سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
38. بَابُ: دُخُولِ الْحَمَّامِ
باب: حمام میں داخل ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3748
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا خَالِي يَعْلَى , وَجَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ جَمِيعًا , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ الْإِفْرِيقِيِّ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , قَالَ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تُفْتَحُ لَكُمْ أَرْضُ الْأَعَاجِمِ , وَسَتَجِدُونَ فِيهَا بُيُوتًا يُقَالُ لَهَا: الْحَمَّامَاتُ , فَلَا يَدْخُلْهَا الرِّجَالُ إِلَّا بِإِزَارٍ , وَامْنَعُوا النِّسَاءَ أَنْ يَدْخُلْنَهَا إِلَّا مَرِيضَةً أَوْ نُفَسَاءَ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے عجم کے ممالک فتح ہوں گے، تو وہاں تم کچھ ایسے گھر پاؤ گے جنہیں حمامات (عمومی غسل خانے) کہا جاتا ہو گا، تو مرد ان میں بغیر تہہ بند کے داخل نہ ہوں، اور عورتوں کو اس میں جانے سے روکو، سوائے اس عورت کے جو بیمار ہو، یا نفاس والی ہو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3748]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے عجم کی زمین فتح ہو گی، وہاں تمہیں ایسے کمرے ملیں گے جنہیں حمام کہا جائے گا۔ ان میں مرد تہبند کے بغیر داخل نہ ہوں اور عورتوں کو ان میں داخل ہونے سے منع کرو، مگر بیمار یا نفاس والی داخل ہو سکتی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3748]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحمام 1 (4011)، (تحفة الأشراف: 8877) (ضعیف)» (سند میں عبدالرحمن بن زیاد اور عبد الرحمن بن رافع دونوں ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (4011)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 511
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (4011)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 511
حدیث نمبر: 3749
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَفَّانُ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ , عَنْ أَبِي عُذْرَةَ , قَالَ: وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى الرِّجَالَ وَالنِّسَاءَ مِنَ الْحَمَّامَاتِ , ثُمَّ رَخَّصَ لِلرِّجَالِ أَنْ يَدْخُلُوهَا فِي الْمَيَازِرِ , وَلَمْ يُرَخِّصْ لِلنِّسَاءِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (پہلے) مردوں اور عورتوں دونوں کو حمام میں جانے سے منع کیا تھا، پھر مردوں کو تہبند پہن کر جانے کی اجازت دی، اور عورتوں کو اجازت نہیں دی“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3749]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”مردوں اور عورتوں (سب) کو حماموں میں داخل ہونے سے منع فرمایا، پھر مردوں کو تہبند کے ساتھ حمام میں جانے کی اجازت دے دی اور عورتوں کو اجازت نہیں دی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3749]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17798، ومصباح الزجاجة: 1310)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحمام 1 (4009)، سنن الترمذی/الأدب43 (2802)، ولم یذکرا: ''ولم يرخص للنساء'' مسند احمد (6/132، 139، 179) (ضعیف)» (ابوعذرہ مجہول راوی ہیں، ترمذی نے حدیث کو غریب یعنی ضعیف کہا ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 3750
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ , عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ , أَنَّ نِسْوَةً مِنْ أَهَلْ حِمْصَ اسْتَأْذَنَّ عَلَى عَائِشَةَ , فَقَالَتْ: لَعَلَّكُنَّ مِنَ اللَّوَاتِي يَدْخُلْنَ الْحَمَّامَاتِ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ وَضَعَتْ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِ زَوْجِهَا , فَقَدْ هَتَكَتْ سِتْرَ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ".
ابوملیح ہذلی سے روایت ہے کہ حمص کی کچھ عورتوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کی اجازت طلب کی تو انہوں نے کہا کہ شاید تم ان عورتوں میں سے ہو جو حمام میں جاتی ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”جس عورت نے اپنے شوہر کے گھر کے علاوہ کسی اور جگہ اپنے کپڑے اتارے تو اس نے اس پردہ کو پھاڑ ڈالا جو اس کے اور اللہ کے درمیان ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3750]
حضرت ابو ملیح (عامر بن اسامہ) ہذلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حمص کی رہنے والی کچھ خواتین ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئیں، انہوں نے فرمایا: ”شاید تم بھی ان عورتوں سے ہو جو حماموں میں جاتی ہو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”جس عورت نے اپنے خاوند کے گھر کے علاوہ (کسی جگہ) اپنے کپڑے اتارے، اس نے اپنے اور اللہ کے درمیان (حیا کا) پردہ چاک کر دیا۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3750]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحمام 1 (4010)، سنن الترمذی/الأدب 43 (2803)، (تحفة الأشراف: 17804)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/ 173، 198، سنن الدارمی/الاستئذان 23 (2693) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: حمص: جو ملک شام میں ایک مشہور شہر کا نام ہے۔ یعنی اللہ تعالی نے پاک عورتوں کو تقویٰ پرہیز گاری اور عصمت کا جو پردہ اڑھایا ہے، وہ ایسا کرنے سے پھٹ جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن