🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. باب : موضع الحجامة
باب: حجامت (پچھنا لگوانے) کی جگہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3483
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي الْخَصِيبِ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" احْتَجَمَ فِي الْأَخْدَعَيْنِ وَعَلَى الْكَاهِلِ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گردن کی رگوں اور مونڈھے کے درمیان کی جگہ پچھنا لگوایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3483]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گردن کی رگوں پر اور دونوں کندھوں کے درمیان سینگی لگوائی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3483]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطب 4 (3860)، سنن الترمذی/الطب 12 (2051)، (تحفة الأشراف: 1147) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3860) ترمذي (2051)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 502

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥جرير بن حازم الأزدي، أبو النضر
Newجرير بن حازم الأزدي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← جرير بن حازم الأزدي
ثقة حافظ إمام
👤←👥علي بن محمد القرشي
Newعلي بن محمد القرشي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
2051
يحتجم في الأخدعين والكاهل يحتجم لسبع عشرة وتسع عشرة وإحدى وعشرين
سنن أبي داود
3860
احتجم ثلاثا في الأخدعين والكاهل
سنن ابن ماجه
3483
احتجم في الأخدعين وعلى الكاهل
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3483 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3483
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے ضعیف قرار دیا ہے۔
جبکہ دیگر محققین نے شواہد اور متابعات کی بنا پر اسے صحیح قرار دیا ہے۔
لہٰذا مذکورہ روایت متابعات اور شواہد کی بنا پر سنداً ضعیف ہونے کے باوجود قابل عمل ہے۔
مزید تفصیل کےلئے دیکھئے۔ (سلسلة الأحادیث الصحیحة للألبانی، رقم: 908، سنن ابن ماجة بتحقیق الدکتور بشار عواد، رقم: 3483)

(2)
اخذ عین سى مراد وہ رگیں ہیں جو گردن پر دایئں بایئں ہوتی ہیں۔

(3)
کاھل سے مراد کندھو ں کے درمیان کی وہ جگہ ہے جہاں سے گردن باقی جسم کے ساتھ ملی ہوئی ہوتی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3483]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3860
سینگی (پچھنا) لگانے کی جگہ کا بیان۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گردن کے دونوں پٹھوں میں اور دونوں کندھوں کے بیچ میں تین پچھنے لگوائے۔ ایک بوڑھے کا بیان ہے: میں نے پچھنا لگوائے تو میری عقل جاتی رہی یہاں تک کہ میں نماز میں سورۃ فاتحہ لوگوں کے بتانے سے پڑھتا، بوڑھے نے پچھنا اپنے سر پر لگوایا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3860]
فوائد ومسائل:
سینگی لگوانا ایک مفید اور قابلِ عمل طریقہ علاج ہے، مگر اس شخص کے لیئے جسے ماہرِفن طبیب مشورہ دے، غلط جگہ یا نہ جاننے والے سے سینگی لگوانے میں نقصان کا اندیشہ ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3860]

Sunan Ibn Majah Hadith 3483 in Urdu