سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. بَابُ: مَا يَدْعُو بِهِ الرَّجُلُ إِذَا سَافَرَ
باب: سفر کرتے وقت کون سی دعا پڑھے؟
حدیث نمبر: 3888
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ , وَأَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ , قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: وَقَالَ عَبْدُ الرَّحِيمِ: يَتَعَوَّذُ , إِذَا سَافَرَ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ , وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ , وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْرِ , وَدَعْوَةِ الْمَظْلُومِ , وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ" , وَزَادَ أَبُو مُعَاوِيَةَ , فَإِذَا رَجَعَ , قَالَ: مِثْلَهَا.
عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے تو یہ دعا پڑھتے: (اور عبدالرحیم کی روایت میں ہے کہ آپ پناہ مانگتے تھے): «اللهم إني أعوذ بك من وعثاء السفر وكآبة المنقلب والحور بعد الكور ودعوة المظلوم وسوء المنظر في الأهل والمال» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں سفر کی صعوبتوں اور مشقتوں سے، واپسی کے غم سے، ترقی کے بعد تنزلی سے، اور مظلوم کی بد دعا سے اور اہل و عیال کے سلسلے میں برا منظر دیکھنے سے“۔ اور ابومعاویہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ سفر سے لوٹتے وقت بھی یہی دعا پڑھتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3888]
حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر اختیار فرماتے تو فرماتے اور (راویِ حدیث) عبدالرحیم نے کہا: (ان الفاظ کے ذریعے سے) پناہ مانگتے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ، وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْرِ، وَدَعْوَةِ الْمَظْلُومِ، وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ» ”یا اللہ! میں سفر کی مشقت سے، پریشان کن واپسی سے، کمال کے بعد تنزل سے، مظلوم کی بد دعا سے اور اہل عیال و مال میں بری صورت حال نظر آنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔“ راویِ حدیث ابو معاویہ یہ اضافہ بھی بیان کرتے ہیں: ”اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپس تشریف لاتے تو یہی دعا پڑھتے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3888]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المناسک 75 (1343)، سنن الترمذی/الدعوات 42 (3439)، سنن النسائی/الاستعاذة 41 (5500)، (تحفة الأشراف: 5320)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/82، 83)، سنن الدارمی/الاستئذان 42 (2714) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم