🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. بَابُ: مَا أَنْزَلَ اللَّهُ دَاءً إِلاَّ أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً
باب: اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی بیماری نہیں اتاری جس کا علاج نہ اتارا ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3436
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , وَهِشَامُ ابْنُ عَمَّارٍ , قَالَا، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ , قَالَ: شَهِدْتُ الْأَعْرَابَ يَسْأَلُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا؟ أَعَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا؟ فَقَالَ لَهُمْ:" عِبَادَ اللَّهِ ,وَضَعَ اللَّهُ الْحَرَجَ إِلَّا مَنِ اقْتَرَضَ مِنْ عِرْضِ أَخِيهِ شَيْئًا , فَذَاكَ الَّذِي حَرِجَ" , فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَلْ عَلَيْنَا جُنَاحٌ أَنْ لَا نَتَدَاوَى؟ قَالَ:" تَدَاوَوْا عِبَادَ اللَّهِ , فَإِنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ مَعَهُ شِفَاءً , إِلَّا الْهَرَمَ" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا خَيْرُ مَا أُعْطِيَ الْعَبْدُ؟ قَالَ:" خُلُقٌ حَسَنٌ".
اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اعرابیوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے دیکھا کہ کیا فلاں معاملے میں ہم پر گناہ ہے؟ کیا فلاں معاملے میں ہم پر گناہ ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے بندو! ان میں سے کسی میں بھی اللہ تعالیٰ نے گناہ نہیں رکھا سوائے اس کے کہ کوئی اپنے بھائی کی عزت سے کچھ بھی کھیلے، تو دراصل یہی گناہ ہے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! اگر ہم دوا علاج نہ کریں تو اس میں بھی گناہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے بندو! دوا علاج کرو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسا مرض نہیں بنایا جس کی شفاء اس کے ساتھ نہ بنائی ہو سوائے بڑھاپے کے، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بندے کو جو چیزیں اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہیں ان میں سے سب بہتر چیز کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حسن اخلاق۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3436]
حضرت اسامہ بن شریک (ثعلبی) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں (مجلس میں) موجود تھا جب اعرابی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کر رہے تھے: کیا فلاں کام کرنے میں ہم پر گناہ ہے؟ کیا فلاں کام کرنے میں ہم پر گناہ ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اللہ کے بندو! اللہ نے حرج (تنگی) کو دور کر دیا ہے مگر جس نے اپنے بھائی کی عزت میں سے ایک حصہ کاٹ لیا، یہی ہے جس نے گناہ کیا۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہمیں اس بات سے گناہ ہو گا کہ ہم (بیماری سے شفا کے لیے) دوا (استعمال) نہ کریں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے بندو! (شفا کے لیے) دوا (استعمال) کیا کرو، اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے جو بیماری بنائی ہے، اس کی شفا (کے لیے دوا) بھی بنائی ہے، سوائے شدید بڑھاپے کے۔ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! بندے کو سب سے بہتر چیز کیا عطا ہوئی ہے؟ فرمایا: اچھا اخلاق۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3436]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 127، ومصباح الزجاجة: 127)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطب 1 (3855)، سنن الترمذی/الطب 2 (2038)، مسند احمد (4/278) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3437
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ ابْنِ أَبِي خِزَامَةَ , عَنْ أَبِي خِزَامَةَ , قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ أَدْوِيَةً نَتَدَاوَى بِهَا , وَرُقًى نَسْتَرْقِي بِهَا , وَتُقًى نَتَّقِيهَا , هَلْ تَرُدُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ شَيْئًا , قَالَ:" هِيَ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ".
ابوخزامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: بتائیے ان دواؤں کے بارے میں جن سے ہم علاج کرتے ہیں، ان منتروں کے بارے میں جن سے ہم جھاڑ پھونک کرتے ہیں، اور ان بچاؤ کی چیزوں کے بارے میں جن سے ہم بچاؤ کرتے ہیں، کیا یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی تقدیر کو کچھ بدل سکتی ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ خود اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں شامل ہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3437]
حضرت ابو خزامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: ہم دواؤں کے ذریعے سے علاج کرتے ہیں، اور دعاؤں کے ساتھ دم کرتے ہیں، اور دفاعی اشیاء کے ذریعے سے اپنا بچاؤ کرتے ہیں، کیا یہ چیزیں اللہ کی تقدیر میں سے کسی چیز کو روک سکتی ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بھی اللہ کی تقدیر میں شامل ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3437]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطب 21 (2065)، (تحفة الأشراف: 11898)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/421) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (تراجع الألبانی: رقم: 345)
وضاحت: ۱؎: سبحان اللہ، کیا عمدہ جواب دیا کہ سوال کرنے والے کو اب کچھ کہنے کی گنجائش ہی نہیں رہی، مطلب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب کا یہ ہے کہ سپر یا ڈھال رکھنا یا دوا یا علاج کرنا تقدیر الہی کے خلاف نہیں ہے، جو فعل دنیا میں واقع ہو وہی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں تھا، پس انسان کے لیے ضروری ہے کہ تدبیر اور علاج میں کوتاہی نہ کرے، ہو گا تو وہی جو تقدیر میں ہے، اسی طرح جو کوئی علاج نہ کرے، تو سمجھنا چاہئے کہ اس کی تقدیر میں یہی ہے، غرض اللہ تعالی کی تقدیر بندے کو معلوم نہیں ہو سکتی جب کوئی فعل بندے سے ظاہر ہو جاتا ہے اس وقت تقدیر معلوم ہوتی ہے، حدیث میں «وتقى نتقيها» سے پرہیز مراد ہے جو بعض بیماریوں میں بعض کھانوں سے پرہیز کرتے ہیں، اور اس حدیث میں یہی معنی زیادہ مناسب ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2065)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 500

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3438
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ , عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" مَا أَنْزَلَ اللَّهُ دَاءً , إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ دَوَاءً".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی بیماری نہیں اتاری جس کی دوا نہ اتاری ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3438]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے جو بھی بیماری نازل کی ہے، اس کی دوا بھی ضرور نازل کی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3438]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9333، ومصباح الزجاجة: 1191)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/77، 413، 443، 446، 453) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: معلوم ہوا کہ بیماری اور علاج دونوں اللہ کی طرف سے اترتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3439
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ , عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ , حَدَّثَنَا عَطَاءٌ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَنْزَلَ اللَّهُ دَاءً , إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی بیماری نہیں اتاری جس کا علاج نہ اتارا ہو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3439]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جو بھی بیماری نازل کی ہے، اس کی شفا (دوا) بھی ضرور نازل کی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3439]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطب 1 (5678)، (تحفة الأشراف: 14197) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہر بیماری کی دوا ہے پھر جب وہ دوا جسم میں پہنچتی ہے تو بیمار اللہ تعالی کے حکم سے اچھا ہو جاتا ہے، یہ کہنا کہ دوا کی تاثیر سے صحت ہوئی شرک ہے، اور اگر یہ سمجھ کر دوا کھائے کہ اللہ تعالی کے حکم سے یہ موثر ہوتی ہے تو شرک نہیں ہے، اسی طرح ہر چیز کے بارے میں اعتقاد رکھنا چاہئے کہ اس کا نفع اور نقصان اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہے، اور جو کوئی نفع و نقصان کے بارے میں یہ اعتقاد رکھ کر کہے کہ فلاں چیز سے نفع ہوا یعنی اللہ کے حکم سے تو وہ شرک نہ ہو گا، اور جب اس چیز کو مستقل نفع بخش سمجھے گا تو وہ شرک ہو جائے گا، مشرکین یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بعض اپنے مقبول بندوں کو اختیار دے دیا ہے کہ وہ جو چاہیں کریں، اب وہ جس کو چاہیں اپنے اختیار سے نفع پہنچاتے ہیں، اور اللہ تعالی کا حکم ہر معاملہ میں نہیں لیتے یہ اعتقاد شرک ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں