صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
6ق. باب الْكَشْفِ عَنْ مَعَايِبِ رُوَاةِ الْحَدِيثِ وَنَقَلَةِ الأَخْبَارِ وَقَوْلِ الأَئِمَّةِ فِي ذَلِكَ
باب: حدیث کے راویوں کا عیب بیان کرنا درست ہے اور وہ غیبت میں داخل نہیں۔
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 66
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ أَبُو إِسْحَاق إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُفْيَانَ وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: كَانَ عَمْرُو بْنُ عُبَيْدٍ يَكْذِبُ فِي الْحَدِيثِ.
ابوداود طیالسی نے شعبہ سے، انہوں نے یونس بن عبید سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا، (یونس نے) کہا: عمرو بن عبید (معروف معتزلی جو پہلے حضرت حسن بصری کی مجلس میں حاضر رہا کرتا تھا) حدیث (کی روایت) میں جھوٹ بولا کرتا تھا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 66]
یونس بن عبید رحمہ اللہ کہتے ہیں: عمرو بن عبید (معتزلی) حدیث میں جھوٹ بولتا تھا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 66]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (19559)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 67
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ أَبُو حَفْصٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاذَ بْنَ مُعَاذٍ، يَقُولُ: قُلْتُ لِعَوْفِ بْنِ أَبِي جَمِيلَةَ: إِنَّ عَمْرَو بْنَ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا، قَالَ: كَذَبَ وَاللَّهِ عَمْرٌو وَلَكِنَّهُ أَرَادَ، أَنْ يَحُوزَهَا إِلَى قَوْلِهِ الْخَبِيثِ
معاذ بن معاذ کہتے ہیں: میں نے عوف بن ابی جمیلہ سے کہا: عمرو بن عبید نے حضرت حسن بصری سے (روایت کرتے ہوئے) یہ حدیث سنائی: ”جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا تو وہ ہم میں سے نہیں۔“ انہوں نے کہا: بخدا! عمرو نے (اس حدیث کی روایت حسن بصری کی طرف منسوب کرنے میں) جھوٹ بولا لیکن وہ چاہتا ہے کہ اس (صحیح حدیث) کو اپنی جھوٹی بات سے ملا دے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 67]
معاذ بن معاذ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے عوف بن ابی جمیلہ رحمہ اللہ سے پوچھا: عمرو بن عبید ہمیں حسن بصری رحمہ اللہ سے یہ حدیث بیان کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ہم پر ہتھیار اٹھائے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“ عوف رحمہ اللہ نے قسم اٹھا کر کہا: عمرو جھوٹا ہے، لیکن اس کا مقصد یہ ہے کہ اس حدیث سے اپنے خبیث نظریے کو تقویت پہنچائے، اور اس کو ثابت کرے۔ ( «حَوَزَ» کا معنی ہے ”جمع کرنا، اکٹھا کرنا“)۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 67]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (19182)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 68
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ، قَدْ لَزِمَ أَيُّوبَ وَسَمِعَ مِنْهُ، فَفَقَدَهُ أَيُّوبُ، فَقَالُوا: يَا أَبَا بَكْرٍ، إِنَّهُ قَدْ لَزِمَ عَمْرَو بْنَ عُبَيْدٍ، قَالَ حَمَّادٌ: فَبَيْنَا أَنَا يَوْمًا مَعَ أَيُّوبَ، وَقَدْ بَكَّرْنَا إِلَى السُّوقِ، فَاسْتَقْبَلَهُ الرَّجُلُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ أَيُّوبُ، وَسَأَلَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ أَيُّوبُ: بَلَغَنِي أَنَّكَ لَزِمْتَ ذَاكَ الرَّجُلَ.قَالَ حَمَّادٌ: سَمَّاهُ يَعْنِي عَمْرًا؟ قَالَ: نَعَمْ يَا أَبَا بَكْرٍ، إِنَّهُ يَجِيئُنَا بِأَشْيَاءَ غَرَائِبَ، قَالَ: يَقُولُ لَهُ أَيُّوبُ: إِنَّمَا نَفِرُّ أَوْ نَفْرَقُ مِنْ تِلْكَ الْغَرَائِبِ،
