مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
596. حَدِيثُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 17966
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ، وَكَانَ مِنْ أَوْثَقِ أَعْمَالِي فِي نَفْسِي، وَكَانَ لِي أَجِيرٌ فَقَاتَلَ إِنْسَانًا فَعَضَّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ، فَانْتَزَعَ أُصْبُعَهُ، فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ، وَقَالَ: " أَفَيَدَعُ يَدَهُ فِي فِيكَ تَقْضِمُهَا؟!" قَالَ أَحْسَبُهُ:" كَمَا يَقْضِمُ الْفَحْلُ" .
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں غزوہ تبوک میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک تھا، میرے نزدیک یہ انتہائی مضبوط عمل ہے، راستے میں میرے مزدور (کرایہ دار) کی ایک آدمی سے لڑائی ہوگئی، اس نے اس کا ہاتھ اپنے منہ میں لے کر کاٹ لیا، اس نے جو اپنے ہاتھ کو کھینچا تو اس کا دانت ٹوٹ کر گرگیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا دعوی باطل قرار دیتے ہوئے فرمایا تو کیا وہ اپنے ہاتھ کو تمہارے منہ میں ہی رہنے دیتا تاکہ تم اسے سانڈ کی طرح چباتے رہتے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17966]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2265، م: 1674
حدیث نمبر: 17967
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ عُمَرَ فِي سَفَرٍ، وَأَنَّهُ طَلَبَ إِلَى عُمَرَ أَنْ يُرِيَهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نُزِّلَ عَلَيْهِ، قَالَ: فَبَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَعَلَيْهِ سِتْرٌ، مَسْتُورٌ مِنَ الشَّمْسِ، إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ جُبَّةٌ، وَعَلَيْهَا رَدْعٌ مِنْ زَعْفَرَانٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَحْرَمْتُ بِعُمْرَةٍ، وَإِنَّ النَّاسَ يَسْخَرُونَ مِنِّي، فَكَيْفَ أَصْنَعُ؟ قَالَ: فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُجِبْهُ، فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ أَوْمَأَ إِلَيَّ عُمَرُ بِيَدِهِ، فَأَدْخَلْتُ رَأْسِي مَعَهُمْ فِي السِّتْرِ، فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْمَرٌّ وَجْنَتَاهُ، لَهُ غَطِيطٌ، سَاعَةً، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَجَلَسَ فَقَالَ:" أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْعُمْرَةِ؟" فَقَامَ إِلَيْهِ الرَّجُلُ، فَقَالَ:" انْزِعْ جُبَّتَكَ هَذِهِ عَنْكَ، وَمَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجِّكَ إِذَا أَحْرَمْتَ فَاصْنَعْهُ فِي عُمْرَتِكَ" .
صفوان بن یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت یعلی رضی اللہ عنہ، سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے کہا کرتے تھے کہ کاش! میں نبی صلی اللہ علیہ کو نزول وحی کی کیفیت میں دیکھ پاتا، ایک مرتبہ وہ جعرانہ میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطہر پر ایک کپڑا تھا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سایہ کیا گیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کچھ صحابہ رضی اللہ عنہ تھے جن میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ اسی دوران ایک آدمی آیا جس نے ایک جبہ پہن رکھا تا اور وہ خوشبو سے مہک رہا تھا، اس نے آکر پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کے بارے آپ کی کیا رائے ہے جس نے اچھی طرح خوشبو لگانے کے بعد ایک جبہ میں عمرہ کا احرام باندھا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لمحے کے لئے سوچا پھر خاموش ہوگئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے لگی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت یعلی رضی اللہ عنہ کو اشارہ سے بلایا، وہ آئے اور اپنا سر خیمے میں داخل کردیا، دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا روئے انور سرخ ہو رہا ہے، کچھ دیر تک اسی طرح سانس کی آواز آتی رہی، پھر وہ کیفیت ختم ہوگئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص کہاں گیا جس نے ابھی مجھ سے عمرہ کے متعلق پوچھا تھا؟ اس آدمی کو تلاش کر کے لایا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے جو خوشبو لگا رکھی ہے، اسے تین مرتبہ دھو لو، جبہ اتار دو اور اپنے عمرے کے ارکان اسی طرح ادا کرو، جس طرح حج کے ارکان ادا کرتے ہو۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17967]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1536، م: 1180
حدیث نمبر: 17968
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ الْحَيَاءَ وَالسَّتْرَ" .
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ حیاء اور پردہ پوشی کو پسند فرماتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17968]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لانقطاعه، عطاء لم يسمع من يعلى، وابن أبى ليلي ضعيف
حدیث نمبر: 17969
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ يَعْلَى ، عَنْ أَبِيهِ ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ طَافَ بِالْبَيْتِ وَهُوَ مُضْطَبِعٌ بِبُرْدٍ لَهُ حَضْرَمِيٍّ" .
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت موت کی چادر سے اضطباع کرتے ہوئے (حالت احرام میں دائیں کندھے سے کپڑا ہٹائے ہوئے) دیکھا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17969]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، ابن جريج لم يسمعه من أبن يعلى، وقد دلسه عنه
حدیث نمبر: 17970
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَيِيٌّ سِتِّيرٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَغْتَسِلَ، فَلْيَتَوَارَى بِشَيْءٍ" .
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ بہت زیادہ حیاء اور پردہ پوشی والا ہے اس لئے جب تم میں سے کسی کا غسل کرنے کا ارادہ ہو تو اسے کسی چیز سے آڑ لینی چاہئے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17970]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
597. حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي قُرَادٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 17971
حَدَّثَنَا عَبْدُ الله، حَدَّثَنَا أبِي، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ . حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي. وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ خُزَيْمَةَ ، والْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي قُرَادٍ ، قَالَ:" خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا، فَرَأَيْتُهُ خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ، فَاتَّبَعْتُهُ بِالْإِدَاوَةِ أَوْ الْقَدَحِ، فَجَلَسْتُ لَهُ بِالطَّرِيقِ، وَكَانَ إِذَا أَتَى حَاجَتَهُ أَبْعَدَ" .
حضرت عبدالرحمن بن ابی قراد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کی نیت سے نکلا میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے نکلے ہیں تو میں پانی کا برتن لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلا گیا اور راستے میں بیٹھ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے لئے دور جایا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17971]
الحكم على الحديث:
أسانيده كلها صحيحة
598. حَدِيثُ رَجُلَيْنِ أَتَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 17972
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَي أَبِي ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيٍّ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَجُلَيْنِ أَخْبَرَاهُ، أَنَّهُمَا أَتَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلَانِهِ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَقَلَّبَ فِيهِمَا الْبَصَرَ، وَرَآهُمَا جَلْدَيْنِ، فَقَالَ: " إِنْ شِئْتُمَا أَعْطَيْتُكُمَا، وَلَا حَظَّ فِيهَا لِغَنِيٍّ وَلَا لِقَوِيٍّ مُكْتَسِبٍ" ..
دو آدمی ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں صدقات و عطیات کی درخواست لے کر آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نگاہ اٹھا کر انہیں اوپر سے نیچے تک دیکھا اور انہیں تندرست و توانا پایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم چاہتے ہو تو میں تمہیں دے دیتا ہوں، لیکن اس میں کسی مالدار شخص کا کوئی حصہ ہے اور نہ ہی کسی ایسے طاقتور کا جو کمائی کرسکے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17972]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17973
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلَانِ أَنَّهُمَا أَتَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، قَالَ فَصَعَّدَ فِيهِمَا، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
599. حَدِيثُ ذُؤَيْبٍ أَبِي قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 17974
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ سِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ ذُؤَيْبًا أَبَا قَبِيصَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْعَثُ بِالْبُدْنِ فَيَقُولُ: " إِنْ عَطِبَ مِنْهَا شَيْءٌ، فَخَشِيتَ عَلَيْهِ، فَانْحَرْهَا، وَاغْمِسْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا، وَاضْرِبْ صَفْحَتَهَا، وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ رُفْقَتِكَ" .
حضرت ذؤیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہدی کے جانور بھیجا کرتے تھے اور فرماتے تھے اگر تمہیں کسی جانور کے مرنے کا اندیشہ ہو تو اسے ذبح کردو اس کے نعل کو خون میں رنگ دو اور اس کی پیشانی یا پہلو پر لگا دو اور خود تم یا تمہارے رفقاء اس میں سے کچھ نہ کھاؤ۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17974]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م:1326
حدیث نمبر: 17975
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ ذُؤَيْبًا أَخْبَرَهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مَعَهُ بِبَدَنَتَيْنِ،" وَأَمَرَهُ إِنْ عَرَضَ لَهُمَا شَيْءٌ أَوْ عَطِبَتَا أَنْ يَنْحَرَهُمَا، ثُمَّ يَغْمِسَ نِعَالَهُمَا فِي دِمَائِهِمَا، ثُمَّ يَضْرِبَ بِنَعْلِ كُلِّ وَاحِدَةٍ صَفْحَتَهَا، وَيُخْلِيَهَا لِلنَّاسِ، وَلَا يَأْكُلَ مِنْهَا هُوَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ" . قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَكَانَ يَقُولُه مُرْسَلًا يَعْنِي مَعْمَرًا، عَنْ قَتَادَةَ، ثُمَّ كَتَبْتُهُ لَهُ مِنْ كِتَابِ سَعِيدٍ، فَأَعْطَيْتُهُ. فَنَظَرَ، فَقَرَأَهُ، فَقَالَ: نَعَمْ، وَلَكِنِّي أَهَابُ إِذَا لَمْ أَنْظُرْ فِي الْكِتَابِ.
حضرت ذؤیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہدی کے جانور بھیجا کرتے تھے اور فرماتے تھے اگر تمہیں کسی جانور کے مرنے کا اندیشہ ہو تو اسے ذبح کردو اس کے نعل کو خون میں رنگ دو اور اس کی پیشانی یا پہلو پر لگا دو اور خود تم یا تمہارے رفقاء اس میں سے کچھ نہ کھاؤ۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17975]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م:1326