🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

21. بَابُ: مَوْضِعِ الْحِجَامَةِ
باب: حجامت (پچھنا لگوانے) کی جگہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3481
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ , حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ , حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ أَبِي عَلْقَمَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجَ , قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُحَيْنَةَ , يَقُولُ:" احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , بِلَحْيِ جَمَلٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَسَطَ رَأْسِهِ".
عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کی حالت میں مقام لحی جمل میں اپنے سر کے بیچ میں پچھنا لگوایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3481]
حضرت عبداللہ (بن مالک) ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لحی جمل کے مقام پر احرام کی حالت میں سر کے درمیان (تالو میں) سینگی لگوائی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3481]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/جزاء الصید 11 (1836)، الطب 14 (5698)، صحیح مسلم/الحج 11 (1203)، سنن النسائی/الحج 95 (2853)، (تحفة الأشراف: 9156)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/345)، سنن الدارمی/المناسک 20 (1861) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3482
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ , عَنْ سَعْدٍ الْإِسْكَافِ , عَنْ الْأَصْبَغِ بْنِ نُبَاتَةَ , عَنْ عَلِيٍّ , قَالَ:" نَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِجَامَةِ الْأَخْدَعَيْنِ وَالْكَاهِلِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام گردن کی دونوں رگوں اور دونوں مونڈھوں کے درمیان کی جگہ پر پچھنا لگانے کا حکم لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3482]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حضرت جبریل علیہ السلام نے نازل ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گردن کی رگوں پر اور دونوں کندھوں کے درمیان (گردن کے قریب) سینگی لگوانے کی ہدایت کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3482]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10025، ومصباح الزجاجة: 1212) (ضعیف جدا)» ‏‏‏‏» ‏‏‏‏ (سند میں سوید بن سعید، سعد الاسکاف دونوں ضعیف ہیں، اور اصبغ بن نباتہ متروک ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
الأصبغ بن نباتة وسعد الأسكاف: متروكان (تقريب: 537،2241) ورميا بالرفض
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 502

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3483
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي الْخَصِيبِ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" احْتَجَمَ فِي الْأَخْدَعَيْنِ وَعَلَى الْكَاهِلِ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گردن کی رگوں اور مونڈھے کے درمیان کی جگہ پچھنا لگوایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3483]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گردن کی رگوں پر اور دونوں کندھوں کے درمیان سینگی لگوائی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3483]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطب 4 (3860)، سنن الترمذی/الطب 12 (2051)، (تحفة الأشراف: 1147) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3860) ترمذي (2051)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 502

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3484
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ أَنَّهُ حَدَّثَهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَحْتَجِمُ عَلَى هَامَتِهِ وَبَيْنَ كَتِفَيْهِ , وَيَقُولُ:" مَنْ أَهْرَاقَ مِنْهُ هَذِهِ الدِّمَاءَ , فَلَا يَضُرُّهُ أَنْ لَا يَتَدَاوَى بِشَيْءٍ لِشَيْءٍ".
ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر پر اور دونوں کندھوں کے درمیان پچھنا لگواتے اور فرماتے تھے: جو ان مقامات سے خون بہا دے، تو اگر وہ کسی بیماری کا کسی چیز سے علاج نہ کرے تو اس کے لیے نقصان دہ نہیں ہو سکتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3484]
حضرت ابو کبشہ (سعید بن عمرو انماری) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سر پر اور کندھوں کے درمیان سینگی لگواتے تھے اور فرماتے تھے: جو شخص اپنے جسم سے اس طرح (سینگی لگوا کر) خون نکلواتا ہے، وہ اگر کسی بیماری کا کوئی اور علاج نہ کرے تو کوئی نقصان نہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3484]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطب 4 (3859)، (تحفة الأشراف: 12143) (ضعیف) (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 1867، تراجع الألبانی: رقم: 194)۔» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3859)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 502

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3485
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي سُفْيَانَ , عَنْ جَابِرٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ," سَقَطَ عَنْ فَرَسِهِ عَلَى جِذْعٍ , فَانْفَكَّتْ قَدَمُهُ" , قَالَ وَكِيعٌ يَعْنِي: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ عَلَيْهَا مِنْ وَثْءٍ.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار اپنے گھوڑے سے کھجور کے درخت کی پیڑی پر گر پڑے، اس سے آپ کے پیر میں موچ آ گئی۔ وکیع کہتے ہیں: مطلب یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف درد کی وجہ سے وہاں پر پچھنا لگوایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3485]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے کھجور کے درخت کے (کٹے ہوئے) تنے پر گر پڑے، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کا جوڑ متاثر ہو گیا۔ امام وکیع رحمہ اللہ نے فرمایا: حدیث کا مطلب یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تکلیف کی وجہ سے پاؤں پر سینگی لگوائی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3485]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2310، ومصباح الزجاجة: 1213)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 69 (602)، الطب 5 (3863)، سنن النسائی/الحج 93 (2851)، مسند احمد (3/305، 357، 363، 382) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: «وثء» : عربی میں اس درد کو کہتے جو کسی عضو میں عضو ٹوٹنے کے بغیر پیدا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (602)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 502

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں