🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

34. بَابُ: صِفَةِ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: امت محمدیہ کی صفات۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4282
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , قَالَ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ , عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ , عَنْ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَرِدُونَ عَلَيَّ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنَ الْوُضُوءِ سِيمَاءُ أُمَّتِي , لَيْسَ لِأَحَدٍ غَيْرِهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میرے پاس آؤ گے اس حال میں کہ وضو کی وجہ سے تمہارے ہاتھ پاؤں اور پیشانیاں روشن ہوں گی، یہ میری امت کا نشان ہو گا، اور کسی امت کا یہ نشان نہ ہو گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4282]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن تم میرے پاس (حوض پر) آؤ گے۔ تو وضو کی وجہ سے تمہارے چہرے اور ہاتھ پاؤں چمکتے ہوں گے۔ یہ میری امت کی علامت ہے جو کسی اور امت کو حاصل نہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4282]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطہارة 12 (247)، (تحفة الأشراف: 13399) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4283
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ , فَقَالَ:" أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟" , قُلْنَا: بَلَى , قَالَ:" أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟" , قُلْنَا: نَعَمْ , قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ , وَذَلِكَ أَنَّ الْجَنَّةَ لَا يَدْخُلُهَا إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ , وَمَا أَنْتُمْ فِي أَهْلِ الشِّرْكِ , إِلَّا كَالشَّعَرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ , أَوْ كَالشَّعَرَةِ السَّوْدَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَحْمَرِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک خیمے میں تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس پر راضی اور خوش ہو گے کہ تمہاری تعداد جنت والوں کے چوتھائی ہو، ہم نے کہا: کیوں نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم خوش ہو گے کہ تمہاری تعداد جنت والوں کے ایک تہائی ہو، ہم نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، مجھے امید ہے کہ تمہاری تعداد تمام اہل جنت کا نصف ہو گی، ایسا اس لیے ہے کہ جنت میں صرف مسلمان ہی جائے گا، اور مشرکین کے مقابلے میں تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کالے بیل کی جلد پر سفید بال یا سرخ بیل کی جلد پر کالا بال۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4283]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ہم لوگ ایک خیمے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات سے خوش ہو کہ تمہاری تعداد تمام جنتیوں کی چوتھائی ہو؟ ہم نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات سے خوش ہو کہ تمہاری تعداد تمام جنتیوں کی تہائی ہو؟ ہم نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مجھے امید ہے کہ تمہاری تعداد تمام جنتیوں کا نصف ہوگی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جنت میں صرف مسلمان ہی داخل ہوگا۔ اور مشرکوں کے مقابلے میں تمہاری تعداد ایسے ہے جیسے سیاہ بیل کی جلد پر ایک سفید بال یا سرخ بیل کی جلد پر ایک سیاہ بال۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4283]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الرقاق 45 (6526)، صحیح مسلم/الإیمان 95 (221)، سنن الترمذی/صفة الجنة 13 (2547)، (تحفة الأشراف: 9483)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصرالصلاة 24 (88)، مسند احمد (1/386، 437، 445) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4284
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ , وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَجِيءُ النَّبِيُّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَعَهُ الرجل , يَجِيءُ النَّبِيُّ وَمَعَهُ الرَّجُلَانِ , وَيَجِيءُ النَّبِيُّ وَمَعَهُ الثَّلَاثَةُ , وَأَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ وَأَقَلُّ , فَيُقَالُ لَهُ: هَلْ بَلَّغْتَ قَوْمَكَ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ فَيُدْعَى قَوْمُهُ , فَيُقَالُ: هَلْ بَلَّغَكُمْ؟ فَيَقُولُونَ: لَا , فَيُقَالُ: مَنْ يَشْهَدُ لَكَ؟ فَيَقُولُ: مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ , فَتُدْعَى أُمَّةُ مُحَمَّدٍ , فَيُقَالُ: هَلْ بَلَّغَ هَذَا؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ , فَيَقُولُ: وَمَا عِلْمُكُمْ بِذَلِكَ؟ فَيَقُولُونَ: أَخْبَرَنَا نَبِيُّنَا بِذَلِكَ , أَنَّ الرُّسُلَ قَدْ بَلَّغُوا فَصَدَّقْنَاهُ , قَالَ: فَذَلِكُمْ قَوْلُهُ تَعَالَى: وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا سورة البقرة آية 143.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (قیامت کے دن) ایک نبی آئے گا اور اس کے ساتھ دو ہی آدمی ہوں گے، اور ایک نبی آئے گا اس کے ساتھ تین آدمی ہوں گے، اور کسی نبی کے ساتھ زیادہ لوگ ہوں گے، کسی کے ساتھ کم، اس نبی سے پوچھا جائے گا: کیا تم نے اپنی قوم تک اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا تھا؟ وہ کہے گا: جی ہاں پھر اس کی قوم بلائی جائے گی اور پوچھا جائے گا: کیا اس نے تم کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہیں گے: نہیں نبی سے پوچھا جائے گا: تمہارا گواہ کون ہے؟ وہ کہے گا: محمد اور ان کی امت، پھر محمد کی امت بلائی جائے گی اور کہا جائے گا: کیا اس نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہے گی: جی ہاں اس سے پوچھا جائے گا: تمہیں کیسے معلوم ہوا؟ جواب دے گی کہ ہمارے نبی نے ہم کو یہ بتایا کہ رسولوں نے پیغام پہنچا دیا ہے تو ہم نے ان کی تصدیق کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی اللہ تعالیٰ کے قول: «وكذلك جعلناكم أمة وسطا لتكونوا شهداء على الناس ويكون الرسول عليكم شهيدا» اسی طرح ہم نے تم کو امت وسط بنایا تاکہ تم گواہ رہو لوگوں پر اور رسول گواہ رہیں تمہارے اوپر (سورة البقرة: 143) کا مطلب ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4284]
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (قیامت کے دن) ایک نبی آئے گا، اس کے ساتھ صرف دو آدمی ہوں گے (جو اس پر ایمان لائے) اور ایک نبی آئے گا اس کے ساتھ صرف تین آدمی ہوں گے۔ (اسی طرح تمام نبیوں علیہ السلام کے ساتھ) زیادہ اور کم افراد ہوں گے۔ نبی سے کہا جائے گا: کیا تم نے اپنی قوم کو (اللہ کے احکام) پہنچا دیے تھے؟ وہ نبی فرمائے گا: ہاں۔ اس قوم کو بلا کر کہا جائے گا: کیا اس نے تمہیں (اللہ کے احکام) پہنچا دیے تھے؟ وہ کہیں گے: نہیں۔ (نبی سے) کہا جائے گا: آپ کا گواہ کون ہے؟ وہ فرمائے گا: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی امت۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے کہا جائے گا کہ کیا اس نبی نے (اپنی قوم کو اللہ کے) احکام پہنچائے تھے؟ مومن کہیں گے: ہاں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تمہیں کیا معلوم؟ مومن کہیں گے: ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی کہ انبیائے کرام علیہ السلام نے (اپنی اپنی امت کو اللہ کے احکام) پہنچائے تھے۔ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا تسلیم کیا۔ اللہ کے اس فرمان کا یہی مطلب ہے: ﴿وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا﴾ [سورة البقرة: 143] اور (جیسے ہم نے تمہیں ہدایت دی، اسی طرح) ہم نے تمہیں افضل امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو جاؤ اور رسول تم پر گواہ ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4284]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء 3 (3339)، سنن الترمذی/تفسیر القرآن 3 (2961)، (تحفة الأشراف: 4003)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/9، 32، 58) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4285
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ , عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ رِفَاعَةَ الْجُهَنِيِّ , قَالَ: صَدَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِمَا مِنْ عَبْدٍ يُؤْمِنُ ثُمَّ يُسَدِّدُ , إِلَّا سُلِكَ بِهِ فِي الْجَنَّةِ , وَأَرْجُو أَلَّا يَدْخُلُوهَا حَتَّى تَبَوَّءُوا أَنْتُمْ , وَمَنْ صَلَحَ مِنْ ذَرَارِيِّكُمْ مَسَاكِنَ فِي الْجَنَّةِ , وَلَقَدْ وَعَدَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابِ".
رفاعہ جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، کوئی بندہ ایسا نہیں ہے، جو ایمان لائے، پھر اس پر جما رہے مگر وہ اس کی وجہ سے جنت میں داخل کیا جائے گا، اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ اس میں داخل نہ ہوں گے یہاں تک کہ تم اور تمہاری اولاد میں جو لوگ نیک ہوئے جنت کے مکانات میں ٹھکانا نہ بنا لیں، اور مجھ سے میرے رب نے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار لوگوں کو بغیر حساب و کتاب جنت میں داخل کرے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4285]
حضرت رفاعہ (بن عرابہ) جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر سے واپس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے، جو آدمی ایمان لائے، پھر سیدھی راہ پر قائم رہے، اسے ضرور جنت میں پہنچایا جائے گا، اور مجھے امید ہے کہ وہ لوگ (دوسری امتوں کے جنتی) اس وقت تک داخل نہیں ہوں گے جب تک تم اور تمہاری نیک اولادیں جنت کے گھروں میں نہ پہنچ جائیں اور میرے رب عزوجل نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار افراد کو بغیر حساب کے جنت میں داخل کرے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4285]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3611، ومصباح الزجاجة: 1534)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/16) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4286
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ الْأَلْهَانِيُّ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" وَعَدَنِي رَبِّي سُبْحَانَهُ أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا , لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ , مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا وَثَلَاثُ حَثَيَاتٍ مِنْ حَثَيَاتِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ".
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میرے رب (سبحانہ و تعالیٰ) نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار لوگوں کو جنت میں داخل کرے گا، نہ ان کا حساب ہو گا، اور نہ ان پر کوئی عذاب، ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہوں گے، اور ان کے سوا میرے رب عزوجل کی مٹھیوں میں سے تین مٹھیوں کے برابر بھی ہوں گے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4286]
حضرت ابو امامہ (صدی بن عجلان) باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے رب (سبحانہ وتعالیٰ) نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار افراد کو جنت میں داخل کرے گا، جن سے نہ کوئی حساب لیا جائے گا اور نہ انہیں کوئی عذاب دیا جائے گا، ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے اور (مزید) میرے رب عزوجل کی تین لپیں ہوں گی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4286]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/صفة القیامة 12 (2437)، (تحفة الأشراف: 4924)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/268) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4287
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ النَّحَّاسِ الرَّمْلِيُّ , وَأَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ , قَالَا: حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ , عَنْ ابْنِ شَوْذَبٍ , عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نُكْمِلُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَبْعِينَ أُمَّةً , نَحْنُ آخِرُهَا وَخَيْرُهَا".
معاویہ بن حیدۃ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم قیامت کے دن ستر امتوں کا تکملہ ہوں گے، اور ہم ان سب سے آخری اور بہتر امت ہوں گے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4287]
حضرت بہز بن حکیم اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا (حضرت معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن ہمارے سمیت ستر قومیں (امتیں) ہوں گی۔ ہم ان میں سے سب سے آخری اور سب سے افضل (امت) ہوں گے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4287]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/تفسیر القرآن 4 (3001)، (تحفة الأشراف: 11387)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4474، 5/3، 5)، سنن الدارمی/الرقاق 47 (2802) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4288
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خِدَاشٍ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ , عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" إِنَّكُمْ وَفَّيْتُمْ سَبْعِينَ أُمَّةً , أَنْتُمْ خَيْرُهَا وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللَّهِ".
معاویہ بن حیدۃ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تمہیں لے کر ستر امتیں پوری ہوئیں، اور تم ان میں سب سے بہتر ہو، اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ باعزت ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4288]
حضرت معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ستر امتوں کی تعداد کو پورا کیا ہے۔ ان میں سے تم سب سے افضل اور اللہ کے ہاں معزز ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4288]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4289
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاق الْجَوْهَرِيُّ , حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ الْأَصْبَهَانِيُّ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" أَهْلُ الْجَنَّةِ عِشْرُونَ وَمِائَةُ , صَفٍّ ثَمَانُونَ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ , وَأَرْبَعُونَ مِنْ سَائِرِ الْأُمَمِ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت والوں کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی، ان میں سے اسی صفیں اس امت کے لوگوں کی ہوں گی، اور چالیس صفیں اور امتوں میں سے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4289]
حضرت بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (میدان محشر میں) اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی۔ ان میں سے اسی (80) اس امت کی ہوں گی اور چالیس صفیں باقی تمام امتوں کی ہوں گی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4289]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/صفة الجنة 13 (2546)، (تحفة الأشراف: 1938)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/347، 355، 361) سنن الدارمی/الرقاق 111 (2877) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4290
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ , عَنْ أَبِي نَضْرَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" نَحْنُ آخِرُ الْأُمَمِ وَأَوَّلُ مَنْ يُحَاسَبُ , يُقَالُ: أَيْنَ الْأُمَّةُ الْأُمِّيَّةُ وَنَبِيُّهَا؟ فَنَحْنُ الْآخِرُونَ الْأَوَّلُونَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم آخری امت ہیں اور سب سے پہلے حساب کے لیے بلائے جائیں گے، کہا جائے گا: امت اور اس کے نبی کہاں ہیں؟ تو ہم اول بھی ہیں اور آخر بھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4290]
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم آخری امت ہیں اور ہمارا حساب سب سے پہلے ہوگا، کہا جائے گا: کہاں ہے امی امت اور ان کا نبی؟ تو ہم بعد میں آنے والے (جنت میں داخلے کے لحاظ سے) سب سے مقدم ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4290]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6500، ومصباح الزجاجة: 1535)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/16) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4291
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ , عَنْ أَبِي بُرْدَةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا جَمَعَ اللَّهُ الْخَلَائِقَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ , أُذِنَ لِأُمَّةِ مُحَمَّدٍ فِي السُّجُودِ فَيَسْجُدُونَ لَهُ طَوِيلًا , ثُمَّ يُقَالُ: ارْفَعُوا رُءُوسَكُمْ قَدْ جَعَلْنَا عِدَّتَكُمْ فِدَاءَكُمْ مِنَ النَّارِ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام مخلوق کو جمع کرے گا، تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو سجدے کا حکم دے گا، وہ بڑی دیر تک اس کو سجدہ کرتے رہیں گے، پھر حکم ہو گا اپنے سروں کو اٹھاؤ ہم نے تمہاری تعداد کے مطابق تمہارے فدئیے جہنم سے کر دئیے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4291]
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کو جمع فرما لے گا، تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو سجدہ کرنے کی اجازت دی جائے گی، وہ اللہ کو طویل سجدہ کریں گے، پھر کہا جائے گا: اپنے سر اٹھاؤ، ہم نے تمہاری تعداد کے مطابق جہنمیوں کو تمہارا فدیہ بنا دیا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4291]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجة، (تحفة الأشراف: 9111، ومصباح الزجاجة: 1536) (ضعیف جدا)» ‏‏‏‏ (جبارہ بن المغلس ضعیف اور عبد الاعلی بن ابی المساور متروک راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا وجملة الفداء عند م
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جدًا
جبارة وعبدالأعلى : مجروحان (تقدما:740 ، 87) و حديث مسلم (2767) يُغني عنه ۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں