🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. بَابُ: مَنْزِلَةِ الْفُقَرَاءِ
باب: فقراء کا مقام و مرتبہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4122
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَدْخُلُ فُقَرَاءُ الْمُؤْمِنِينَ الْجَنَّةَ قَبْلَ الْأَغْنِيَاءِ , بِنِصْفِ يَوْمٍ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومنوں میں سے محتاج اور غریب لوگ مالداروں سے آدھے دن پہلے جنت میں داخل ہوں گے، آخرت کا آدھا دن (دنیا کے) پانچ سو سال کے برابر ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4122]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نادار مومن دولت مندوں سے آدھا دن، یعنی پانچ سو سال پہلے جنت میں جائیں گے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4122]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15101)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الزہد 37 (2354) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4123
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ الْمُخْتَارِ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِنَّ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ , قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ , بِمِقْدَارِ خَمْسِ مِائَةِ سَنَةٍ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فقیر مہاجرین، مالدار مہاجرین سے پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4123]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نادار مہاجرین غنی مہاجروں سے پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4123]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، تحفة الأشراف: 4239)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الزھد 37 (2351) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں محمد بن عبدالرحمن بن أبی لیلیٰ ضعیف و مضطرب الحدیث راوی ہیں، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن ہے، تراجع الألبانی رقم: 490)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
محمد بن أبي ليلي و عطية العوفي ضعيفان
و انظر ضعيف سنن الترمذي (2351)
و روي الإمام مسلم (2979) عن رسول اللّٰه ﷺ: ((إن فقراء المھاجرين يسبقون الأغنياء يوم القيامة إلي الجنة بأربعين عامًا)) وھو يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 525

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4124
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ , أَنْبَأَنَا أَبُو غَسَّانَ بَهْلُولٌ , حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , قَالَ: اشْتَكَى فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فَضَّلَ اللَّهُ بِهِ عَلَيْهِمْ أَغْنِيَاءَهُمْ , فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ الْفُقَرَاءِ , أَلَا أُبَشِّرُكُمْ أَنَّ فُقَرَاءَ الْمُؤْمِنِينَ , يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِنِصْفِ يَوْمٍ , خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ" , ثُمَّ تَلَا مُوسَى هَذِهِ الْآيَةَ وَإِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ سورة الحج آية 47.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ فقیر مہاجرین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کی شکایت کی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مالداروں کو ان پر فضیلت دی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے فقراء کی جماعت! کیا میں تم کو یہ خوشخبری نہ سنا دوں کہ غریب مومن، مالدار مومن سے آدھا دن پہلے جنت میں داخل ہوں گے، (پانچ سو سال پہلے) پھر موسیٰ بن عبیدہ نے یہ آیت تلاوت کی: «وإن يوما عند ربك كألف سنة مما تعدون» اور بیشک ایک دن تیرے رب کے نزدیک ایک ہزار سال کے برابر ہے جسے تم شمار کرتے ہو (سورۃ الحج: ۱۴۷)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4124]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نادار مہاجرین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ اللہ تعالیٰ نے اہل ثروت حضرات کو ان پر فضیلت عطا فرمائی ہے (جس کی وجہ سے وہ لوگ مالی نیکیاں زیادہ کرکے بلند درجات حاصل کرسکتے ہیں۔) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ناداروں کی جماعت! کیا میں تمہیں خوش خبری نہ دوں؟ نادار مومن دولت مند مومنوں سے آدھا دن، یعنی پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ پھر (یہ حدیث سنا کر حدیث کے ایک راوی) حضرت موسیٰ (بن عبیدہ رحمہ اللہ) نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَإِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ﴾ [سورة الحج: 47] آپ کے رب کے نزدیک ایک دن تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4124]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7254، ومصباح الزجاجة: 1460) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (موسیٰ بن عبیدہ ضعیف راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
موسي بن عبيدة: ضعيف
ومن أجله ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 525

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں