🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
492. حَدِیث عقبَةَ بنِ عَامِر الجهَنِیِّ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17406
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو ، أَنَّ مِشْرَحَ بْنَ هَاعَانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " أَهْلُ الْيَمَنِ أَرَقُّ قُلُوبًا، وَأَلْيَنُ أَفْئِدَةً، وَأَنْجَعُ طَاعَةً" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اہل یمن رقیق القلب، نرم دل اور خوب اطاعت گذار ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17406]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره دون قوله: «وأنجع طاعة» ، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17407
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، أَخْبَرَنِي بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو ، أَنَّ شُعَيْبَ بْنَ زُرْعَةَ أَخْبَرَهُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ لِأَصْحَابِهِ: " لَا تُخِيفُوا أَنْفُسَكُمْ أَوْ قَالَ: الْأَنْفُسَ" فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا نُخِيفُ أَنْفُسَنَا؟ قَالَ:" الدَّيْنَ" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اپنے آپ کو پرامن ہونے کے بعد خطرے میں مبتلا نہ کیا کرو، لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم وہ کیسے؟ فرمایا قرض لے کر۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17407]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17408
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُلَيٍّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ ، يَقُولُ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَنَحْنُ فِي الصُّفَّةِ، فَقَالَ:" أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يَغْدُوَ إِلَى بُطْحَانَ أَوْ الْعَقِيقِ، فَيَأْتِيَ كُلَّ يَوْمٍ بِنَاقَتَيْنِ كَوْمَاوَيْنِ زَهْرَاوَيْنِ، فَيَأْخُذَهُمَا فِي غَيْرِ إِثْمٍ وَلَا قَطْعِ رَحِمٍ؟" قَالَ: قُلْنَا: كُلُّنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ يُحِبُّ ذَلِكَ، قَالَ: " فَلَأَنْ يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَيَتَعَلَّمَ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ نَاقَتَيْنِ، وَثَلَاثٌ خَيْرٌ مِنْ ثَلَاثٍ، وَأَرْبَعٌ خَيْرٌ مِنْ أَرْبَعٍ، وَمِنْ أَعْدَادِهِنَّ مِنَ الْإِبِلِ" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ صفہ پر بیٹھے ہوئے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وہاں تشریف لے آئے اور فرمایا کہ تم میں سے کون شخص اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ مقام بطھان یا عقیق جائے اور روزانہ دو بڑے کوہانوں اور روشن پیشانیوں والی اونٹنیاں بغیر کسی گناہ اور قطع رحمی کے اپنے ساتھ لے آئے؟ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے ہر شخص اسے پسند کرتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جو شخص مسجد میں آکر کتاب اللہ کی دو آیتیں سیکھ لے، وہ اس کے لئے مذکورہ دو اونٹنیوں سے بہتر ہے، تین آیتوں کا سیکھنا تین اونٹنیوں سے اور چار آیات کا سیکھنا چار اونٹنیوں سے بہتر ہے، اسی طرح درجہ بدرجہ آیات اور اونٹنیوں کی تعداد بڑھاتے جاؤ۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17408]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 803
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17409
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنِي مِشْرَحُ بْنُ هَاعَانَ أَبُو الْمُصْعَبِ الْمَعَافِرِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَوْ أَنَّ الْقُرْآنَ فِي إِهَابٍ، ثُمَّ أُلْقِيَ فِي النَّارِ، مَا احْتَرَقَ" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر قرآن کریم کو کسی چمڑے میں لپیٹ کر بھی آگ میں ڈال دیا جائے تو آگ اسے جلائے گی نہیں۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17409]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، وهو لم يرفع هذا الحديث إلا فى آخر عمره، وذلك حين اختلط، أحاديث مشرح بن هاعان عن عقبة مناكير
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17410
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْمُصْعَبِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " أَكْثَرُ مُنَافِقِي هَذِهِ الْأُمَّةِ قُرَّاؤُهَا" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت کے اکثر منافقین قراء ہوں گے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17410]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد، أبو عبدالرحمن سمع من ابن لهيعة قبل احتراق كتبه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17411
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا مِشْرَحُ بْنُ هَاعَانَ ، عَنْ عُقَبْة بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " إِنَّ أَكْثَرَ مُنَافِقِي هَذِهِ الْأُمَّةِ لَقُرَّاؤُهَا" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت کے اکثر منافقین قراء ہوں گے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17411]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل مشرح بن هاعان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17412
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفُضِّلَتْ سُورَةُ الْحَجِّ عَلَى الْقُرْآنِ بِأَنْ جُعِلَ فِيهَا سَجْدَتَانِ؟ فَقَالَ: " نَعَمْ، وَمَنْ لَمْ يَسْجُدْهُمَا فَلَا يَقْرَأْهُمَا" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا پورے قرآن میں سورت حج ہی کی یہ فضیلت ہے کہ اس میں دو سجدے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! اور جو شخص یہ دونوں سجدے نہیں کرتا گویا اس نے یہ سورت پڑھی ہی نہیں۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17412]

الحكم على الحديث:
حسن بطرقه وشواهده دون قوله: «ومن لم يسجدهما فلا يقرأهما» ، وهذا الإسناد ضعيف، حديث مشرح عن عقبة خاصة مقال
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17413
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنِي مِشْرَحُ بْنُ هَاعَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " أَسْلَمَ النَّاسُ، وَآمَنَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِي" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگوں نے اسلام قبول کیا ہے اور عمرو بن عاص ایمان لائے ہیں۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17413]

الحكم على الحديث:
حديث محتمل للتحسين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17414
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ أَيُّوبَ الْغَافِقِيَّ ، حَدَّثَنِي عَمِّي إِيَاسُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، يَقُولُ: لَمَّا نَزَلَتْ فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اجْعَلُوهَا فِي رُكُوعِكُمْ"، فَلَمَّا نَزَلَتْ سَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى قَالَ:" اجْعَلُوهَا فِي سُجُودِكُمْ" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت مبارکہ فسبح باسم ربک العظیم نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے تم اپنے رکوع میں شامل کرلو (اسی وجہ سے رکوع میں سبحان ربی العظیم کہا جاتا ہے) اور جب سبح اسم ربک الاعلی نازل ہوئی تو فرمایا اسے اپنے سجدہ میں شامل کرلو۔ (اسی وجہ سے سجدہ میں سبحان ربی الاعلی کہا جاتا ہے)۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17414]

الحكم على الحديث:
إسناده محتمل للتحسين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17415
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي قَبِيلٍ ، قَالَ: لَمْ أَسْمَعْ مِنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ. قَالَ ابْنُ لَهِيعَةَ : وَحَدَّثَنِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " هَلَاكُ أُمَّتِي فِي الْكِتَابِ وَاللَّبَنِ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْكِتَابُ وَاللَّبَنُ؟ قَالَ:" يَتَعَلَّمُونَ الْقُرْآنَ فَيَتَأَوَّلُونَهُ عَلَى غَيْرِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَيُحِبُّونَ اللَّبَنَ فَيَدَعُونَ الْجَمَاعَاتِ وَالْجُمَعَ وَيَبْدُونَ" .
ابوقبیل سے سندا مروی ہے کہ میں نے حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ سے صرف ذیل کی حدیث سنی ہے۔ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے اپنی امت کے متعلق کتاب اور دودھ سے خطرہ ہے، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کتاب اور دوھ سے خطرے کا کیا مطلب؟ فرمایا کہ اسے منافقین سیکھیں گے اور اہل ایمان سے جھگڑا کریں گے اور دودھ کو پسند کرتے ہوں گے اور اس کی وجہ سے جماعت سے نکل جائیں گئے اور جمعہ کی نمازیں چھوڑ دیا کریں گے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17415]

الحكم على الحديث:
إسناداه حسنان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں