سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. بَابُ: الصَّلاَةِ إِلَى ثَوْبٍ فِيهِ تَصَاوِيرُ
باب: تصویر والے کپڑے کی جانب (رخ کر کے) نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 762
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، قال: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَ فِي بَيْتِي ثَوْبٌ فِيهِ تَصَاوِيرُ فَجَعَلْتُهُ إِلَى سَهْوَةٍ فِي الْبَيْتِ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" يَا عَائِشَةُ أَخِّرِيهِ عَنِّي"، فَنَزَعْتُهُ فَجَعَلْتُهُ وَسَائِدَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے گھر ایک کپڑا تھا جس میں تصویریں تھیں، میں نے اسے گھر کے ایک روشندان پر لٹکا دیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرح (رخ کر کے) نماز پڑھتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! اسے میرے پاس سے ہٹا دو“، تو میں نے اسے اتار لیا، اور اس کے تکیے بنا ڈالے۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 762]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے گھر میں ایک تصاویر والا کپڑا تھا۔ میں نے اسے گھر میں ایک طاق کے سامنے (بطور پردہ) لٹکا لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طاق کی طرف نماز پڑھا کرتے تھے، اس لیے آپ نے فرمایا: ”اے عائشہ! اسے میرے سامنے سے ہٹا دو۔“ میں نے اتار کر اس کے تکیے بنا لیے۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 762]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: صحیح مسلم/اللباس 26 (2106)، (تحفة الأشراف: 17494)، مسند احمد 6/172، سنن الدارمی/الاستئذان 33 (2704)، ویأتی عند المؤلف في الزینة فی المجتبی 111 (برقم: 5356) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه