صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
6ق. باب الْكَشْفِ عَنْ مَعَايِبِ رُوَاةِ الْحَدِيثِ وَنَقَلَةِ الأَخْبَارِ وَقَوْلِ الأَئِمَّةِ فِي ذَلِكَ
باب: حدیث کے راویوں کا عیب بیان کرنا درست ہے اور وہ غیبت میں داخل نہیں۔
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 36
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّضْرَ، يَقُولُ: سُئِلَ ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ حَدِيثٍ لِشَهْرٍ، وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى أُسْكُفَّةِ الْبَابِ، فَقَالَ: إِنَّ شَهْرًا نَزَكُوهُ، إِنَّ شَهْرًا نَزَكُوهُ، قَالَ مٌسْلِمٌ: رَحِمَهُ اللَّهُ، يَقُولُ: أَخَذَتْهُ أَلْسِنَةُ النَّاسِ تَكَلَّمُوا فِيهِ
نضر کہتے ہیں کہ ابن عون سے شہر (بن حوشب) کی حدیث کے بارے میں سوال کیا گیا، (اس وقت) وہ (اپنی) دہلیز پر کھڑے تھے، وہ کہنے لگے: انہوں (محدثین) نے یقیناً شہر کو مطعون ٹھہرایا ہے، انہوں نے شہر کو مطعون ٹھہرایا ہے۔ امام مسلم رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگوں کی زبانوں نے انہیں نشانہ بنایا، ان کے بارے میں باتیں کیں۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 36]
نضر بن شمیل رحمہ اللہ کہتے ہیں، ابن عون رحمہ اللہ سے جب کہ وہ دروازے کی دہلیز پر کھڑے تھے شہر (راوی کا نام ہے) کی حدیثوں کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے جواب دیا: ”شہر بن حوشب پر محدثین رحمہم اللہ نے جرح کی ہے، شہر پر لوگوں نے طعن کیا ہے۔“ امام مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ان کا مقصد ہے، لوگوں کی زبانوں نے اس پر گرفت کی ہے، اس کو جرح اور نقد کا نشانہ بنایا ہے۔“ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 36]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه الترمذي في ((جامعه)) في الاستئذان، باب ماجاء في التسليم علي النساء بعد حديث (2697) انظر ((التحفة)) (18921)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 37
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِر، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، قَالَ: قَال شُعْبَةُ: وَقَدْ لَقِيتُ شَهْرًا، فَلَمْ أَعْتَدَّ بِهِ
ہمیں شبابہ نے بتایا، کہا: شعبہ نے کہا: میں شہر سے ملا لیکن (روایت حدیث کے حوالے سے) میں نے انہیں اہمیت نہ دی۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 37]
امام شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے شہر سے ملاقات کی، تو میں نے اسے قابل اعتماد نہیں سمجھا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 37]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18804)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 38
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ مِنْ أَهْلِ مَرْوَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ: قُلْتُ لِسُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ: إِنَّ عَبَّادَ بْنَ كَثِيرٍ، مَنْ تَعْرِفُ حَالَهُ، وَإِذَا حَدَّثَ، جَاءَ بِأَمْرٍ عَظِيمٍ، فَتَرَى أَنْ أَقُولَ لِلنَّاسِ: لَا تَأْخُذُوا عَنْهُ؟ قَالَ سُفْيَانُ: بَلَى، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَكُنْتُ إِذَا كُنْتُ فِي مَجْلِسٍ، ذُكِرَ فِيهِ عَبَّادٌ، أَثْنَيْتُ عَلَيْهِ فِي دِينِهِ، وَأَقُولُ: لَا تَأْخُذُوا عَنْهُ وَقَالَ مُحَمَّدٌ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: قَالَ أَبِي: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ: انْتَهَيْتُ إِلَى شُعْبَةَ، فَقَالَ: هَذَا عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ فَاحْذَرُوهُ
عبداللہ بن مبارک نے کہا: میں نے سفیان ثوری سے عرض کی: بلاشبہ عباد بن کثیر ایسا ہے جس کا حال آپ کو معلوم ہے۔ جب وہ حدیث بیان کرتا ہے تو بڑی بات کرتا ہے، کیا آپ کی رائے ہے کہ میں لوگوں سے کہہ دیا کروں: اس سے (حدیث) نہ لو؟ سفیان کہنے لگے: کیوں نہیں! عبداللہ نے کہا: پھر یہ (میرا معمول) ہو گیا کہ جب میں کسی (علمی) مجلس میں ہوتا جہاں عباد کا ذکر ہوتا تو میں دین کے حوالے سے اس کی تعریف کرتا اور (ساتھ یہ بھی) کہتا: اس سے (حدیث) نہ لو۔ ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبداللہ بن عثمان نے بیان کیا، کہا: میرے والد نے کہا: عبداللہ بن مبارک نے کہا: میں شعبہ تک پہنچا تو انہوں نے (بھی) کہا: یہ عباد بن کثیر ہے تم لوگ اس سے (حدیث بیان کرنے میں) احتیاط کرو۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 38]
امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سفیان ثوری رحمہ اللہ سے پوچھا: عباد بن کثیر کے حالات سے تو آپ آگاہ ہیں، وہ جب حدیث بیان کرتا ہے تو انتہائی ناگوار یا سنگین حرکت کرتا ہے (غلط اور موضوع روایات بیان کرتا ہے)؛ تو آپ کا کیا خیال ہے، میں لوگوں کو کہہ دوں کہ اس سے روایت نہ لو؟ سفیان ثوری رحمہ اللہ نے کہا: ”ضرور کہو۔“ عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب میں کسی ایسی مجلس میں ہوتا جس میں عباد کا تذکرہ ہوتا تو میں اس کی دیانت و امانت اور زہد و تقویٰ کی تعریف کرتا اور کہہ دیتا: ”اس سے روایت نہ لو۔“ (کیونکہ روایت بیان کرنے میں قابل اعتماد نہیں، کمزور اور موضوع روایات بیان کر دیتا ہے)؛ یہ بات دوسری سند سے بیان کی گئی ہے کہ عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں شعبہ رحمہ اللہ کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا: ”یہ عباد بن کثیر ہے، اس سے بچ کر رہو۔“ (اس سے روایت نہ لو)۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 38]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18763 و 18805 و 18926)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 39
وحَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، قَالَ: سَأَلْتُ مُعَلًّى الرَّازِيَّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ، الَّذِي رَوَى عَنْهُ عَبَّادٌ، فَأَخْبَرَنِي، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، قَالَ: كُنْتُ عَلَى بَابِهِ، وَسُفْيَانُ عِنْدَهُ، فَلَمَّا خَرَجَ سَأَلْتُهُ عَنْهُ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ كَذَّابٌ
فضل بن سہل نے بتایا، کہا: میں نے معلیٰ رازی سے محمد بن سعید کے بارے میں، جس سے عباد بن کثیر نے روایت کی، پوچھا تو انہوں نے مجھے عیسیٰ بن یونس کے حوالے سے بیان کیا، کہا: میں اس کے دروازے پر تھا، سفیان اس کے پاس موجود تھے جب وہ باہر نکل گیا تو میں نے ان (سفیان) سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ کذّاب ہے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 39]
فضل بن سہیل بیان کرتے ہیں: میں نے معلیٰ رازی سے محمد بن سعید کے بارے میں پوچھا، جس سے عباد بن کثیر روایت بیان کرتا ہے، تو انہوں نے مجھے عیسیٰ بن یونس سے نقل کیا۔ میں اس کے دروازے پر تھا اور سفیان اس کے پاس حاضر تھے، جب وہ نکلے تو میں نے ان سے (سفیان سے) اس (محمد بن سعید) کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا: وہ جھوٹا ہے۔ (مولانا عبدالسلام بستوی نے اس سے مراد عباد بن کثیر لیا ہے، کہ وہ جھوٹا ہے)۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 39]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18764)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 40
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَتَّابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَفَّانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمْ نَرَ الصَّالِحِينَ فِي شَيْءٍ، أَكْذَبَ مِنْهُمْ فِي الْحَدِيثِ، قَالَ ابْنُ أَبِي عَتَّابٍ: فَلَقِيتُ أَنَا مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ، فَسَأَلْتُهُ عَنْهُ، فَقَالَ عَنْ أَبِيهِ: لَمْ تَرَ أَهْلَ الْخَيْرِ فِي شَيْءٍ، أَكْذَبَ مِنْهُمْ فِي الْحَدِيثِ، قَالَ مُسْلِم: يَقُولُ: يَجْرِي الْكَذِبُ عَلَى لِسَانِهِمْ، وَلَا يَتَعَمَّدُونَ الْكَذِبَ
محمد بن ابی عتاب نے کہا: مجھ سے عفان نے محمد بن یحییٰ بن سعید قطان سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: ہم نے نیک لوگوں (صوفیا) کو حدیث سے بڑھ کر کسی اور چیز میں جھوٹ بولنے والا نہیں پایا۔ ابن ابی عتاب نے کہا: میں محمد بن یحییٰ بن سعید قطان سے ملا تو اس (بات کے) بارے میں پوچھا، انہوں نے اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے کہا: تم اہل خیر (زہد و ورع والوں) کو حدیث سے زیادہ کسی اور چیز میں جھوٹا نہیں پاؤ گے۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے کہا کہ یحییٰ بن سعید نے فرمایا: ان کی زبان پر جھوٹ جاری ہو جاتا ہے، وہ جان بوجھ کر جھوٹ نہیں بولتے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 40]
امام یحییٰ بن سعید القطان رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”ہم نے بعض نیک لوگوں کو حدیث میں سب باتوں سے زیادہ جھوٹ بولتے دیکھا ہے۔“ ابن ابی عتاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں یحییٰ بن سعید القطان رحمہ اللہ کے بیٹے محمد رحمہ اللہ سے ملا اور ان سے اس قول کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے اپنے والد سے نقل کیا: ”ہم نے اہل خیر کو کسی چیز میں حدیث سے زیادہ جھوٹ بولتے نہیں دیکھا۔“ یعنی: جتنا جھوٹ وہ حدیثوں کے بیان میں بولتے ہیں اتنا جھوٹ عام گفتگو میں نہیں بولتے۔ امام مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان کا مقصد یہ ہے کہ جھوٹ ان کی زبانوں پر جاری ہو جاتا ہے (کیونکہ وہ بلا تحقیق اور تنقیح ہر ایک پر اعتماد کر لیتے ہیں) وہ قصداً (جان بوجھ کر) جھوٹ نہیں بولتے (کیونکہ عمداً جھوٹ بولنے والا صالح یا اہل خیر نہیں ہو سکتا)۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 40]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (19527)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 41
حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي خَلِيفَةُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى غَالِبِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَجَعَلَ يُمْلِي عَلَيَّ، حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ، حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ، فَأَخَذَهُ الْبَوْلُ، فَقَامَ، فَنَظَرْتُ فِي الْكُرَّاسَةِ، فَإِذَا فِيهَا، حَدَّثَنِي أَبَانٌ، عَنْ أَنَسٍ وَأَبَانٌ، عَنْ فُلَانٍ، فَتَرَكْتُهُ، وَقُمْتُ، قَالَ: وَسَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيَّ، يَقُولُ: رَأَيْتُ فِي كِتَابِ عَفَّانَ، حَدِيثُ هِشَامٍ أَبِي الْمِقْدَامِ، حَدِيثَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيز، قَالَ هِشَامٌ: حَدَّثَنِي جُلٌ، يُقَالُ لَهُ: يَحْيَي بْنُ فُلَانٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَفَّانَ: إِنَّهُمْ يَقُولُونَ هِشَامٌ سَمِعَهُ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، فَقَالَ: إِنَّمَا ابْتُلِيَ مِنْ قِبَلِ هَذَا الْحَدِيثِ، كَانَ يَقُولُ: حَدَّثَنِي يَحْيَي، عَنْ مُحَمَّدٍ، ثُمَّ ادَّعَى بَعْدُ، أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ مُحَمَّدٍ
خلیفہ بن موسیٰ نے خبر دی، کہا: میں غالب بن عبیداللہ کے ہاں آیا تو اس نے مجھے لکھوانا شروع کیا: مکحول نے مجھ سے حدیث بیان کی، مکحول نے مجھ سے حدیث بیان کی۔ اسی اثنا میں پیشاب نے اسے مجبور کیا تو وہ اٹھ گیا، میں نے (جو) اس کی کاپی دیکھی تو اس میں اس طرح تھا: مجھے ابان نے انس سے یہ حدیث سنائی، ابان نے فلاں سے حدیث روایت کی۔ اس پر میں نے اسے چھوڑ دیا اور اٹھ کھڑا ہوا۔ (امام مسلم نے کہا:) اور میں نے حسن بن علی حلوانی سے سنا، کہہ رہے تھے: میں نے عفان کی کتاب میں ابومقدام ہشام کی (وہ) روایت دیکھی (جو عمر بن عبدالعزیز کی حدیث ہے) (اس میں تھا:) ہشام نے کہا: مجھ سے ایک شخص نے جسے یحییٰ بن فلاں کہا جاتا تھا، محمد بن کعب سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے عفان سے کہا: (اہل علم) کہتے ہیں: ہشام نے یہ (حدیث) محمد بن کعب سے سنی تھی۔ تو وہ کہنے لگے: وہ (ہشام) اسی حدیث کی وجہ سے فتنے میں پڑے۔ (پہلے) وہ کہا کرتے تھے: مجھے یحییٰ نے محمد (بن کعب) سے روایت کی، بعدازاں یہ دعویٰ کر دیا کہ انہوں نے یہ (حدیث براہ راست) محمد سے سنی ہے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 41]
خلیفہ بن موسیٰ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں غالب بن عبیداللہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ مجھے حدیثیں املا کرانے (لکھوانے) لگے کہ مجھے مکحول رحمہ اللہ نے بتایا، تو انہیں پیشاب آ گیا جس سے وہ اٹھ کھڑے ہوئے، سو میں نے ان کی کاپی (کاغذات) پر نظر دوڑائی تو اس میں لکھا تھا: ”مجھے ابان رحمہ اللہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی اور ابان سے فلاں نے روایت کی“، تو میں انہیں چھوڑ کر چلا آیا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 41]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18616 و 19098)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 42
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُثْمَانَ بْنِ جَبَلَةَ، يَقُولُ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ: مَنْ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي رَوَيْتَ عَنْهُ حَدِيثَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، يَوْمُ الْفِطْرِ، يَوْمُ الْجَوَائِزِ؟ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَجَّاجِ: انْظُرْ مَا وَضَعْتَ فِي يَدِكَ مِنْهُ، قَالَ ابْنُ قُهْزَاذَ: وَسَمِعْتُ وَهْبَ بْنَ زَمْعَةَ يَذْكُرُ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ: رَأَيْتُ رَوْحَ بْنَ غُطَيْفٍ صَاحِبَ الدَّمِ، قَدْرِ الدِّرْهَمِ وَجَلَسْتُ إِلَيْهِ مَجْلِسًا، فَجَعَلْتُ أَسْتَحْيِي مِنْ أَصْحَابِي، أَنْ يَرَوْنِي جَالِسًا مَعَهُ، كُرْهَ حَدِيثِه.
مجھے محمد بن عبداللہ قہزاذ نے حدیث سنائی، کہا: میں نے عبداللہ بن عثمان بن جبلہ سے سنا، کہہ رہے تھے: میں نے عبداللہ بن مبارک سے کہا: یہ کون ہے جس سے آپ نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی حدیث: ”عید الفطر کا دن انعامات کا دن ہے۔“ روایت کی؟ کہا: سلیمان بن حجاج، ان میں سے جو (احادیث) تم نے اپنے پاس (لکھ) رکھی ہیں (یا میں نے تمہیں اس کی جو حدیثیں دی ہیں) ان میں (اچھی طرح) نظر کرنا (غور کر لینا)۔ ابن قہزاذ نے کہا: میں نے وہب بن زمعہ سے سنا، وہ سفیان بن عبدالملک سے روایت کر رہے تھے، کہا: عبداللہ، یعنی ابن مبارک نے کہا: میں نے ایک درہم کے برابر خون والی حدیث کے راوی روح بن غطیف کو دیکھا ہے۔ میں اس کے ساتھ ایک مجلس میں بیٹھا تو میں اپنے ساتھیوں سے شرم محسوس کر رہا تھا کہ وہ مجھے اس سے حدیث بیان کرنے کے ناپسندیدہ ہونے کے باوجود اس کے ساتھ بیٹھا دیکھیں اس کی حدیث ناپسندیدگی کی وجہ سے اور اس کی روایت میں نہ مقبولی کی وجہ سے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 42]
عبداللہ بن عثمان بن جبلہ رحمہ اللہ کہتے ہیں، میں نے امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ سے پوچھا: یہ انسان کون ہے، جس سے آپ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی یہ حدیث بیان کرتے ہیں: ”عید الفطر کا دن انعامات کا دن ہے۔“؟ انہوں نے کہا: وہ سلیمان بن حجاج ہے، دیکھو میں نے اس سے تیرے ہاتھ میں کیسی چیز رکھ دی ہے! (یعنی وہ ثقہ ہے، اور اس نے بہت عمدہ حدیث سنائی ہے۔) [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 42]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18927 و 18928)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 43
حَدَّثَنِي ابْنُ قُهْزَاذَ، قَالَ: سَمِعْتُ وَهْبًا، يَقُولُ: عَنِ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: بَقِيَّةُ صَدُوقُ اللِّسَانِ وَلَكِنَّهُ يَأْخُذُ عَمَّنْ أَقْبَلَ وَأَدْبَرَ
ابن قہزاذ نے کہا، میں نے وہب سے سنا، انہوں نے سفیان سے اور انہوں نے عبداللہ بن مبارک سے روایت کی، کہا: بقیہ زبان کے سچے ہیں لیکن وہ ہر آنے جانے والے (علم حدیث میں مہارت رکھنے والے اور نہ رکھنے والے ہر شخص) سے حدیث لے لیتے ہیں۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 43]
سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں ابن مبارک رحمہ اللہ نے کہا: ”بقیہ بذات خود زبان کا سچا ہے، لیکن وہ ہر آنے جانے والے سے روایات لے لیتا ہے“ (یعنی: وہ ہر ثقہ اور ضعیف سے روایت بیان کرتا ہے، جانچ پڑتال اور امتیاز کی قوت سے محروم ہے، اس لیے محدثین اس کی روایت قبول نہیں کرتے)۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 43]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18929)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 44
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَارِثُ الأَعْوَرُ الْهَمْدَانِيُّ وَكَانَ كَذَّابًا،
قتیبہ بن سعید، جریر نے مغیرہ سے، انہوں نے شعبی سے روایت کی، کہا: مجھے حارث اعور ہمدانی نے حدیث سنائی اور وہ کذّاب تھا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 44]
امام شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے حارث اعور ہمدانی نے حدیث سنائی اور وہ جھوٹا تھا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 44]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18870)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 45
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الأَشْعَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مُفَضَّلٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي الْحَارِثُ الأَعْوَرُ، وَهُوَ يَشْهَدُ أَنَّهُ أَحَدُ الْكَاذِبِينَ،
ابوعامر عبداللہ بن براد اشعری، ابواسامہ، مفضل بن مغیرہ سے روایت کی، کہا: میں نے شعبی کو کہتے ہوئے سنا: مجھ سے حارث اعور نے روایت بیان کی اور (یہ کہ) وہ گواہی دیتے ہیں کہ وہ (حارث) جھوٹوں میں سے ایک تھا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 45]
امام شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے حارث اعور نے حدیث سنائی اور وہ گواہی دیتے ہیں کہ وہ (اعور) جھوٹوں میں سے ایک ہے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 45]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18870)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة