3311 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3311
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مسجد میں کھانا کھانا جائز ہے۔
(2)
بھنا ہوا گوشت کھانا درست ہے۔
(3)
اللہ کی نعمتوں کے استعمال سے پرہیز کا نام زہد نہیں بلکہ حرام سے اجتناب اور دنیا کے لالچ سے بچنا زہد ہے۔
(4)
آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ دیکھیے: (سنن ابن ماجة، حدیث: 488، 493)
فوائد و مسائل:
(1)
مسجد میں کھانا کھانا جائز ہے۔
(2)
بھنا ہوا گوشت کھانا درست ہے۔
(3)
اللہ کی نعمتوں کے استعمال سے پرہیز کا نام زہد نہیں بلکہ حرام سے اجتناب اور دنیا کے لالچ سے بچنا زہد ہے۔
(4)
آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ دیکھیے: (سنن ابن ماجة، حدیث: 488، 493)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3311]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3300
مسجد میں کھانے کا بیان۔
عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجد میں روٹی اور گوشت کھایا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3300]
عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجد میں روٹی اور گوشت کھایا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3300]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مسجد میں کھانا پینا جائز ہے لیکن اسے عادت نہیں بنانا چاہیے۔
(2)
مسجد میں کھاناکھاتے وقت مسجد کی صفائی کا خیال رکھنا چاہیے۔
کھانے کی چیز فرش، چٹائی اور قالین وغیرہ پر نہ گرنے دی جائے۔
فوائد و مسائل:
(1)
مسجد میں کھانا پینا جائز ہے لیکن اسے عادت نہیں بنانا چاہیے۔
(2)
مسجد میں کھاناکھاتے وقت مسجد کی صفائی کا خیال رکھنا چاہیے۔
کھانے کی چیز فرش، چٹائی اور قالین وغیرہ پر نہ گرنے دی جائے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3300]
سليمان بن زياد الحضرمي ← عبد الله بن الحارث الزبيدي