سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. بَابُ: مَا يَدْعُو بِهِ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ
باب: گھر میں داخل ہوتے وقت کیا دعا پڑھے؟
حدیث نمبر: 3887
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ , حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ , عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ , فَذَكَرَ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ وَعِنْدَ طَعَامِهِ , قَالَ الشَّيْطَانُ: لَا مَبِيتَ لَكُمْ وَلَا عَشَاءَ , وَإِذَا دَخَلَ وَلَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ , قَالَ الشَّيْطَانُ: أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ , فَإِذَا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ طَعَامِهِ , قَالَ: أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ وَالْعَشَاءَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جب آدمی گھر میں داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ کا ذکر کرتا (یعنی بسم اللہ کہتا) ہے، تو شیطان اپنے لشکر سے کہتا ہے کہ آج یہاں نہ تمہاری رات گزر سکتی ہے (یعنی نہ سونے کی جگہ تم کو مل سکتی ہے) اور نہ تمہیں کھانا مل سکتا ہے، اور جب آدمی گھر میں بغیر اللہ کا ذکر کئے (یعنی بغیر بسم اللہ کہے) داخل ہوتا ہے، تو شیطان (اپنے لشکر سے) کہتا ہے کہ تم نے سونے کی جگہ پا لی، اگر آدمی کھانے کے وقت بھی اللہ کا نام نہیں لیتا ہے، تو شیطان کہتا ہے کہ تم نے کھانے اور سونے دونوں کی جگہ پا لی“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3887]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: ”جب آدمی اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے اور داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام لیتا ہے تو شیطان (اپنے ساتھیوں سے) کہتا ہے: ”تمہارے لیے (یہاں) نہ رات گزارنے کی جگہ ہے نہ رات کا کھانا ہے۔“ اور جب وہ گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ کا نام نہ لے تو شیطان (اپنے ساتھیوں سے) کہتا ہے: ”تمہیں رات گزارنے کی جگہ مل گئی۔“ اور جب کھانا کھاتے وقت بھی اللہ کا نام نہ لے تو وہ کہتا ہے: ”تمہیں رات گزارنے کو ٹھکانا بھی مل گیا اور رات کا کھانا بھی مل گیا۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3887]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأشربة 13 (2018)، سنن ابی داود/الأطعمة 16 (3765)، (تحفة الأشراف: 2797)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/346، 383) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم