مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
567. حَدِيثُ الْأَغَرِّ الْمُزَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 17849
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنِ الْأَغَرِّ أَغَرِّ مُزَيْنَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّهُ لَيُغَانُ عَلَى قَلْبِي، حَتَّى أَسْتَغْفِرَ اللَّهَ مِئَةَ مَرَّةٍ" .
حضرت اغر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بعض اوقات میرے دل پر بھی غبار چھا جاتا ہے اور میں روزانہ سو مرتبہ اللہ سے استغفار کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17849]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17850
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: عَمْرٌو أَخْبَرَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا مِنْ جُهَيْنَةَ، يُقَالُ لَهُ: الْأَغَرُّ ، يُحَدِّثُ ابْنَ عُمَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، تُوبُوا إِلَى رَبِّكُمْ، فَإِنِّي أَتُوبُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ مِئَةَ مَرَّةٍ" .
حضرت اغر مزنی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث بیان کی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اے لوگو! اپنے رب سے توبہ کرتے رہا کرو اور میں بھی ایک دن میں سو سو مرتبہ اس سے توبہ کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17850]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
568. حَدِيثُ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 17851
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَبِيبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى ، قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي، فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ أُجِبْهُ حَتَّى صَلَّيْتُ فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ:" مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَنِي؟ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي. قَالَ:" أَلَمْ يَقُلْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ سورة الأنفال آية 24"، ثُمَّ قَالَ:" لَأُعَلِّمَنَّكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ أَوْ مِنَ الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ". قَالَ: فَأَخَذَ بِيَدِي، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ قُلْتَ: لَأُعَلِّمَنَّكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ؟ قَالَ: نَعَمْ، 65 الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ هِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي، وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُوتِيتُهُ" .
حضرت ابو سعید بن معلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نماز پڑھ رہا تھا، اتفاقا وہاں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آواز دی، لیکن میں نماز پوری کرنے تک حاضر نہ ہوا، اس کے بعد حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں میرے پاس آنے سے کس چیز نے روکے رکھا؟ عرض کیا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا اللہ تعالیٰ کا فرمان نہیں ہے کہ اے اہل ایمان! اللہ اور اس کے رسول جب تمہیں کسی ایسی چیز کی طرف بلائیں جس میں تمہاری حیات کا راز پوشیدہ ہو تو تم ان کی پکار پر لبیک کہا کرو، پھر فرمایا کیا میں تمہیں مسجد سے نکلنے سے قبل قرآن کریم کی سب سے عظیم سورت نہ سکھا دوں؟ پھر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے نکلنے لگے تو میں نے آپ کو یاد دہانی کرائی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ سورت فاتحہ ہے، وہی سبع مثانی ہے اور وہی قرآن عظیم ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17851]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4474
حدیث نمبر: 17852
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ عُمَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي الْمُعَلَّى ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمًا، فَقَالَ: " إِنَّ رَجُلًا خَيَّرَهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَ أَنْ يَعِيشَ فِي الدُّنْيَا مَا شَاءَ أَنْ يَعِيشَ فِيهَا، وَيَأْكُلَ فِي الدُّنْيَا مَا شَاءَ أَنْ يَأْكُلَ فِيهَا، وَبَيْنَ لِقَائِه رَبِّهِ، فَاخْتَارَ لِقَاءَ رَبِّهِ". قَالَ: فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا تَعْجَبُونَ مِنْ هَذَا الشَّيْخِ أَنْ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا صَالِحًا خَيَّرَهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَ لِقَاءِ رَبِّهِ وَبَيْنَ الدُّنْيَا، فَاخْتَارَ لِقَاءَ رَبِّهِ! وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ أَعْلَمَهُمْ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: بَلْ نَفْدِيكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَمْوَالِنَا وَأَبْنَائِنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَمَنُّ عَلَيْنَا فِي صُحْبَتِهِ وَذَاتِ يَدِهِ مِنَ ابْنِ أَبِي قُحَافَةَ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا، لَاتَّخَذْتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ، وَلَكِنْ وُدٌّ وَإِخَاءُ إِيمَانٍ، وَلَكِنْ وُدٌّ وَإِخَاءُ إِيمَانٍ مَرَّتَيْنِ وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
حضرت ابوالمعلی سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ ایک شخص کو اللہ تعالیٰ نے اس بات میں اختیار دے دیا کہ جب تک چاہے دنیا میں رہے اور جو چاہے کھائے اور اپنے رب کی ملاقات کے درمیان، اس نے اپنے رب سے ملنے کو ترجیح دی، یہ سن کر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ رونے لگے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کہنے لگے ان بڑے میاں کو تو دیکھو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نیک آدمی کا ذکر کیا جسے اللہ نے دنیا اور اپنی ملاقات کے درمیان اختیار دیا اور اس نے اپنے رب سے ملاقات کو ترجیح دی؟ لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی حقیقت کو ہم میں سب سے زیادہ جاننے والے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی تھے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ہم اپنے مال و دولت، بیٹوں اور آباؤ اجداد کو آپ کے بدلے میں پیش کرنے کے لئے تیار ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں میں اپنی رفاقت اور اپنی مملوکہ چیزوں میں مجھ پر ابن ابی قحافہ رضی اللہ عنہ سے زیادہ کسی کے احسانات نہیں ہیں، اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابن ابی قحافہ رضی اللہ عنہ کو بناتا، لیکن یہاں ایمانی اخوت ومودت ہی کافی ہے، یہ جملہ دو مرتبہ فرمایا: اور تمہارا پیغمبر خود اللہ کا خلیل ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17852]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة ابن أبى المعلي
569. حَدِيثُ أَبِي الْحَكَمِ أَوْ الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 17853
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي الْحَكَمِ أَوْ الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ، ثُمَّ تَوَضَّأَ، وَنَضَحَ عَلَى فَرْجِهِ" . حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ شَرِيكٌ سَأَلْتُ أَهْلَ الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ، فَذَكَرُوا أَنَّهُ لَمْ يُدْرِكْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حضرت ابوالحکم یا حکم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا، پھر وضو کر کے اپنی شرمگاہ پر پانی کے کچھ چھینٹے مار لئے۔ شریک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حکم بن سفیان کے اہل خانہ سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پایا تھا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17853]
الحكم على الحديث:
حديث ضعيف لاضطرابه، اضطرب فيه منصور عن مجاهد ألوانا
حدیث نمبر: 17854
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ . وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَزَائِدَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ الْحَكَمُ بْنُ سُفَيَانَ أَوْ سُفْيَانُ بْنُ الْحَكَمِ ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي حَدِيثِهِ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ وَتَوَضَّأَ وَنَضَحَ فَرْجَهُ بِالْمَاءِ" .
حضرت ابوالحکم یا حکم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا، پھر وضو کر کے اپنی شرمگاہ پر پانی کے کچھ چھینٹے مار لئے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17854]
الحكم على الحديث:
حديث ضعيف لاضطرابه، اضطرب فيه منصور عن مجاهد ألوانا
حدیث نمبر: 17855
قَالَ عَبْد اللَّهِ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ أَوْ سُفْيَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ يَعْنِي ثُمَّ تَوَضَّأَ، ثُمَّ نَضَحَ عَلَى فَرْجِهِ" .
حضرت ابوالحکم یا حکم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا، پھر وضو کر کے اپنی شرمگاہ پر پانی کے کچھ چھینٹے مار لئے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17855]
الحكم على الحديث:
حديث ضعيف لاضطرابه، اضطرب فيه منصور عن مجاهد ألوانا
570. حَدِيثُ الْحَكَمِ بْنِ حَزْنٍ الْكُلَفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 17856
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ عَبْد اللَّهِ، وَسَمِعْتُهُ مِنَ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ خِرَاشٍ ، حَدَّثَنِي شُعَيْبُ بْنُ رُزَيْقٍ الطَّائِفِيُّ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ: الْحَكَمُ بْنُ حَزْنٍ الْكُلَفِيُّ ، وَلَهُ صُحْبَةٌ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا قَالَ: قَدِمْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَابِعَ سَبْعَةٍ، أَوْ تَاسِعَ تِسْعَةٍ، قَالَ: فَأَذِنَ لَنَا فَدَخَلْنَا، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَيْنَاكَ لِتَدْعُوَ لَنَا بِخَيْرٍ، قَالَ: فَدَعَا لَنَا بِخَيْرٍ، وَأَمَرَ بِنَا، فنَزَِلْنَا، وَأَمَرَ لَنَا بِشَيْءٍ مِنْ تَمْرٍ، وَالشَّأْنُ إِذْ ذَاكَ دُونٌ. قَالَ: فَلَبِثْنَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَّامًا، شَهِدْنَا فِيهَا الْجُمُعَةَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَكِّئًا عَلَى قَوْسٍ أَوْ قَالَ: عَلَى عَصًا فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ كَلِمَاتٍ خَفِيفَاتٍ طَيِّبَاتٍ مُبَارَكَاتٍ، ثُمَّ قَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ لَنْ تَفْعَلُوا، وَلَنْ تُطِيقُوا كُلَّ مَا أُمِرْتُمْ بِهِ، وَلَكِنْ سَدِّدُوا وَأَبْشِرُوا" ..
شعیب بن رزیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ایک صاحب کے پاس بیٹھا ہوا تھا جن کا نام حکم بن حزن کلفی تھا اور انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمنشینی کی سعادت حاصل تھی، انہوں نے ایک حدیث بیان کی کہ میں سات یا نو آدمیوں کے ساتھ، جن میں ساتو اں یا نواں میں خود تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرا ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اندر آنے کی اجازت مرحمت فرمائی، ہم نے اندر داخل ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ کی خدمت میں آپ سے اپنے لئے دعاء خیر کرانے کی غرض سے حاضر ہوئے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے دعاء خیر فرمائی اور ہمارے متعلق حکم دیا تو ہمیں ایک جگہ لے جا کر ٹھہرا دیا گیا اور ہمارے لئے کچھ کھجوروں کا حکم دیا، اس وقت حالات بہت خراب تھے۔ ہم چند دن تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں ہی رہے، اس دوران ہمیں جمعہ کا دن بھی نصیب ہوا، اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک کمان یا لاٹھی سے ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمدوثناء کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمات بہت ہلکے پھلکے اور بڑے پاکیزہ تھے، پھر فرمایا لوگو! تم تمام احکام پر ہرگز عمل نہیں کرسکتے، نہ تمہارے اندر اس کی طاقت ہے، البتہ سیدھے راستے پر رہو اور خوشخبری قبول کرو۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17856]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي
حدیث نمبر: 17857
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ خِرَاشِ بْنِ حَوْشَبٍ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ رُزَيْقٍ الطَّائِفِيُّ ، قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى رَجُلٍ لَهُ صُحْبَةٌ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُقَالُ لَهُ: الْحَكَمُ بْنُ حَزْنٍ الْكُلَفِيُّ ، فَأَنْشَأَ يُحَدِّثُ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
الحكم على الحديث:
إسناده قوي
571. حَدِيثُ الْحَارِثِ بْنِ أُقَيْشٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 17858
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَارِثَ بْنَ أُقَيْشٍ يُحَدِّثُ، أَبَا بَرْزَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ مِنْ أُمَّتِي لَمَنْ يَشْفَعُ لِأَكْثَرَ مِنْ رَبِيعَةَ، وَمُضَرَ، وَإِنَّ مِنْ أُمَّتِي لَمَنْ يَعْظُمُ لِلنَّارِ حَتَّى يَكُونَ رُكْنًا مِنْ أَرْكَانِهَا" .
حضرت حارث بن اقیش رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم رات کے وقت حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا جن دو مسلمانوں (میاں بیوی) کے چار نابالغ بچے فوت ہوجائیں، اللہ انہیں اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخل فرما دے گا، صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر تین بچے ہوں تو؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تب بھی یہی حکم ہے، صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا اگر دو بچے ہوں تو؟ فرمایا تب بھی یہی حکم ہے اور میری امت میں ایک آدمی ایسا بھی ہوگا جسے آگ کے لئے اتنا پھیلایا جائے گا کہ وہ اس کا ایک کونہ بن جائے گا اور میری امت میں ایک آدمی ایسا بھی ہوگا جس کی شفاعت سے مضر جتنے لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17858]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة عبدالله بن قيس