پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
83. باب : تزيين القرآن بالصوت
باب: خوش الحانی سے قرآن پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1023
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ عَنْ قِرَاءَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَاتِهِ، قَالَتْ:" مَا لَكُمْ وَصَلَاتَهُ، ثُمَّ نَعَتَتْ قِرَاءَتَهُ فَإِذَا هِيَ تَنْعَتُ قِرَاءَةً مُفَسَّرَةً حَرْفًا حَرْفًا".
یعلیٰ بن مملک سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت اور نماز کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: تم کہاں اور آپ کی نماز کہاں! پھر انہوں نے آپ کی قرأت بیان کی جس کا ایک ایک حرف بالکل واضح تھا۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1023]
حضرت یعلی بن مملک رحمہ اللہ نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت اور نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”تمہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے کیا سروکار؟“ (اس پر عمل کرنا بہت مشکل ہے)۔ پھر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کی نقل فرمائی (اسے بیان کیا) تو وہ ایسی قراءت تھی ”جس کا ایک ایک حرف الگ الگ تھا“ (ہر آیت اور جملے پر وقف ہوتا تھا)۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1023]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 355 (1466) مطولاً، سنن الترمذی/فضائل القرآن 23 (2923) مطولاً، (تحفة الأشراف: 18226)، مسند احمد 6/294، 297، 300، 308، وأعادہ المؤلف برقم: 1630 (صحیح) (متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے ورنہ اس کے راوی ’’یعلی‘‘ لین الحدیث ہیں، دیکھئے إرواء رقم: 343)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
1023
| ما لكم وصلاته ثم نعتت قراءته فإذا هي تنعت قراءة مفسرة حرفا حرفا |
جامع الترمذي |
2927
| يقطع قراءته يقول الحمد لله رب العالمين |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1023 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1023
1023۔ اردو حاشیہ: قرأت صاف ستھری ہونی چاہیے۔ ہر ایک لفظ الگ الگ سمجھ میں آنا چاہیے۔ ہر آیت اور جملے پر ٹھہرنا چاہیے تاکہ پڑھتے اور سنتے وقت معانی و مفہوم کی طرف توجہ ہو۔ معانی دل میں نقش ہوں اور دل پر اثر ہو اور نصیحت حاصل ہو جو قرآن کا اصل مقصد ہے، ورنہ خالی تجوید سے تو کوئی فائدہ نہ ہو گا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1023]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2927
سورۃ فاتحہ کی قرأت کا بیان۔
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے، آپ: «الحمد لله رب العالمين» پڑھتے، پھر رک جاتے، پھر «الرحمن الرحيم» پڑھتے پھر رک جاتے، اور «ملك يوم الدين» پڑھتے تھے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب القراءات/حدیث: 2927]
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے، آپ: «الحمد لله رب العالمين» پڑھتے، پھر رک جاتے، پھر «الرحمن الرحيم» پڑھتے پھر رک جاتے، اور «ملك يوم الدين» پڑھتے تھے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب القراءات/حدیث: 2927]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یعنی ﴿مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾ کی جگہ ﴿مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾ پڑھتے تھے۔
2؎:
یعنی:
ابوعبید قاسم بن سلام ﴿مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾ کی بجائے ﴿مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾ کو پڑھنا پسند کرتے تھے۔
وضاحت:
1؎:
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یعنی ﴿مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾ کی جگہ ﴿مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾ پڑھتے تھے۔
2؎:
یعنی:
ابوعبید قاسم بن سلام ﴿مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾ کی بجائے ﴿مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾ کو پڑھنا پسند کرتے تھے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2927]
Sunan an-Nasa'i Hadith 1023 in Urdu
يعلى بن مملك الحجازي ← أم سلمة زوج النبي