🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
38. باب : دخول الحمام
باب: حمام میں داخل ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3750
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ , عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ , أَنَّ نِسْوَةً مِنْ أَهَلْ حِمْصَ اسْتَأْذَنَّ عَلَى عَائِشَةَ , فَقَالَتْ: لَعَلَّكُنَّ مِنَ اللَّوَاتِي يَدْخُلْنَ الْحَمَّامَاتِ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ وَضَعَتْ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِ زَوْجِهَا , فَقَدْ هَتَكَتْ سِتْرَ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ".
ابوملیح ہذلی سے روایت ہے کہ حمص کی کچھ عورتوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کی اجازت طلب کی تو انہوں نے کہا کہ شاید تم ان عورتوں میں سے ہو جو حمام میں جاتی ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس عورت نے اپنے شوہر کے گھر کے علاوہ کسی اور جگہ اپنے کپڑے اتارے تو اس نے اس پردہ کو پھاڑ ڈالا جو اس کے اور اللہ کے درمیان ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3750]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحمام 1 (4010)، سنن الترمذی/الأدب 43 (2803)، (تحفة الأشراف: 17804)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/ 173، 198، سنن الدارمی/الاستئذان 23 (2693) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: حمص: جو ملک شام میں ایک مشہور شہر کا نام ہے۔ یعنی اللہ تعالی نے پاک عورتوں کو تقویٰ پرہیز گاری اور عصمت کا جو پردہ اڑھایا ہے، وہ ایسا کرنے سے پھٹ جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥أبو المليح بن أسامة الهذلي، أبو المليح
Newأبو المليح بن أسامة الهذلي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥سالم بن أبي الجعد الأشجعي
Newسالم بن أبي الجعد الأشجعي ← أبو المليح بن أسامة الهذلي
ثقة
👤←👥منصور بن المعتمر السلمي، أبو عتاب
Newمنصور بن المعتمر السلمي ← سالم بن أبي الجعد الأشجعي
ثقة ثبت
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← منصور بن المعتمر السلمي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← سفيان الثوري
ثقة حافظ إمام
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن
Newعلي بن محمد الكوفي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
2803
ما من امرأة تضع ثيابها في غير بيت زوجها إلا هتكت الستر بينها وبين ربها
سنن أبي داود
4010
ما من امرأة تخلع ثيابها في غير بيتها إلا هتكت ما بينها وبين الله
سنن ابن ماجه
3750
أيما امرأة وضعت ثيابها في غير بيت زوجها فقد هتكت ستر ما بينها وبين الله
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3750 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3750
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حمام کا لفظ حمیم (گرم پانی)
سے بنایا گیا ہے کیونکہ وہاں گرم پانی سے نہانے کا انتظام ہوتا ہے۔
بعد میں نہانے کی ہر جگہ کو حمام کہنے لگے، خواہ وہاں گرم پانی ہو یا ٹھنڈا۔

(2)
حمام میں نہلانے کے لیے خادم موجود ہوتے تھے وہاں جانے سے اس لیے منع کیا گیا کہ لوگ ان خادموں سے ستر پوشی کا اہتمام نہیں کرتے تھے۔
اگر ستر پوشی کا خیال رکھا جائے تو باقی جسم کو ملنے اور دھونے میں خادموں سے مدد لینا جائز ہے۔

(3)
عورت کا پورا جسم ستر ہے، اس لیے اس کو منع کر دیا گیا کہ حمام میں کسی سے مدد لے۔
اس کے لیے گھر ہی میں نہا نا بہتر ہے۔

(4)
اگر عورت گھر میں گرم پانی سے نہانے کا انتظام کر لے اور کسی سے مدد لیے بغیر نہا لے یا خاوند سے مدد لے لے تو کوئی حرج نہیں۔

(5)
جہاں مرد ننگے ہو کر ایک دوسرے کے سامنے نہاتے ہوں، جیسے غیر مسلم ممالک میں رواج ہے، وہاں مردوں کو بھی ان کے ساتھ نہانا منع ہے کیونکہ جس طرح اپنے ستر کو چھپانا فرض ہے، اسی طرح کسی کے ستر کو دیکھنا بھی منع ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3750]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4010
حمام میں جانے کا بیان۔
ابوالملیح کہتے ہیں اہل شام کی کچھ عورتیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں تو انہوں نے ان سے پوچھا: تم کہاں کی ہو؟ ان سب نے کہا: ہم اہل شام سے تعلق رکھتی ہیں، یہ سن کر وہ بولیں: شاید تم اس علاقہ کی ہو جہاں کی عورتیں بھی غسل خانوں میں داخل ہوتی ہیں، ان سب نے کہا: ہاں، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جو بھی عورت اپنے کپڑے اپنے گھر کے علاوہ کہیں اور اتارتی ہے تو وہ اپنے پردے کو جو اس کے اور اللہ کے درمیان ہے پھاڑ دیتی ہے۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ جریر کی روایت ہے جو زیادہ کامل ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الحمام /حدیث: 4010]
فوائد ومسائل:
1: مسلمان عورت کا اپنے گھر سے باہر پردے کے بارے میں غفلت برتنا حرام ہے اس لئے ان کا عوامی غسل خانوں میں جانا حرام ہے۔
اسی پر موجودی دور کی ایک مصیبت اور فتنہ بیوٹی پارلروں کو قیاس کیا جا سکتا ہے۔

2: عورت اور اللہ کے مابین پردی پھٹ جانے کا مفہوم یہ ہے کہ وہ اپنی عزت وکرامت کو از خود دائو پر لگا دیتی ہے اور رسوا اور ذلیل ہونے سے کسی طرح نہیں بچ سکتی۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4010]