مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
564. حَدِيثُ أُمِّ مَعْقِلٍ الْأَسَدِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا
حدیث نمبر: 17839
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ أُمِ مَعْقِلٍ الْأَسَدِيِّةِ ، قَالَ: أَرَادَتْ أُمِّي الْحَجَّ، وَكَانَ جَمَلُهَا أَعْجَفَ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " اعْتَمِرِي فِي رَمَضَانَ، فَإِنَّ عُمْرَةً فِي رَمَضَانَ كَحَجَّةٍ" .
حضرت معقل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میری والدہ نے حج کا ارادہ کیا لیکن ان کا اونٹ بہت کمزور تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جب یہ بات ذکر کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم رمضان میں عمرہ کرلو، کیونکہ رمضان میں عمرہ کرنا حج کی طرح ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17839]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17840
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ أَبِي مَعْقِلٍ الْأَسَدِيِّ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُسْتَقْبَلَ الْقِبْلَتَانِ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ" .
حضرت معقل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب پائخانہ کرتے وقت قبلہ رخ ہو کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17840]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة أبى زيد مولى بني ثعلبة
حدیث نمبر: 17841
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ أَبِي مَعْقِلٍ ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمَّ مَعْقِلٍ فَاتَهَا الْحَجُّ مَعَكَ، قَالَ: فَخَرَجَتْ حِينَ فَاتَهَا الْحَجُّ مَعَكَ. قَالَ: " فَلْتَعْتَمِرْ فِي رَمَضَانَ، فَإِنَّ عُمْرَةً فِي رَمَضَانَ كَحَجَّةٍ" .
حضرت معقل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میری والد سے آپ کی معیت میں حج چھوٹ گیا ہے جس کا انہیں بہت دکھ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم رمضان میں عمرہ کرلو، کیونکہ رمضان میں عمرہ کرنا حج کی طرح ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17841]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى زيد
565. حَدِيثُ بُسْرِ بْنِ جَحَّاشٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 17842
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ جَحَّاشٍ الْقُرَشِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَزَقَ يَوْمًا فِي كَفِّهِ، فَوَضَعَ عَلَيْهَا أُصْبُعَهُ، ثُمَّ قَالَ:" قَالَ اللَّهُ: ابْنَ آدَمَ أَنَّى تُعْجِزُنِي، وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ مِثْلِ هَذِهِ، حَتَّى إِذَا سَوَّيْتُكَ وَعَدَلْتُكَ، مَشَيْتَ بَيْنَ بُرْدَيْنِ وَلِلْأَرْضِ مِنْكَ وَئِيدٌ، فَجَمَعْتَ وَمَنَعْتَ، حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ التَّرَاقِيَ، قُلْتَ: أَتَصَدَّقُ، وَأَنَّى أَوَانُ الصَّدَقَةِ" ..
حضرت بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ پر تھوکا اور اس پر انگلی رکھ کر فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ابن آدم! تو مجھے کس طرح عاجز کرسکتا ہے جبکہ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا ہے؟ جب میں نے تجھے برابر اور معتدل بنادیا تو تو دو چادروں کے درمیان چلنے لگا اور زمین پر تیری چاپ سنائی دینے لگی، تو جمع کر کے روک کر رکھتا رہا، جب روح نکل کر ہنسلی کی ہڈی میں پہنچی تو کہتا ہے کہ میں یہ چیز صدقہ کرتا ہوں، لیکن اب صدقہ کرنے کا وقت کہاں رہا؟ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17842]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 17843
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرِيزٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ جَحَّاشٍ الْقُرَشِيِّ ، قَالَ: بَزَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى كَفِّهِ، فَقَالَ:" ابْنَ آدَمَ" فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 17844
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ , حَدَّثَنَا حَرِيزٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ جَحَّاشٍ الْقُرَشِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَصَقَ يَوْمًا فِي كفَّه، فَوَضَعَ عَلَيْهَا إِصْبُعَهُ، ثُمَّ قَالَ:" قَالَ اللَّهُ: عَزَّ وَجَلَّ بُنَيَّ آدَمَ، أَنَّى تُعْجِزُنِي، وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ مِثْلِ هَذِهِ، حَتَّى إِذَا سَوَّيْتُكَ وَعَدَلْتُكَ، مَشَيْتَ بَيْنَ بُرْدَيْنِ وَلِلْأَرْضِ مِنْكَ وَئِيدٌ، فَجَمَعْتَ وَمَنَعْتَ، حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ التَّرَاقِيَ قُلْتَ أَتَصَدَّقُ، وَأَنَّى أَوَانُ الصَّدَقَةِ" ..
حضرت بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ پر تھوکا اور اس پر انگلی رکھ کر فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ابن آدم! تو مجھے کس طرح عاجز کرسکتا ہے جبکہ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا ہے؟ جب میں نے تجھے برابر اور معتدل بنادیا تو تو دو چادروں کے درمیان چلنے لگا اور زمین پر تیری چاپ سنائی دینے لگی، تو جمع کر کے روک کر رکھتا رہا، جب روح نکل کر ہنسلی کی ہڈی میں پہنچی تو کہتا ہے کہ میں یہ چیز صدقہ کرتا ہوں، لیکن اب صدقہ کرنے کا وقت کہاں رہا؟ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17844]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 17845
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرِيزٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَيْسَرَةَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ جَحَّاشٍ الْقُرَشِيِّ ، فَذَكَرَهُ وَلَمْ يَقُلْ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَقَالَ:" وَأَنَّى أَوَانُ الصَّدَقَةِ".
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
566. حَدِيثُ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 17846
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطٍ ، عَنْ أَبِيهِ وَافِدِ بَنِي الْمُنْتَفِقِ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: ابن الْمُنْتَفِقِ، أَنَّهُ انْطَلَقَ هُوَ وَصَاحِبٌ لَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَجِدَاهُ، فَأَطْعَمَتْهُمَا عَائِشَةُ تَمْرًا وَعَصِيدَةً، فَلَمْ نَلْبَثْ أَنْ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَقَلَّعُ يَتَكَفَّأُ، فَقَالَ:" أَطْعَمْتِهِمَا؟" قُلْنَا: نَعَمْ. قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَسْأَلُكَ عَنِ الصَّلَاةِ. قَالَ: " أَسْبِغْ الْوُضُوءَ، وَخَلِّلْ الْأَصَابِعَ، وَإِذَا اسْتَنْشَقْتَ فَأَبْلِغْ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إن لِي امْرَأَةٌ. فَذَكَرَ مِنْ بَذَائِهَا، قَالَ: طَلِّقْهَا. قُلْتُ: إِنَّ لَهَا صُحْبَةً وَوَلَدًا. قَالَ: مُرْهَا، أَوْ قُلْ لَهَا. فَإِنْ يَكُنْ فِيهَا خَيْرٌ فَسَتَفْعَلْ، وَلَا تَضْرِبْ ظَعِينَتَكَ ضَرْبَكَ أُمَيَّتَكَ". فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ دَفَعَ الرَّاعِي الْغَنَمَ فِي الْمُرَاحِ، عَلَى يَدِهِ سَخْلَةٌ، فَقَالَ:" أَوَلَّدْتَ؟" قَالَ: نَعَمْ. قَالَ:" مَاذَا؟" قَالَ: بَهْمَةً. قَالَ: اذْبَحْ مَكَانَهَا شَاةً. ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ، فَقَالَ:" لَا تَحْسِبَنَّ وَلَمْ يَقُلْ: لَا يَحْسَبَنَّ أَنَّمَا ذَبَحْنَاهَا مِنْ أَجْلِكَ، لَنَا غَنَمٌ مِئَةٌ، لَا نُحِبُّ أَنْ نَزِيدَ عَلَيْهَا، فَإِذَا وَلَّدَ الرَّاعِي بَهْمَةً، أَمَرْنَاهُ فَذَبَحَ مَكَانَهَا شَاةً" .
حضرت لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنے ایک ساتھی کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہ ملے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں کھجوریں کھلائیں اور گھی آٹا ملا کر ہمارے لئے کھانا تیار کیا، اسی اثناء میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی جھک کر چلتے ہوئے تشریف لے آئے اور فرمایا تم نے کچھ کھایا بھی ہے؟ ہم نے عرض کیا جی یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اسی دوران بکریوں کے باڑے میں سے ایک چرواہے نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بکری کا ایک بچہ پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پوچھا کیا بکری نے بچہ دیا ہے؟ اس نے کہا جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر ایک بکری ذبح کرو اور ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا یہ نہ سمجھنا کہ ہم نے صرف تمہاری وجہ سے اسے ذبح کیا ہے، بلکہ بات یہ ہے کہ ہمارا بکریوں کا ریوڑ ہے، جب بکریوں کی تعداد سو تک پہنچ جاتی ہے تو ہم اس میں سے ایک ذبح کرلیتے ہیں، ہم نہیں چاہتے کہ ان کی تعداد سو سے زیادہ ہو، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم مجھے وضو کے متعلق بتائیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب وضو کیا کرو تو خوب اچھی طرح کیا کرو اور انگلیوں کا خلال بھی کیا کرو اور جب تم ناک میں پانی ڈالا کرو تو خوب مبالغہ کیا کرو، الاّ یہ کہ تم روزے سے ہو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میری بیوی بڑی زبان دراز اور بےہودہ گوہ ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے طلاق دے دو، میں نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم وہ کافی عرصے میرے یہاں ہے اور اس سے میری اولاد بھی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اسے اپنے پاس رکھ کر سمجھاتے رہو، اگر اس میں کوئی خیر ہوئی تو وہ تمہاری بات مان لے گی، لیکن اپنی بیوی کو اپنی باندی کی طرح نہ مارنا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17846]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
567. حَدِيثُ الْأَغَرِّ الْمُزَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 17847
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَغَرَّ ، رَجُلًا مِنْ جُهَيْنَةَ، يُحَدِّثُ ابْنَ عُمَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، تُوبُوا إِلَى رَبِّكُمْ، فَإِنِّي أَتُوبُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ مِئَةَ مَرَّةٍ" .
حضرت اغر مزنی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث بیان کی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اے لوگو! اپنے رب سے توبہ کرتے رہا کرو اور میں بھی ایک دن میں سو سو مرتبہ اس سے توبہ کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17847]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2702
حدیث نمبر: 17848
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ ، عَنِ الْأَغَرِّ الْمُزَنِيِّ ، قَالَ: وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهُ لَيُغَانُ عَلَى قَلْبِي، فَإِنِّي لأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ مِئَةَ مَرَّةٍ" .
حضرت اغر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بعض اوقات میرے دل پر بھی غبار چھا جاتا ہے اور میں روزانہ سو مرتبہ اللہ سے استغفار کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17848]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2702