مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
589. حَدِيثُ خَالِدِ بْنِ عَدِيٍّ الْجُهَنِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 17936
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَدِيٍّ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ بَلَغَهُ مَعْرُوفٌ عَنْ أَخِيهِ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ، وَلَا إِشْرَافِ نَفْسٍ، فَلْيَقْبَلْهُ وَلَا يَرُدَّهُ، فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ سَاقَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ" .
حضرت خالد بن عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس شخص کو بن مانگے اور بن متوجہ ہوئے اپنے بھائی سے کوئی اچھائی تو اسے قبول کرلینا چاہئے، اسے رد نہیں کرنا چاہئے کیونکہ یہ اس کا رزق ہے جو اللہ نے اس کے پاس بھیجا ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17936]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
590. حَدِيثُ الْحَارِثِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 17937
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ سَعْدِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَارِثَ بْنَ زِيَادٍ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحَبَّ الْأَنْصَارَ، أَحَبَّهُ اللَّهُ حِينَ يَلْقَاهُ، وَمَنْ أَبْغَضَ الْأَنْصَارَ، أَبْغَضَهُ اللَّهُ حِينَ يَلْقَاهُ" .
حضرت حارث بن زیاد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص بھی انصار سے محبت کرتا ہوا اللہ سے ملاقات کرے گا، اللہ سے اس طرح ملے گا کہ اللہ خود اس سے محبت کرتا ہوگا اور جو شخص بھی انصار سے نفرت کرتا ہوا اللہ سے ملاقات کرے گا، وہ اللہ سے اس طرح ملے گا کہ اللہ خود اس سے نفرت کرتا ہوگا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17937]
الحكم على الحديث:
حديث قوي، وهذا إسناد محتمل للتحسين
591. حَدِيثُ أَبِي لَاسٍ الْخُزَاعِيِّ وَيُقَالُ لَهُ ابْنُ لَاسٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 17938
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُمَرِ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِي لَاسٍ الْخُزَاعِيِّ ، قَالَ: حَمَلَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِبِلٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ لِلْحَجِّ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا نَرَى أَنْ تَحْمِلَنَا هَذِهِ. قَالَ: " مَا مِنْ بَعِيرٍ إِلَّا فِي ذُرْوَتِهِ شَيْطَانٌ، فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِذَا رَكِبْتُمُوهَا كَمَا أَمَرَكُمْ، ثُمَّ امْتَهِنُوهَا لِأَنْفُسِكُمْ، فَإِنَّمَا يَحْمِلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ" .
حضرت ابول اس خزاعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حج کے موقع پر صدقہ کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ سواری کے لئے مرحمت فرمایا: ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم شاید یہ (کمزوری کی وجہ سے) ہمارا بوجھ نہ اٹھا سکے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر اونٹ کے کوہان میں ایک شیطان ہوتا ہے، جب تم اس پر سوار ہونے لگو تو اللہ کا نام لے کر سوار ہوا کرو جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے، پھر اسے اپنے قابو میں کرلو، اللہ تعالیٰ اسے سواری کے قابل بنا دے گا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17938]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 17939
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ، وَكَانَ ثِقَةً، عَنِ أَبِي لَاسٍ الْخُزَاعِيِّ ، قَالَ: حَمَلَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِبِلٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ ضِعَافٍ إِلَى الْحَجِّ، قَالَ: فَقُلْنَا: لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذِهِ الْإِبِلَ ضِعَافٌ نَخْشَى أَنْ لَا تَحْمِلَنَا. قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ بَعِيرٍ إِلَّا فِي ذُرْوَتِهِ شَيْطَانٌ، فَارْكَبُوهُنَّ، وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِنَّ كَمَا أُمِرْتُمْ، ثُمَّ امْتَهِنُوهُنَّ لِأَنْفُسِكُمْ فَإِنَّمَا يَحْمِلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ" .
حضرت ابول اس خزاعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حج کے موقع پر صدقہ کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ سواری کے لئے مرحمت فرمایا: ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم شاید یہ کمزوری کی وجہ سے ہمارا بوجھ نہ اٹھا سکے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر اونٹ کے کوہان میں ایک شیطان ہوتا ہے، جب تم اس پر سوار ہونے لگو تو اللہ کا نام لے کر سوار ہو جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے، پھر اسے اپنے قابو میں کرلو، اللہ تعالیٰ اسے سواری کے قابل بنا دے گا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17939]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
592. حَدِيثُ يَزِيدَ بْنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 17940
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَأْخُذَنَّ أَحَدُكُمْ مَتَاعَ صَاحِبِهِ جَادًّا وَلَا لَاعِبًا، وَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ عَصَا صَاحِبِهِ فَلْيَرْدُدْهَا عَلَيْهِ" .
حضرت ابوالسائب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے ساتھی کا سامان سنجیدگی میں اٹھائے اور نہ دل لگی میں اور اگر تم میں سے کسی کو اپنے ساتھی کی لاٹھی بھی ملے تو اسے واپس لوٹا دے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17940]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17941
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَأْخُذَنَّ أَحَدُكُمْ مَتَاعَ صَاحِبِهِ لَعِبًا جَادًّا، وَإِذَا أَخَذَ أَحَدُكُمْ عَصَا أَخِيهِ، فَلْيَرْدُدْهَا عَلَيْهِ" .
حضرت ابوالسائب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے ساتھی کا سامان سنجیدگی میں اٹھائے اور نہ دل لگی میں اور اگر تم میں سے کسی کو اپنے ساتھی کی لاٹھی بھی ملے تو اسے واپس لوٹا دے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17941]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17942
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَأْخُذَنَّ أَحَدُكُمْ مَتَاعَ صَاحِبِهِ لَعِبًا جَادًّا، وَإِذَا أَخَذَ أَحَدُكُمْ عَصَا أَخِيهِ فَلْيَرْدُدْهَا عَلَيْهِ" .
حضرت ابوالسائب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے ساتھی کا سامان سنجیدگی میں اٹھائے اور نہ دل لگی میں اور اگر تم میں سے کسی کو اپنے ساتھی کی لاٹھی بھی ملے تو اسے واپس لوٹا دے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17942]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17943
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا دَعَا فَرَفَعَ يَدَيْهِ مَسَحَ وَجْهَهُ بِيَدَيْهِ" . قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَقَدْ خَالَفُوا قُتَيْبَةَ فِي إِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثِ، وَأَحْسِبُ قُتَيْبَةَ وَهِمَ فِيهِ، يَقُولُونَ: عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ.
حضرت یزید ابو سائب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب دعاء کرتے تو اپنے ہاتھوں کو بلند فرماتے اور اپنے چہرے پر دونوں ہاتھ پھیر لیتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17943]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة حفص بن هاشم، ولسوء حفظ ابن لهيعة
593. حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 17944
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا مَجْمَعُ بْنُ يَعْقُوبَ مِنْ أَهْلِ قُبَاءَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، أَنَّ بَعْضَ أَهْلِهِ قَالَ لِجَدِّهِ مِنْ قِبَلِ أُمِّهِ، وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي حَبِيبَةَ : مَا أَدْرَكْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" أَتَانَا فِي مَسْجِدِنَا هَذَا، فَجِئْتُ فَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَأُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ، ثُمَّ نَاوَلَنِي وَأَنَا عَنْ يَمِينِهِ". قَالَ:" وَرَأَيْتُهُ يَوْمَئِذٍ صَلَّى فِي نَعْلَيْهِ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ" .
محمد بن اسماعیل کہتے ہیں کہ ان کے گھر والوں میں سے کسی نے ان کے نانا یعنی حضرت عبداللہ بن ابی حبیبہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کون سا واقعہ یاد رکھا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہماری اس مسجد میں تشریف لائے تھے، میں آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں بیٹھ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پینے کے لئے پانی لایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرما کر مجھے دے دیا کیونکہ میں دائیں جانب تھا، اس دن میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جوتے پہن کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا اور میں اس وقت نو عمر تھا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17944]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لانقطاعه، محمد بن إسماعيل لم يدرك جده، وهو مجهول الحال
594. حَدِيثُ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الثَّقَفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 17945
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ الشَّرِيدِ ، أَنَّ أُمَّهُ أَوْصَتْ أَنْ يُعْتِقَ عَنْهَا رَقَبَةً مُؤْمِنَةً، فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: عِنْدِي جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ نُوبِيَّةٌ، فَأَعْتِقُهَا؟ فَقَالَ:" ائْتِ بِهَا". فَدَعَوْتُهَا، فَجَاءَتْ، فَقَالَ لَهَا:" مَنْ رَبُّكِ؟" قَالَتْ: اللَّهُ. قَالَ:" مَنْ أَنَا؟" فَقَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: " أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ" .
حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہیں ان کی والدہ نے یہ وصیت کی کہ ان کی طرف سے ایک مسلمان غلام آزاد کردیں، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھتے ہوئے کہا کہ میرے پاس حبشہ کے ایک علاقے نوبیہ کی ایک باندی ہے، کیا میں اسے آزاد کرسکتا ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے لے کر آؤ، میں نے اسے بلایا، وہ آگئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا تیرا رب کون ہے؟ اس نے کہا اللہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا میں کون ہوں؟ اس نے جواب دیا آپ اللہ کے رسول ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے آزاد کردو، یہ مسلمان ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17945]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن