مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
492. حَدِیث عقبَةَ بنِ عَامِر الجهَنِیِّ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 17386
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا: أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَأَمَرَتْنِي أَنْ أَسْتَفْتِيَ لَهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَفْتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لِتَمْشِ وَلْتَرْكَبْ" قَالَ: وَكَانَ أَبُو الْخَيْرِ لَا يُفَارِقُ عُقْبَةَ..
ابو الخیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ نے پیدل چل کر حج کرنے کی منت مانی تھی، حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے حکم دو کہ وہ سوار ہو کر جائے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17386]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1866، م: 1644
حدیث نمبر: 17387
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ أَخْبَرَهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17387]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1866، م: 1644
حدیث نمبر: 17388
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَعَ رَاكِبَانِ، فَلَمَّا رَآهُمَا قَالَ:" كِنْدِيَّانِ مَذْحِجِيَّانِ" حَتَّى أَتَيَاهُ، فَإِذَا رِجَالٌ مِنْ مَذْحِجٍ، قَالَ: فَدَنَا إِلَيْهِ أَحَدُهُمَا لِيُبَايِعَهُ، قَالَ: فَلَمَّا أَخَذَ بِيَدِهِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ مَنْ رَآكَ فَآمَنَ بِكَ وَصَدَّقَكَ وَاتَّبَعَكَ، مَاذَا لَهُ؟ قَالَ:" طُوبَى لَهُ"، قَالَ: فَمَسَحَ عَلَى يَدِهِ فَانْصَرَفَ، ثُمَّ أَقْبَلَ الْآخَرُ حَتَّى أَخَذَ بِيَدِهِ لِيُبَايِعَهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ مَنْ آمَنْ بِكَ وَصَدَّقَكَ وَاتَّبَعَكَ وَلَمْ يَرَكَ؟ قَالَ: " طُوبَى لَهُ، ثُمَّ طُوبَى لَهُ، ثُمَّ طُوبَى لَهُ"، قَالَ: فَمَسَحَ عَلَى يَدِهِ، فَانْصَرَفَ .
حضرت ابو عبدالرحمن جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ دو سوار آتے ہوئے دکھائی دیئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر فرمایا کہ ان کا تعلق قبیلہ کندہ کے بطن مذحج سے ہے، جب وہ قریب پہنچے تو واقعۃ دو مذحجی تھے، ان میں سے ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کے لئے آگے بڑھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک ہاتھوں میں تھام کر کہنے لگا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ بتائیے کہ جس شخص نے آپ کی زیارت کی، آپ پر ایمان لایا، آپ کی تصدیق کی اور آپ کی پیروی کی، تو اسے کیا ملے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے لئے خوشخبری ہے، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر ہاتھ پھیرا اور واپس چلا گیا، پھر دوسرے نے آگے بڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک بیعت کے لئے تھاما تو کہنے لگا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ بتائیے کہ اگر کوئی شخص آپ پر ایمان لائے، آپ کی تصدیق اور پیروی کرے لیکن آپ کی زیارت نہ کرسکے تو اسے کیا ملے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا اس کے لئے خوشخبری ہے اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر ہاتھ پھیرا اور واپس چلا گیا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17388]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 17389
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَنَّ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عَابِسٍ الْجُهَنِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ:" يَا ابْنَ عَابِسٍ، أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَفْضَلِ مَا تَعَوَّذَ بِهِ الْمُتَعَوِّذُونَ؟" قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ هَاتَيْنِ السُّورَتَيْنِ .
حضرت ابن عابس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے ابن عابس! کیا میں تمہیں تعوذ کے سب سے افضل کلمات کے بارے میں نہ بتاؤں جن سے تعوذ کرنے والے تعوذ کرتے ہیں؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کیوں نہیں، فرمایا دو سورتیں ہیں سورت فلق اور سورت ناس۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17389]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 814
حدیث نمبر: 17390
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ هَمَّارٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ، اكْفِنِي أَوَّلَ النَّهَارِ بِأَرْبَعِ رَكَعَاتٍ، أَكْفِكَ بِهِنَّ آخِرَ يَوْمِكَ" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم! دن کے پہلے حصے میں تو چار رکعت پڑھ کر میری کفایت کر، میں ان کی برکت سے دن کے آخرت تک تیری کفایت کروں گا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17390]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17391
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعْيدٍ الْأَعْمَى ، يُحَدِّثُ عَطَاءً، قَالَ: رَحَلَ أَبُو أَيُّوبَ إِلَى عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، فَأَتَى مَسْلَمَةَ بْنَ مَخْلَدٍ فَخَرَجَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: دُلُّونِي، فَأَتَى عُقْبَةَ ، فَقَالَ: حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ سَمِعَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ سَتَرَ عَلَى مُؤْمِنٍ فِي الدُّنْيَا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" ، فَأَتَى رَاحِلَتَهُ فَرَكِبَ وَرَجَعَ.
عطاء کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سفر کر کے حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، لیکن وہ حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گئے، حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ مجھے حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کا پتہ بتادو، چنانچہ وہ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور کہنے لگے کہ ہمیں وہ حدیث سنائیے جو آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سنی ہے اور اب کوئی شخص اس کی سماعت کرنے والا باقی نہیں رہا؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص دنیا میں اپنے بھائی کے کسی عیب کو چھپالے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے عیوب پر پردہ ڈال دے گا؟ یہ حدیث سن کر وہ اپنی سواری کے پاس آئے، اس پر سوار ہوئے اور واپس چلے گئے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17391]
الحكم على الحديث:
المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى سعيد
حدیث نمبر: 17392
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ الْقَاسِمِ مَوْلَى مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: كُنْتُ أَقُودُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاحِلَتَهُ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ:" يَا عُقْبَةُ، أَلَا أُعَلِّمُكَ خَيْرَ سُورَتَيْنِ قُرِئَتَا؟" قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: " قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ و َقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ" فَلَمَّا نَزَلَ صَلَّى بِهِمَا صَلَاةَ الْغَدَاةِ، قَالَ:" كَيْفَ تَرَى يَا عُقْبَةُ؟" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں کسی راستے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے آگے آگے چل رہا تھا، اچانک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کیا م ہیں تمہیں ایسی دو سورتیں نہ سکھا دوں، جن کی مثل نہ ہو؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سورت فلق اور سورت ناس پڑھائیں، پھر نماز کھڑی ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے اور نماز فجر میں یہی دونوں سورتیں پڑھیں، پھر میرے پاس سے گذرتے ہوئے فرمایا اے عقبہ! تم کیا سمجھے؟ (یہ دونوں سورتیں سوتے وقت بھی پڑھا کرو اور بیدار ہو کر بھی پڑھا کرو)۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17392]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 814
حدیث نمبر: 17393
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ . قَالَ: وحَدَّثَهُ أَبُو عُثْمَانَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: كَانَتْ عَلَيْنَا رِعَايَةُ الْإِبِلِ، فَجَاءَتْ نَوْبَتِي فَرَوَّحْتُهَا بِعَشِيٍّ، فَأَدْرَكْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا يُحَدِّثُ النَّاسَ، فَأَدْرَكْتُ مِنْ قَوْلِهِ:" مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ مُقْبِلًا عَلَيْهِمَا بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ، إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ"، فَقُلْتُ: مَا أَجْوَدَ هَذِهِ؟ فَإِذَا قَائِلٌ بَيْنَ يَدَيَّ يَقُولُ: الَّتِي قَبْلَهَا أَجْوَدُ مِنْهَا، فَنَظَرْتُ، فَإِذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَالَ: إِنِّي قَدْ رَأَيْتُكَ جِئْتَ آنِفًا، قَالَ: " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ، فَيُسْبِغُ الْوُضُوءَ، ثُمَّ يَقُولُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، إِلَّا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةُ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ اپنے کام خود کرتے تھے اور آپس میں اونٹوں کو چرانے کی باری مقرر کرلیتے تھے، ایک دن جب میری باری آئی اور میں انہیں دوپہر کے وقت لے کر چلا، تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کے سامنے کھڑے ہو کر بیان کرتے ہوئے دیکھا، میں نے اس موقع پر جو کچھ پایا، وہ یہ تھا کہ تم میں سے جو شخص وضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے، پھر کھڑا ہو کردو رکعتیں پڑھے جن میں وہ اپنے دل اور چہرے کے ساتھ متوجہ رہے تو اس کے لئے جنت واجب ہوگئی اور اس کے سارے گناہ معاف ہوگئے۔ میں نے کہا کہ یہ کتنی عمدہ بات ہے، اس پر مجھ سے آگے والے آدمی نے کہا کہ عقبہ! اس سے پہلے والی بات اس سے بھی عمدہ تھی، میں نے دیکھا تو وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے، میں نے پوچھا اے ابو حفص! وہ کیا بات ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ تمہارے آنے سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ تم میں سے جو شخص وضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے، پھر یوں کہے اشہد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ وان محمدا عبدہ ورسولہ۔ تو اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جائیں گے کہ جس دروازے سے چاہے، داخل ہوجائے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17393]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 234
حدیث نمبر: 17394
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنَا قَبَاثُ بْنُ رَزِينٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَتَدَارَسُ الْقُرْآنَ، قَالَ: " تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ وَاقْتَنُوهُ"، قَالَ قَبَاثٌ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ:" وَتَغَنُّوا بِهِ، فَإِنَّهُ أَشَدُّ تَفَلُّتًا مِنَ الْمَخَاضِ فِي عُقُلِهَا" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ مسجد میں بیٹھے قرآن کریم کی تلاوت کر رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے اور ہمیں سلام کیا، ہم نے جواب دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کتاب اللہ کا علم حاصل کیا کرو، اسے مضبوطی سے تھامو اور ترنم کے ساتھ اسے پڑھا کرو، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے، یہ قرآن باڑے میں بندھے ہوئے اونٹوں سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ نکل جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17394]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح ، وهذا إسناد جيد
حدیث نمبر: 17395
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَشِيطٍ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ دُخَيْنٍ كَاتِبِ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعُقْبَةَ: إِنَّ لَنَا جِيرَانًا يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ، وَأَنَا دَاعٍ لَهُمْ الشُّرَطَ فَيَأْخُذُونَهُمْ، فَقَالَ: لَا تَفْعَلْ، وَلَكِنْ عِظْهُمْ وَتَهَدَّدْهُمْ، قَالَ: فَفَعَلَ فَلَمْ يَنْتَهُوا، قَالَ: فَجَاءَهُ دُخَيْنٌ، فَقَالَ: إِنِّي نَهَيْتُهُمْ فَلَمْ يَنْتَهُوا، وَأَنَا دَاعٍ لَهُمْ الشُّرَطَ، فَقَالَ عُقْبَةُ : وَيْحَكَ، لَا تَفْعَلْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ سَتَرَ عَوْرَةَ مُؤْمِنٍ، فَكَأَنَّمَا اسْتَحْيَا مَوْءُودَةً مِنْ قَبْرِهَا" .
دخین جو حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کا کاتب تھا، سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ ہمارے پڑوسی شراب پیتے ہیں، میں پولیس کو بلانے جا رہا ہوں تاکہ وہ آکر انہیں پکڑ لے، حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایسا نہ کرو، بلکہ انہیں سمجھاؤ اور ڈراؤ،۔ کاتب نے ایسا ہی کیا لیکن وہ باز نہ آئے، چنانچہ دخین دوبارہ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں نے انہیں منع کیا لیکن وہ باز نہ آئے اور اب تو میں پولیس کو بلا کر رہوں گا، حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا افسوس! ایسا مت کرو، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کے عیوب پر پردہ ڈالتا ہے، گویا وہ کسی زندہ درگور کی ہوئی بچی کو بچا لیتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17395]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لاضطراب فى إسناده، ولجهالة أبى الهيثم