عبیداللہ بن عمر قواریری نے کہا: ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، کہا: ایک آدمی تھا، وہ ایوب (سختیانی کی علمی مجلس میں حاضری) کا التزام کرتا تھا اور اس نے ان سے (حدیث کا) سماع کیا تھا۔ ایوب نے اسے غیر حاضر پا کر اس کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے بتایا: جناب ابوبکر (ایوب کی کنیت)! وہ عمرو بن عبید سے منسلک ہو گیا ہے۔ حماد نے کہا: ایک دن میں ایوب کے ساتھ تھا، ہم صبح سویرے بازار کی طرف گئے تو اس آدمی نے ایوب کا استقبال کیا۔ ایوب نے اسے سلام کہا اور (حال احوال) پوچھا، پھر ایوب کہنے لگے: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم اس آدمی کے ساتھ منسلک ہو گئے ہو۔ حماد نے کہا: انہوں نے اس کا، یعنی عمرو کا نام لیا۔ وہ کہنے لگا: ہاں، جناب ابوبکر! وہ غرائب (ایسی باتیں جنہیں کوئی نہیں جانتا) ہمارے سامنے لاتا ہے۔ کہا: ایوب اس سے کہنے لگے: ہم انہی (عجیب و) غریب باتوں سے بھاگتے ہیں یا ڈرتے ہیں (کہ یہ جھوٹی اور من گھڑت ہوتی ہیں)۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 68]
حماد بن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں: ایک آدمی ہمیشہ ایوب رحمہ اللہ کے ساتھ رہتا اور ان سے حدیث سنتا تھا۔ چنانچہ ایوب رحمہ اللہ نے اسے گم پایا (تو ساتھیوں سے پوچھا) تو حاضرینِ مجلس نے کہا: اے ابوبکر! وہ تو عمرو بن عبید کے ساتھ چپک گیا ہے، یعنی اس کا ہم نشین بن گیا ہے، ہمیں علم ہوا ہے۔ حماد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک دن میں صبح سویرے ایوب رحمہ اللہ کے ساتھ بازار کی طرف جا رہا تھا تو سامنے سے وہ شخص آگیا، چنانچہ ایوب رحمہ اللہ نے اسے سلام کیا اور حال احوال پوچھا، پھر ایوب رحمہ اللہ نے اس سے کہا: مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ تو اس آدمی کا ہم نشین ہو گیا ہے؟ حماد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ایوب رحمہ اللہ نے عمرو کا نام لیا، اس نے کہا: ہاں اے ابوبکر! کیونکہ وہ ہمیں عجیب و غریب باتیں سناتا ہے۔ ایوب رحمہ اللہ نے اس سے کہا: انہی عجائب سے تو ہم بھاگتے یا ڈرتے ہیں۔ (کیونکہ ان غرائب کو احادیث بتانا جھوٹ ہے، اور اگر یہ آراء یا اقوال ہیں تو بدعت ہیں۔) [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 68]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (18446)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 69
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ زَيْدٍ يَعْنِي حَمَّادًا، قَالَ: قِيلَ لِأَيُّوبَ: إِنَّ عَمْرَو بْنَ عُبَيْدٍ رَوَى، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: لَا يُجْلَدُ السَّكْرَانُ مِنَ النَّبِيذِ، فَقَالَ: كَذَبَ، أَنَا سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يَقُولُ: يُجْلَدُ السَّكْرَانُ مِنَ النَّبِيذِ،
سلیمان بن حرب نے کہا: ہم سے ابن زید، یعنی حماد نے بیان کیا، کہا: ایوب سے عرض کی گئی: عمرو بن عبید نے حضرت حسن بصری سے روایت بیان کی کہے (کہ انہوں نے) کہا: جسے نبیذ (شراب) سے نشہ ہو جائے اسے کوڑے نہ مارے جائیں۔ تو انہوں نے (ایوب سختیانی) نے کہا: اس نے جھوٹ بولا، میں نے (خود) حسن سے سنا، وہ کہتے تھے: جسے نبیذ سے نشہ ہو جائے اسے کوڑے مارے جائیں۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 69]
حماد بن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں: ایوب رحمہ اللہ کو بتایا گیا کہ عمرو بن عبید، حسن بصری رحمہ اللہ سے نقل کرتا ہے کہ نبیذ سے نشہ آنے پر نشئی کو حد (کوڑے) نہیں لگائیں گے، تو انہوں نے کہا: اس نے جھوٹ بولا ہے، میں نے خود حضرت حسن رحمہ اللہ کو یہ کہتے سنا ہے کہ نبیذ سے نشہ آنے پر نشئی کو حد لگائی جائے گی۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 69]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (18447 و 18501)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 70
وحَدَّثَنِي حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَلَّامَ بْنَ أَبِي مُطِيعٍ، يَقُولُ: بَلَغَ أَيُّوبَ، أَنِّي آتِي عَمْرًا، فَأَقْبَلَ عَلَيَّ يَوْمًا، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا لَا تَأْمَنُهُ عَلَى دِينِهِ، كَيْفَ تَأْمَنُهُ عَلَى الْحَدِيثِ؟،
سلام بن ابی مطیع کہتے ہیں: جناب ایوب سختیانی کو یہ خبر پہنچی کہ میں عمرو (بن عبید) کے ہاں (درس میں) جاتا ہوں تو ایک دن وہ میرے پاس آئے اور کہا: تم نے غور کیا ایک ایسا آدمی آیا جس کے دین پر تمہیں اعتبار نہ ہو، تم اس کی حدیث پر اعتماد نہ کرو گے! [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 70]
سلام بن مطیع رحمہ اللہ کہتے ہیں: ایوب رحمہ اللہ کو پتا چلا کہ میں عمرو کے پاس جاتا ہوں، تو ایک دن وہ میری طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے: ”بتاؤ! ایک شخص کے دین پر تمہیں اعتماد نہیں ہے، اس پر حدیث کے سلسلے میں کیسے اعتماد کرو گے؟ یعنی: اس کی حدیث پر اعتماد نہیں ہو سکتا۔“ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 70]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18448)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 71
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى، يَقُولُ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُبَيْدٍ، قَبْلَ أَنْ يُحْدِثَ،
سفیان نے بیان کیا، کہا: میں نے ابوموسیٰ (اسرائیل بن موسیٰ بصری، نزیل ہند) سے سنا، کہہ رہے تھے: ہمیں عمرو بن عبید نے بدعت کا شکار ہونے سے پہلے حدیث سنائی۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 71]
ابو موسیٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں: بدعتی (معتزلی، قدری) ہونے سے پہلے عمرو بن عبید نے ہمیں احادیث سنائیں۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 71]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (19600)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 72
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى شُعْبَةَ، أَسْأَلُهُ عَنْ أَبِي شَيْبَةَ قَاضِي وَاسِطٍ، فَكَتَبَ إِلَيَّ لَا تَكْتُبْ عَنْهُ شَيْئًا وَمَزِّقْ كِتَابِي.
معاذ عنبری نے کہا: میں نے واسط کے قاضی ابوشیبہ کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے شعبہ کی طرف لکھا تو انہوں نے جواب میں میری طرف لکھ بھیجا، اس سے کوئی چیز روایت نہ کرو اور میرا خط پھاڑ دو۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 72]
معاذ عنبری رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے قاضیِ واسط ابو شیبہ کے بارے میں شعبہ رحمہ اللہ کو خط لکھ کر پوچھا، انہوں نے مجھے جواب لکھ کر بھیجا: اس سے کوئی حدیث نہ لکھو اور میرا خط چاک کر دو۔ (تاکہ وہ اس خط کے سبب مجھے نشانہ نہ بنائے۔) [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 72]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18806)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 73
وحَدَّثَنَا الْحُلْوَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَفَّانَ، قَالَ: حَدَّثْتُ حَمَّادَ بْنَ سَلَمَةَ، عَنْ صَالِحٍ الْمُرِّيِّ بِحَدِيثٍ، عَنْ ثَابِتٍ، فَقَالَ: كَذَبَ، وَحَدَّثْتُ هَمَّامًا، عَنْ صَالِحٍ الْمُرِّيِّ بِحَدِيثٍ، فَقَالَ: كَذَبَ،
عفان (بن مسلم) نے کہا: میں نے حماد بن سلمہ کو صالح مری کے واسطے سے ایک حدیث سنائی جو اس نے ثابت سے روایت کی تو انہوں نے (حماد نے) کہا: اس نے جھوٹ بولا۔ (اسی طرح) میں نے ہمام کو صالح مری سے ایک حدیث سنائی تو انہوں نے بھی کہا: اس نے جھوٹ بولا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 73]
عفان رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے حماد بن سلمہ رحمہ اللہ کو صالح مری رحمہ اللہ کی ثابت رحمہ اللہ سے ایک حدیث سنائی، تو انہوں نے کہا: ”وہ جھوٹا ہے۔“ اور میں نے ہمام رحمہ اللہ کو صالح مری کی ایک حدیث سنائی، تو انہوں نے بھی کہا: ”اس نے جھوٹ بولا ہے۔“ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 73]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18590 و 19514)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 74
وحَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: قَالَ لِي شُعْبَةُ: ايتِ جَرِيرَ بْنَ حَازِمٍ، فَقُلْ لَهُ: لَا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَرْوِيَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ، فَإِنَّهُ يَكْذِب، قَالَ أَبُو دَاوُد: قُلْتُ لِشُعْبَةَ: وَكَيْفَ ذَاكَ؟ فَقَالَ: حَدَّثَنَا عَنِ الْحَكَمِ بِأَشْيَاءَ لَمْ أَجِدْ لَهَا أَصْلًا، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: بِأَيِّ شَيْءٍ؟ قَالَ: قُلْتُ لِلْحَكَمِ: أَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ؟ فَقَالَ: لَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَيْهِمْ، وَدَفَنَهُمْ، قُلْتُ لِلْحَكَمِ: مَا تَقُولُ فِي أَوْلَادِ الزِّنَا؟ قَالَ: يُصَلَّى عَلَيْهِمْ، قُلْتُ: مِنْ حَدِيثِ مَنْ يُرْوَى؟ قَالَ: يُرْوَى عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، فَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ عَلِيٍّ
ابوداود نے بیان کیا، کہا: شعبہ نے مجھ سے کہا: جریر بن حازم کے پاس جاؤ اور اس سے کہو: تمہارے لیے حلال نہیں کہ تم حسن بن عمارہ سے (حدیث) روایت کرو کیونکہ وہ جھوٹ بولتا ہے۔ ابوداود نے کہا: میں نے شعبہ سے عرض کی: وہ کیسے؟ تو انہوں نے کہا: اس نے ہمیں حکم سے (روایت کردہ) احادیث سنائیں جن کی ہم نے اصل نہ پائی۔ (کہا) میں نے عرض کی: کیا چیز روایت کی؟ کہا: میں نے حکم سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہدائے احد کی نماز جنازہ ادا فرمائی؟ تو انہوں نے جواب دیا: آپ نے ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی (جبکہ) حسن بن عمارہ نے حکم ہی سے مقسم کے حوالے سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ روایت بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھی اور انہیں دفن کیا۔ (اسی طرح) میں نے حکم سے پوچھا: آپ اولاد زنا کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ کہا: ان کا جنازہ پڑھا جائے گا۔ میں نے پوچھا: یہ روایت کس حوالے سے بیان کی جاتی ہے؟ کہا: حضرت حسن بصری سے (جبکہ) حسن بن عمارہ نے کہا: ہم سے حکم نے یحییٰ بن جزار کے حوالے سے یہ روایت حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بیان کی۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 74]
ابو داؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے شعبہ رحمہ اللہ نے کہا: ”تم جریر بن حازم رحمہ اللہ کے پاس جاؤ اور ان سے کہو: آپ کے لیے حسن بن عمارہ سے روایت بیان کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ وہ جھوٹ بولتا ہے۔“ ابو داؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے شعبہ رحمہ اللہ سے پوچھا: یہ کیسے ہے؟ (آپ کو کیسے پتہ چلا ہے) انہوں نے جواب دیا: ”حسن نے ہمیں حکم رحمہ اللہ سے چند احادیث سنائیں، جن کی مجھے کوئی اصل یا بنیاد نہیں ملی۔“ میں نے کہا: وہ کون سی حدیثیں ہیں؟ شعبہ رحمہ اللہ نے کہا: ”میں نے حکم سے سوال کیا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے شہداء کی نمازِ جنازہ پڑھی ہے؟ حکم نے کہا: نہیں پڑھی۔“ جبکہ حسن بن عمارہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث بیان کرتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھی اور ان کو دفن کیا۔ میں نے حکم سے دریافت کیا: آپ کا زنا کی اولاد کے بارے میں کیا نظریہ ہے؟ انہوں نے کہا: ان کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے۔ میں نے پوچھا: کس کی روایت ہے؟ انہوں نے کہا: حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے۔ جبکہ حسن بن عمارہ محدثین رحمہ اللہ کے نزدیک بالاتفاق ضعیف ہے، اور حسن بن عمارہ یہ روایت حکم رحمہ اللہ کی سند سے علی رضی اللہ عنہ سے بیان کرتا ہے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 74]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (6469 و 10316 و 18782 و 18807)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 75
وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ هَارُونَ، وَذَكَرَ زِيَادَ بْنَ مَيْمُونٍ، فَقَالَ: حَلَفْتُ، أَلَّا أروي عنه شيئا ولا عَنْ خَالِدِ بْنِ مَحْدُوجٍ، وَقَالَ: لَقِيتُ زِيَادَ بْنَ مَيْمُونٍ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ حَدِيثٍ، فَحَدَّثَنِي بِهِ، عَنْ بَكْرٍ الْمُزَنِيِّ، ثُمَّ عُدْتُ إِلَيْهِ، فَحَدَّثَنِي بِهِ، عَنْ مُوَرِّقٍ، ثُمَّ عُدْتُ إِلَيْهِ، فَحَدَّثَنِي بِهِ، عَنِ الْحَسَنِ، وَكَانَ يَنْسُبُهُمَا إِلَى الْكَذِبِ، قَالَ الْحُلْوَانِيُّ، سَمِعْتُ عَبْدَ الصَّمَدِ، وَذَكَرْتُ عِنْدَهُ زِيَادَ بْنَ مَيْمُونٍ فَنَسَبَهُ إِلَى الْكَذِبِ،
حسن حلوانی نے کہا: میں نے یزید بن ہارون سے سنا، انہوں نے زیاد بن میمون کا ذکر کرتے ہوئے کہا: میں نے حلف اٹھایا ہے کہ میں اس سے اور خالد بن محدوج سے کبھی روایت نہ کروں گا (اور کہا:) میں زیاد بن میمون سے ملا، اس سے ایک حدیث سنانے کا کہا تو اس نے مجھے وہ حدیث بکر مزنی سے روایت کرکے سنائی، پھر (کچھ عرصے بعد) میں دوبارہ اس کے پاس گیا تو اس نے وہی حدیث موَرّق سے بیان کی، پھر ایک بار اور اس کے پاس گیا تو اس نے وہی حدیث حسن (بصری) سے سنائی۔ وہ (یزید بن ہارون) ان دونوں (زیاد بن میمون اور خالد بن محدوج) کو جھوٹ کی طرف منسوب کرتے تھے۔ حلوانی نے کہا: میں نے عبدالصمد سے حدیث سنی اور ان کے سامنے زیاد بن میمون کا ذکر کیا تو انہوں نے اس کی نسبت جھوٹ کی طرف کی۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 75]
حسن حلوانی رحمہ اللہ کہتے ہیں، میں نے یزید بن ہارون رحمہ اللہ سے سنا، انہوں نے زیاد بن میمون کا ذکر کر کے کہا: میں نے قسم اٹھائی ہے کہ میں اس سے اور خالد بن محدوج سے کوئی روایت بیان نہیں کروں گا، کیونکہ میں زیاد بن میمون کو ملا، اور اس سے ایک حدیث کے بارے میں پوچھا، تو اس نے مجھے وہ بکر مزنی رحمہ اللہ سے سنائی، پھر میں نے اس کی طرف دوبارہ رجوع کیا، تو اس نے مجھے وہ مورق سے سنا دی، پھر میں اسے سہ بارہ ملا تو اس نے مجھے وہ حسن رحمہ اللہ سے سنا دی، اور یزید بن ہارون رحمہ اللہ ان دونوں (زیاد، خالد) کو جھوٹا قرار دیتے تھے۔ حلوانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے عبدالصمد رحمہ اللہ کے پاس زیاد بن میمون کا ذکر کیا، تو انہوں نے کہا: وہ جھوٹا ہے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 75]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (18980 و 19553)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة