سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ: الْفَرْقِ بَيْنَ دَمِ الْحَيْضِ وَالاِسْتِحَاضَةِ
باب: حیض اور استحاضہ کے خون میں فرق کا بیان۔
حدیث نمبر: 362
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو وَهُوَ ابْنُ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِي حُبَيْشٍ، أَنَّهَا كَانَتْ تُسْتَحَاضُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَانَ دَمُ الْحَيْضِ فَإِنَّهُ دَمٌ أَسْوَدُ يُعْرَفُ فَأَمْسِكِي عَنِ الصَّلَاةِ، وَإِذَا كَانَ الْآخَرُ فَتَوَضَّئِي فَإِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ". قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ هَذَا مِنْ كِتَابِهِ.
فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہیں استحاضہ آتا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”جب حیض کا خون ہو تو وہ سیاہ خون ہوتا ہے پہچان لیا جاتا ہے، تو تم نماز سے رک جاؤ، اور جب دوسرا ہو تو وضو کرو، کیونکہ یہ رگ (کا خون) ہے“۔ محمد بن مثنی کا کہنا ہے کہ ہم سے یہ حدیث ابن ابی عدی نے اپنی کتاب سے بیان کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 362]
حضرت فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ انہیں استحاضہ آتا تھا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”جب حیض کا خون آئے، اور یہ سیاہ خون ہوتا ہے اور پہچانا جاتا ہے، تو نماز سے رک جاؤ۔ اور جب دوسرا خون ہو تو وضو کر کے نماز پڑھتی رہو کیونکہ یہ ایک رگ کا خون ہے۔“ محمد بن مثنیٰ نے فرمایا: ”ابن ابی عدی نے یہ حدیث ہمیں اپنی کتاب سے بیان فرمائی (جب کہ آئندہ حدیث: ۳۶۳ اپنے حافظے سے بیان فرمائی۔)“ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 362]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 216 (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 363
وأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ مِنْ حِفْظِهِ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ كَانَتْ تُسْتَحَاضُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ دَمَ الْحَيْضِ دَمٌ أَسْوَدُ يُعْرَفُ، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَأَمْسِكِي عَنِ الصَّلَاةِ، فَإِذَا كَانَ الْآخَرُ فَتَوَضَّئِي وَصَلِّي". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: قَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمْ مَا ذَكَرَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کو استحاضہ کا خون آتا تھا تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حیض کا خون سیاہ ہوتا ہے پہچان لیا جاتا ہے، تو جب یہ ہو تو نماز سے رک جاؤ، اور جب دوسرا ہو تو وضو کر کے نماز پڑھو“۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس حدیث کو کئی لوگوں نے روایت کیا ہے، ان میں سے کسی نے بھی اس چیز کا ذکر نہیں کیا ہے جس کا ابن ابی عدی نے ذکر کیا ہے «واللہ تعالیٰ اعلم» ۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 363]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کو استحاضہ آتا تھا، تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تحقیق حیض کا خون سیاہ ہوتا ہے اور پہچانا جاتا ہے، جب یہ خون ہو تو نماز سے رک جاؤ اور جب دوسرا خون (استحاضہ) ہو تو وضو کر کے نماز پڑھو۔“ امام ابو عبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ”یہ حدیث بہت سے راویوں نے بیان کی ہے لیکن کسی نے وہ بیان نہیں کیے جو ابن ابی عدی نے ذکر کیے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 363]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 217 (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (217) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 323
حدیث نمبر: 363M
قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: قَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمْ مَا ذَكَرَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس حدیث کو کئی لوگوں نے روایت کیا ہے، ان میں سے کسی نے بھی اس چیز کا ذکر نہیں کیا ہے جس کا ابن ابی عدی نے ذکر کیا ہے «واللہ تعالیٰ اعلم» ۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 363M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «t»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:
حدیث نمبر: 364
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: اسْتُحِيضَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ، فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ، أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَتَوَضَّئِي وَصَلِّي، فَإِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، قِيلَ لَهُ: فَالْغُسْلُ؟ قَالَ: وَذَلِكَ لَا يَشُكُّ فِيهِ أَحَدٌ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: قَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ وَتَوَضَّئِي غَيْرُ حَمَّادٍ، وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا مستحاضہ ہوئیں، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! مجھے استحاضہ کا خون آتا رہتا ہے، اور میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں، کیا نماز ترک کر دوں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو ایک رگ (کا خون) ہے، حیض نہیں ہے، تو جب حیض کا خون آئے تو نماز ترک کر دو، اور جب ختم ہو جائے تو اپنے (جسم) سے خون دھو لو اور وضو کرو اور نماز پڑھو، یہ تو بس رگ (کا خون) ہے حیض نہیں ہے، (راوی سے) پوچھا گیا غسل کرے؟ تو اس نے کہا: اس میں کسی کو شک نہیں“ ۱؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس حدیث کو ہشام بن عروہ سے کئی لوگوں نے روایت کیا ہے، اور اس میں «وتوضئي» کا ذکر حماد کے علاوہ کسی نے نہیں کیا ہے، «واللہ تعالیٰ اعلم» ۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 364]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کو استحاضہ آتا تھا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے استحاضہ (بے قاعدہ خون) آتا ہے اور میں کبھی پاک نہیں ہوتی، تو کیا میں نماز چھوڑ دوں؟“ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو ایک رگ کا خون ہے، جب حیض آنے لگے تو نماز چھوڑ دو، اور جب وہ رک جائے تو خون دھو کر وضو کرو اور نماز پڑھو کیونکہ یہ ایک رگ کا خون ہے، حیض نہیں ہے۔“ راوی سے کہا گیا: کیا حیض کے اختتام پر وہ غسل کرے گی؟ انہوں نے کہا: ”اس میں تو کسی کو شک ہی نہیں۔“ امام ابوعبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ اس حدیث کو ہشام بن عروہ سے بہت سے راویوں نے بیان کیا ہے مگر حماد کے سوا کسی نے «تَوَضَّئِي» ”تم وضو کرو“ کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔ واللہ أعلم۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 364]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 218 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی حیض سے پاک ہونے کے بعد ایک مرتبہ تو غسل ضروری ہے ہی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 364M
قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: قَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ وَتَوَضَّئِي غَيْرُ حَمَّادٍ، وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس حدیث کو ہشام بن عروہ سے کئی لوگوں نے روایت کیا ہے، اور اس میں «وتوضئي» کا ذکر حماد کے علاوہ کسی نے نہیں کیا ہے «واللہ تعالیٰ اعلم» ۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 364M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «t»
وضاحت: ۱؎: یعنی حیض سے پاک ہونے کے بعد ایک مرتبہ تو غسل ضروری ہے ہی۔
قال الشيخ زبير على زئي:
حدیث نمبر: 365
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَأَمْسِكِي عَنِ الصَّلَاةِ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے استحاضہ کا خون آ رہا ہے اور میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو رگ (کا خون) ہے حیض نہیں ہے، تو جب حیض آئے تو نماز سے رک جاؤ، اور جب ختم ہو جائے تو اپنے بدن سے خون دھو لو، اور نماز پڑھو“۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 365]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے استحاضے کا خون آتا ہے اور میں خون سے پاک نہیں ہوتی“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو ایک رگ ہے، حیض نہیں۔ جب حیض آنے لگے تو نماز سے رک جاؤ اور جب حیض ختم ہو جائے تو خون دھو کر نماز پڑھو۔“ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 365]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ، النسائي، (تحفة الأشراف 16975) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 366
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: قالت فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا ذَهَبَ قَدْرُهَا فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں، کیا نماز ترک کر دوں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو ایک رگ (کا خون) ہے حیض نہیں ہے، تو جب حیض آئے تو نماز ترک کر دو، اور جب اس کے بقدرگزر جائے تو اپنے بدن سے خون دھو لو، اور نماز پڑھو“۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 366]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ”میں کبھی خون سے پاک نہیں ہوتی تو کیا میں نماز چھوڑ دوں؟“ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو ایک رگ کا خون ہے، حیض نہیں۔ جب حیض آنے لگے تو نماز چھوڑ دو اور جب حیض کے دن گزر جائیں تو خون دھو کر نماز پڑھو۔“ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 366]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 219 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 367
أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قال: سَمِعْتُ هِشَامًا يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ، قالت: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَا أَطْهُرُ، أَفَأَتْرُكُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ:" لَا إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ، قَالَ خَالِدٌ: وَفِيمَا قَرَأْتُ عَلَيْهِ، وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ، ثُمَّ صَلِّي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں، کیا نماز ترک کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں یہ تو رگ (کا خون) ہے، (خالد کہتے ہیں: اور اس روایت میں جسے میں نے ہشام پر پڑھا ہے «وليست بالحيضة» کا جملہ نہیں ہے) تو جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دو، اور جب ختم ہو جائے تو اپنے (جسم) سے خون دھو لو، پھر نماز پڑھو۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 367]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں پاک نہیں ہوتی تو کیا نماز چھوڑ دوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، یہ تو ایک رگ ہے، حیض نہیں۔ جب حیض شروع ہو تو نماز چھوڑ دو اور جب ختم ہو جائے تو خون دھو کر نماز پڑھو۔“ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 367]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 220 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح