سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ: جَمْعِ الْمُسْتَحَاضَةِ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ وَغُسْلِهَا إِذَا جَمَعَتْ
باب: مستحاضہ کے ایک غسل سے دو نمازوں کو جمع کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 360
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً مُسْتَحَاضَةً عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ لَهَا:" إِنَّهُ عِرْقٌ عَانِدٌ، وَأُمِرَتْ أَنْ تُؤَخِّرَ الظُّهْرَ وَتُعَجِّلَ الْعَصْرَ وَتَغْتَسِلَ لَهُمَا غُسْلًا وَاحِدًا، وَتُؤَخِّرَ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلَ الْعِشَاءَ وَتَغْتَسِلَ لَهُمَا غُسْلًا وَاحِدًا، وَتَغْتَسِلَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ غُسْلًا وَاحِدًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک مستحاضہ عورت سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کہا گیا کہ یہ ایک نہ بند ہونے والی رگ ہے، اور اسے حکم دیا گیا کہ وہ ظہر کو مؤخر کرے اور عصر کو جلدی پڑھ لے، اور ان دونوں کے لیے ایک غسل کرے، اور مغرب کو مؤخر کرے، عشاء کو جلدی پڑھ لے، اور ان دونوں کے لیے ایک غسل کرے، اور صبح کی نماز کے لیے ایک غسل کرے۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 360]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں استحاضہ آتا تھا۔ اسے کہا گیا: ”تحقیق یہ ایک سرکش رگ کا خون ہے۔“ اور اسے حکم دیا گیا کہ ”وہ ظہر کو مؤخر کرے اور عصر کو جلدی کرے اور دونوں کے لیے ایک غسل کرے۔ اسی طرح مغرب کو مؤخر کرے اور عشاء کو جلدی کرے اور دونوں کے لیے ایک غسل کرے۔ اور صبح کی نماز کے لیے الگ غسل کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 360]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 214 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 361
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، قالت: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهَا مُسْتَحَاضَةٌ، فَقَالَ:" تَجْلِسُ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ، وَتُؤَخِّرُ الظُّهْرَ وَتُعَجِّلُ الْعَصْرَ وَتَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي، وَتُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلُ الْعِشَاءَ وَتَغْتَسِلُ وَتُصَلِّيهِمَا جَمِيعًا، وَتَغْتَسِلُ لِلْفَجْرِ".
زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میں مستحاضہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے حیض کے دنوں میں بیٹھ جاؤ (نماز نہ پڑھو) پھر غسل کرو، اور ظہر کو مؤخر کرو، اور عصر میں جلدی کرو، اور غسل کرو، اور نماز پڑھو، اور مغرب کو مؤخر کرو، اور عشاء کو جلدی کرو، اور غسل کر کے (دونوں کو ایک ساتھ) پڑھو، اور فجر کے لیے (الگ ایک) غسل کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 361]
حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ”تحقیق میں استحاضہ والی عورت ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے حیض کے دنوں میں نماز سے رکی رہو، پھر غسل کرو اور ظہر کو مؤخر کرو اور عصر کو جلدی کرو اور غسل کر کے دونوں نمازیں پڑھو۔ اسی طرح مغرب کو مؤخر کرو اور عشاء کو جلدی کرو اور غسل کر کے دونوں نمازیں اکٹھی پڑھو۔ اور فجر کے لیے الگ غسل کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 361]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف 15881) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح