🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
571. حَدِيثُ الْحَارِثِ بْنِ أُقَيْشٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17859
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ أُقَيْشٍ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي بَرْزَةَ لَيْلَةً، فَحَدَّثَ لَيْلَتَئِذٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا أَرْبَعَةُ أَفْرَاطٍ، إِلَّا أَدْخَلَهُمَا اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَثَلَاثَةٌ؟ قَالَ:" وَثَلَاثَةٌ". قَالُوا: وَاثْنَانِ؟ قَالَ:" وَاثْنَانِ". قَالَ:" وَإِنَّ مِنْ أُمَّتِي لَمَنْ يَعْظُمُ لِلنَّارِ، حَتَّى يَكُونَ أَحَدَ زَوَايَاهَا، وَإِنَّ مِنْ أُمَّتِي لَمَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِهِ مِثْلُ مُضَرَ" .
حضرت حارث بن اقیش رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم رات کے وقت حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا جن دو مسلمانوں (میاں بیوی) کے چار نابالغ بچے فوت ہوجائیں، اللہ انہیں اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخل فرما دے گا، صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر تین بچے ہوں تو؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تب بھی یہی حکم ہے، صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا اگر دو بچے ہوں تو؟ فرمایا تب بھی یہی حکم ہے اور میری امت میں ایک آدمی ایسا بھی ہوگا جسے آگ کے لئے اتنا پھیلایا جائے گا کہ وہ اس کا ایک کونہ بن جائے گا اور میری امت میں ایک آدمی ایسا بھی ہوگا جس کی شفاعت سے مضر جتنے لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17859]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة عبدالله بن قيس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
572. حَدِيثُ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17860
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ ، عَنْ دُلْجَةَ بْنِ قَيْسٍ ، أَنَّ الْحَكَمَ الْغِفَارِيّ قَالَ: لِرَجُلٍ، أَوْ قَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَتَذْكُرُ حِينَ" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّقِيرِ وَالْمُقَيَّرِ، أَوْ أَحَدِهِمَا، وَعَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ" ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَأَنَا أَشْهَدُ عَلَى ذَلِكَ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: حَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِنَا، قَالَ: سَمِعْتُ عَارِمًا يَقُولُ: تَدْرُونَ لِمَ سُمِّيَ دُلْجَةَ؟ قُلْنَا: لَا. قَالَ: أَدْلَجُوا بِهِ إِلَى مَكَّةَ، فَوَضَعَتْهُ أُمُّهُ فِي الدُّلْجَةِ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ، فَسُمِّيَ دُلْجَةَ.
حضرت حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی سے کہا کہ کیا آپ کو وہ وقت یاد ہے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نقیر اور مقیر (یا ان میں سے کسی ایک سے) اور دباء اور حنتم سے منع فرمایا تھا؟ اس نے اثبات میں جواب دیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں بھی اس پر گواہ ہوں۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17860]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناده ضعيف لجهالة دلجة بن قيس، وقد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17861
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ : قُلْتُ: لِأَبِي الشَّعْثَاءِ إِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ" ، قَالَ: يَا عَمْرُو، أَبَى ذَلِكَ الْبَحْرُ، وَقَرَأَ: قُلْ لا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ سورة الأنعام آية 145 يَا عَمْرُو أَبَى ذَلِكَ الْبَحْرُ، قَدْ كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ الْحَكَمُ بْنُ عَمْرٍو الْغِفَارِيُّ . يَعْنِي بقوله: أَبَى ذَلِكَ عَلَيْنَا الْبَحْرُ ابْنُ عَبَّاسٍ.
عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ میں نے ابو الشعثاء سے پوچھا کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھوں کے گوشت کی ممانعت فرمائی ہے؟ انہوں نے کہا کہ عمرو! بحر علم (یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اس کا انکار کرتے ہیں اور انہوں نے یہ آیت پڑھی، اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ فرما دیجئے کہ مجھ پر جو وحی بھیجی گئی ہے اس کی روشنی میں میں کسی کھانے والے کے لئے کوئی چیز حرام نہیں پاتا الاّ یہ کہ۔۔۔۔۔۔ البتہ حضرت حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ یہ فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17861]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5529
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17862
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ ، عَنْ دُلْجَةَ بْنِ قَيْسٍ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلْحَكَمِ الْغِفَارِيِّ، أَوْ قَالَ الْحَكَمُ لِرَجُلٍ: أَتَذْكُرُ يَوْمَ" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّقِيرِ وَالْمُقَيَّرِ، أَوْ أَحَدِهِمَا، وَعَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ" ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، وَأَنَا أَشْهَدُ عَلَى ذَلِكَ.
حضرت حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی سے کہا کہ کیا آپ کو وہ وقت یاد ہے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نقیر اور مقیر (یا ان میں سے کسی ایک سے) اور دباء اور حنتم سے منع فرمایا تھا؟ اس نے اثبات میں جواب دیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں بھی اس پر گواہ ہوں۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17862]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة دلجة بن قيس، وقد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17863
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي حَاجِبٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ مِنْ سُؤْرِ الْمَرْأَةِ" .
حضرت حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے چھوڑے ہوئے پانی سے مرد کو وضو کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17863]

الحكم على الحديث:
رجاله ثقات، وقد أعل بالوقف، وهذا الحديث يعارضه حديث الصحابة حيث رووا جواز الوضوء أو الاغتسال بفضل المرأة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17864
حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ: قَالَ أَبِي : حَدَّثَنَا أَبُو تَمِيمَةَ ، عَنْ دُلَجَةَ بْنِ قَيْسٍ ، أَنَّ الْحَكَمَ الْغِفَارِيّ قَالَ لِرَجُلٍ مَرَّةً: أَتَذْكُرُ إِذْ" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُقَيَّرِ وَالنَّقِيرِ" ؟ قَالَ: وَأَنَا أَشْهَدُ، وَلَمْ يَذْكُرْ الْمُقَيَّرَ، أَوْ ذَكَرَ النَّقِيرَ، أَوْ ذَكَرَهُمَا جَمِيعًا.
حضرت حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی سے کہا کہ کیا آپ کو وہ وقت یاد ہے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نقیر اور مقیر (یا ان میں سے کسی ایک سے) اور دباء اور حنتم سے منع فرمایا تھا؟ اس نے اثبات میں جواب دیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں بھی اس پر گواہ ہوں۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17864]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة دلجة بن قيس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17865
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ أَبِي حَاجِبٍ ، عَنِ الْحَكَمِ الْغِفَارِيِّ ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَتَوَضَّأَ بِفَضْلِهَا، لَا يَدْرِي بِفَضْلِ وَضُوئِهَا، أَوْ فَضْلِ سُؤْرِهَا" .
حضرت حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے چھوڑے ہوئے پانی سے مرد کو وضو کرنے سے منع فرمایا ہے، یہ معلوم نہیں کہ چھوڑے ہوئے سے مراد وضو سے بچا ہوا پانی ہے یا پی کر بچ جانے والا پانی ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17865]

الحكم على الحديث:
رجاله ثقات، وقد أعل بالوقف، وهذا الحديث يعارضه حديث الصحابة حيث رووا جواز الوضوء أو الاغتسال بفضل المرأة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
573. حَدِيثُ مُطِيعِ بْنِ الْأَسْوَدِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17866
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ أَبُو الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: قَالَ مُطِيعُ بْنُ الْأَسْوَدِ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ: " لَا يَنْبَغِي أَنْ يُقْتَلَ قُرَشِيٌّ بَعْدَ يَوْمِهِ هَذَا صَبْرًا" .
حضرت مطیع بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ارشاد فرمایا آج کے بعد کسی قریشی کو مظلومیت کی حالت میں قتل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17866]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 1782، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، لم يسمع الشعبي هذا الحديث من مطيع بن الأسود
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17867
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، يَقُولُ: " لَا يُقْتَلُ قُرَشِيٌّ صَبْرًا بَعْدَ الْيَوْمِ" . وَلَمْ يُدْرِكْ الْإِسْلَامَ أَحَدٌ مِنْ عُصَاةِ قُرَيْشٍ غَيْرُ مُطِيعٍ وَكَانَ اسْمُهُ عَاصِيًا، فَسَمَّاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُطِيعًا.
حضرت مطیع بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ارشاد فرمایا آج کے بعد کسی قریشی کو مظلومیت کی حالت میں قتل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی یاد رہے کہ مطیع کے علاوہ قریش کے کسی نافرمان نے اسلام قبول نہیں کیا تھا، پ ہے ان کا نام عاصی تھا جسے بدل کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مطیع کردیا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17867]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1782
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17868
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: " لَا يُقْتَلُ قُرَشِيٌّ صَبْرًا بَعْدَ الْيَوْمِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ" .
حضرت مطیع بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ارشاد فرمایا آج کے بعد کسی قریشی کو مظلومیت کی حالت میں قتل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17868]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1782
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں