🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

33. بَابُ: فِتْنَةِ الدَّجَّالِ وَخُرُوجِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَخُرُوجِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ
باب: فتنہ دجال، عیسیٰ بن مریم اور یاجوج و ماجوج کے ظہور کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4081
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارِ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , حَدَّثَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ , حَدَّثَنِي جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ , عَنْ مُؤْثِرِ بْنِ عَفَازَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ , قَالَ:" لَمَّا كَانَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , لَقِيَ إِبْرَاهِيمَ , وَمُوسَى , وَعِيسَى فَتَذَاكَرُوا السَّاعَةَ , فَبَدَءُوا بِإِبْرَاهِيمَ فَسَأَلُوهُ عَنْهَا , فَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ مِنْهَا عِلْمٌ , ثُمَّ سَأَلُوا مُوسَى , فَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ مِنْهَا عِلْمٌ , فَرُدَّ الْحَدِيثُ إِلَى عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ , فَقَالَ: قَدْ عُهِدَ إِلَيَّ فِيمَا دُونَ وَجْبَتِهَا , فَأَمَّا وَجْبَتُهَا فَلَا يَعْلَمُهَا إِلَّا اللَّهُ , فَذَكَرَ خُرُوجَ الدَّجَّالِ , قَالَ: فَأَنْزِلُ فَأَقْتُلُهُ , فَيَرْجِعُ النَّاسُ إِلَى بِلَادِهِمْ فَيَسْتَقْبِلُهُمْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ , وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ , فَلَا يَمُرُّونَ بِمَاءٍ إِلَّا شَرِبُوهُ , وَلَا بِشَيْءٍ إِلَّا أَفْسَدُوهُ , فَيَجْأَرُونَ إِلَى اللَّهِ , فَأَدْعُو اللَّهَ أَنْ يُمِيتَهُمْ فَتَنْتُنُ الْأَرْضُ مِنْ رِيحِهِمْ , فَيَجْأَرُونَ إِلَى اللَّهِ , فَأَدْعُو اللَّهَ , فَيُرْسِلُ السَّمَاءَ بِالْمَاءِ فَيَحْمِلُهُمْ فَيُلْقِيهِمْ فِي الْبَحْرِ , ثُمَّ تُنْسَفُ الْجِبَالُ , وَتُمَدُّ الْأَرْضُ مَدَّ الْأَدِيمِ , فَعُهِدَ إِلَيَّ مَتَى كَانَ ذَلِكَ كَانَتِ السَّاعَةُ مِنَ النَّاسِ , كَالْحَامِلِ الَّتِي لَا يَدْرِي أَهْلُهَا مَتَى تَفْجَؤُهُمْ بِوِلَادَتِهَا" , قَالَ الْعَوَّامُ: وَوُجِدَ تَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ سورة الأنبياء آية 96، وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اسراء (معراج) کی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام سے ملاقات کی، تو سب نے آپس میں قیامت کا ذکر کیا، پھر سب نے پہلے ابراہیم علیہ السلام سے قیامت کے متعلق پوچھا، لیکن انہیں قیامت کے متعلق کچھ علم نہ تھا، پھر سب نے موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا، تو انہیں بھی قیامت کے متعلق کچھ علم نہ تھا، پھر سب نے عیسیٰ بن مریم علیہما السلام سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: قیامت کے آ دھمکنے سے کچھ پہلے (دنیا میں جانے کا) مجھ سے وعدہ لیا گیا ہے، لیکن قیامت کے آنے کا صحیح علم صرف اللہ ہی کو ہے (کہ وہ کب قائم ہو گی)، پھر عیسیٰ علیہ السلام نے دجال کے ظہور کا تذکرہ کیا، اور فرمایا: میں (زمین پر) اتر کر اسے قتل کروں گا، پھر لوگ اپنے اپنے شہروں (ملکوں) کو لوٹ جائیں گے، اتنے میں یاجوج و ماجوج ان کے سامنے آئیں گے، اور ہر بلندی سے وہ چڑھ دوڑیں گے، وہ جس پانی سے گزریں گے اسے پی جائیں گے، اور جس چیز کے پاس سے گزریں گے، اسے تباہ و برباد کر دیں گے، پھر لوگ اللہ سے دعا کرنے کی درخواست کریں گے، میں اللہ سے دعا کروں گا کہ انہیں مار ڈالے (چنانچہ وہ سب مر جائیں گے) ان کی لاشوں کی بو سے تمام زمین بدبودار ہو جائے گی، لوگ پھر مجھ سے دعا کے لیے کہیں گے تو میں پھر اللہ سے دعا کروں گا، تو اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش نازل فرمائے گا جو ان کی لاشیں اٹھا کر سمندر میں بہا لے جائے گی، اس کے بعد پہاڑ ریزہ ریزہ کر دئیے جائیں گے، اور زمین چمڑے کی طرح کھینچ کر دراز کر دی جائے گی، پھر مجھے بتایا گیا ہے کہ جب یہ باتیں ظاہر ہوں تو قیامت لوگوں سے ایسی قریب ہو گی جس طرح حاملہ عورت کے حمل کا زمانہ پورا ہو گیا ہو، اور وہ اس انتظار میں ہو کہ کب ولادت کا وقت آئے گا، اور اس کا صحیح وقت کسی کو معلوم نہ ہو۔ عوام (عوام بن حوشب) کہتے ہیں کہ اس واقعہ کی تصدیق اللہ کی کتاب میں موجود ہے: «حتى إذا فتحت يأجوج ومأجوج وهم من كل حدب ينسلون» یہاں تک کہ جب یاجوج و ماجوج کھول دئیے جائیں گے، تو پھر وہ ہر ایک ٹیلے پر سے چڑھ دوڑیں گے (سورة الأنبياء: 96)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4081]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام سے بھی ہوئی۔ وہ آپس میں قیامت کے بارے میں بات چیت کرنے لگے۔ سب سے پہلے انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پوچھا لیکن ان کے پاس اس کے متعلق علم نہ تھا۔ پھر انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا، انہیں بھی اس کا علم نہ تھا۔ تب حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام سے بات کرنے کو کہا گیا تو انہوں نے فرمایا: مجھے قیامت قائم ہونے سے پہلے کی باتیں بتائی گئی ہیں، باقی رہا اس کے قائم ہونے کا وقت تو وہ اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں، پھر انہوں نے دجال کے ظہور کا ذکر کیا اور فرمایا: میں نازل ہو کر اسے قتل کروں گا، تب لوگ اپنے اپنے شہروں کو لوٹ جائیں گے۔ آگے سے انہیں یاجوج ماجوج ملیں گے جو ہر ٹیلے سے تیزی کے ساتھ اتر رہے ہوں گے۔ وہ جس پانی (چشمے وغیرہ) کے پاس سے گزریں گے پی جائیں گے اور جس چیز کے پاس سے گزریں گے، اسے خراب کر دیں گے۔ تب لوگ اللہ سے فریاد کریں گے، چنانچہ میں اللہ سے دعا کروں گا کہ ان (یاجوج ماجوج) کو تباہ کر دے۔ تب (ساری) زمین میں ان کی سرانڈ پھیل جائے گی۔ لوگ اللہ سے فریاد کریں گے، میں بھی اللہ سے دعا کروں گا، چنانچہ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش نازل فرمائے گا جو انہیں اٹھا کر سمندر میں پھینک دے گی۔ پھر پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کر دیا جائے گا اور زمین کو اس طرح کھینچ دیا جائے گا جس طرح چمڑے کو کھینچ دیا جاتا ہے۔ مجھے (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو) بتایا گیا ہے کہ جب یہ واقعہ ہو گا تو قیامت اتنی قریب ہو گی جیسے وہ حاملہ جس (کا وقت بالکل قریب ہو اور اس) کے گھر والوں کو پتہ نہ ہو کہ کب اچانک ولادت ہو جائے گی۔عوام بن حوشب رحمہ اللہ نے فرمایا: اس کی تائید قرآن مجید کی اس آیت سے بھی ہوتی ہے: ﴿حَتّٰى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٍ يَنِسِلُونَ﴾ [سورة الأنبياء: 96] حتیٰ کہ جب یاجوج اور ماجوج کو کھول دیا جائے گا تو وہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے آئیں گے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4081]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9590، ومصباح الزجاجة: 1440)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/375) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (مؤثر بن عفازہ مقبول عند المتابعہ ہیں، متابعت کی نہ ہونے وجہ سے یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن بعض ٹکڑے صحیح مسلم میں ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں