مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
492. حَدِیث عقبَةَ بنِ عَامِر الجهَنِیِّ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 17396
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ"، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ؟ قَالَ:" الْحَمْوُ الْمَوْتُ" .
حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورتوں کے پاس جانے سے اپنے آپ کو بچاؤ ایک انصاری نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم دیور کا کیا حکم ہے؟ فرمایا دیور تو موت ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17396]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5232، م: 2172
حدیث نمبر: 17397
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: " إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ، وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الْآنَ، وَإِنِّي قَدْ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ، وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي، وَلَكِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور اہل احد کی قبروں پر پہنچ کر نماز جنازہ پڑھی، پھر واپس آکر منبر پر رونق افروز ہوئے اور فرمایا میں تمہارا انتظار کروں گا اور میں تمہارے لئے گواہی دوں گا، واللہ میں اس وقت بھی اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں، یاد رکھو! مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں دی گئی ہیں، بخدا! مجھے تمہارے متعلق یہ اندیشہ نہیں ہے کہ میرے پیچھے تم شرک کرنے لگو گے، بلکہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ تم دنیا میں منہمک ہو کر ایک دوسرے سے مسابقت کرنے لگو گے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17397]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1344، م: 2296
حدیث نمبر: 17398
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَزْرَقِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " غَيْرَتَانِ: إِحْدَاهُمَا يُحِبُّهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَالْأُخْرَى يُبْغِضُهَا اللَّهُ، وَمَخِيلَتَانِ: إِحْدَاهُمَا يُحِبُّهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَالْأُخْرَى يُبْغِضُهَا اللَّهُ، الْغَيْرَةُ فِي الرَّمْيَةِ يُحِبُّهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَالْغَيْرَةُ فِي غَيْرِهِ يُبْغِضُهَا اللَّهُ، وَالْمَخِيلَةُ إِذَا تَصَدَّقَ الرَّجُلُ يُحِبُّهَا اللَّهُ، وَالْمَخِيلَةُ فِي الْكِبْرِ يُبْغِضُهَا اللَّهُ" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا غیر کی دو قسمیں ہیں جن میں سے ایک اللہ تعالیٰ کو پسند اور دوسری ناپسند ہے اور فخر کی بھی دو قسمیں ہیں جن میں سے ایک اللہ تعالیٰ کو پسند اور دوسری ناپسند ہے، شک کے موقع پر غیرت اللہ کو پسند ہے، غیر اللہ کے معاملے غیرت اللہ کو ناپسند ہے، صدقہ کرنے والے آدمی کا فخر اللہ کو پسند ہے اور تکبر کا فخر اللہ کو ناپسند ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17398]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالله بن زيد، ووهم معمر فى هذا الإسناد، فقال: زيد بن سلام، والصواب: أبو سلام
حدیث نمبر: 17399
وَقَالَ: " ثَلَاثٌ مُسْتَجَابٌ لَهُمْ دَعْوَتُهُمْ الْمُسَافِرُ، وَالْوَالِدُ، وَالْمَظْلُومُ" .
اور فرمایا تین قسم کے لوگ مستجاب الدعوات ہوتے ہیں، مسافر، والد اور مظلوم۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17399]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وإسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 17400
وَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ الْجَنَّةَ ثَلَاثَةً صَانِعَهُ، وَالْمُمِدَّ بِهِ، وَالرَّامِيَ بِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
اور فرمایا اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا ایک تو اسے بنانے والا دوسرا اس کا معاون اور تیسرا اسے چلانے والا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17400]
الحكم على الحديث:
حديث حسن بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 17401
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْفَرَجُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيُّ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْمِصْرِيِّ ، قَالَ: سَافَرْنَا مَعَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، فَحَضَرَتْنَا الصَّلَاةُ، فَأَرَدْنَا أَنْ يَتَقَدَّمَنَا، قَالَ: قُلْنَا: أَنْتَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَتَقَدَّمُنَا! قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ أَمَّ قَوْمًا، فَإِنْ أَتَمَّ فَلَهُ التَّمَامُ وَلَهُمْ التَّمَامُ، وَإِنْ لَمْ يُتِمَّ، فَلَهُمْ التَّمَامُ وَعَلَيْهِ الْإِثْمُ" .
ابو علی ہمدانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سفر پر روانہ ہوا، ہمارے ساتھ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بھی تھے، ہم نے ان سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں آپ پر ہوں، آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، لہذا آپ ہماری امامت کیجئے، انہوں نے انکار کردیا اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص لوگوں کی امامت کرے، بروقت اور مکمل نماز پڑھائے تو اسے بھی ثواب ملے گا اور مقتدیوں کو بھی اور جو شخص اس میں کوتاہی کرے گا تو اس کا وبال اسی پر ہوگا، مقتدیوں پر نہیں ہوگا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17401]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف فرج بن فضالة، وعبدالله بن عامر
حدیث نمبر: 17402
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ بَعْدَ ثَمَانِ سِنِينَ كَالْمُوَدِّعِ لِلْأَحْيَاءِ وَالْأَمْوَاتِ، ثُمَّ طَلَعَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ: " إِنِّي فَرَطُكُمْ، وَأَنَا عَلَيْكُمْ شَهِيدٌ، وَإِنَّ مَوْعِدَكُمْ الْحَوْضُ، وَإِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَيْهِ، وَلَسْتُ أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا أَوْ قَالَ: تَكْفُرُوا وَلَكِنْ الدُّنْيَا أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور اہل احد کی قبروں پر پہنچ کر نماز جنازہ پڑھی، پھر واپس آکر منبر پر رونق افروز ہوئے اور فرمایا میں تمہارا انتظار کروں گا اور میں تمہارے لئے گواہی دوں گا، واللہ میں اس وقت بھی اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں، یاد رکھو! مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں دی گئی ہیں، بخدا! مجھے تمہارے متعلق یہ اندیشہ نہیں ہے کہ میرے پیچھے تم شرک کرنے لگو گے، بلکہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ تم دنیا میں منہمک ہو کر ایک دوسرے سے مسابقت کرنے لگو گے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17402]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4042، م: 2296
حدیث نمبر: 17403
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو عُشَّانَةَ الْمَعَافِرِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ كَانَتْ وَقَالَ مَرَّةً: مَنْ كَانَ لَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ، فَصَبَرَ عَلَيْهِنَّ، فَأَطْعَمَهُنَّ وَسَقَاهُنَّ وَكَسَاهُنَّ مِنْ جِدَّتِهِ، كُنَّ لَهُ حِجَابًا مِنَ النَّارِ" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جس شخص کی تین بچیاں ہوں اور وہ ثابت قدمی کے ساتھ انہیں محنت کر کے کھلائے پلائے اور پہنائے تو وہ اس کے لئے جہنم کی آگ سے رکاوٹ بن جائیں گی۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17403]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17404
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مِشْرَحَ بْنَ هَاعَانَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ تَعَلَّقَ تَمِيمَةً، فَلَا أَتَمَّ اللَّهُ لَهُ، وَمَنْ تَعَلَّقَ وَدَعَةً، فَلَا وَدَعَ اللَّهُ لَهُ" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص تمیمہ (تعویذ) لٹکائے، اللہ اس کے ارادے کو تام (مکمل) نہ فرمائے اور جو ودعہ (سمندر پار سے لائی جانے والی سفید چیز جو نظر بد کے اندیشے سے بچوں کے گلے میں لٹکائی جاتی ہے) لٹکائے، اللہ اسے سکون عطاء نہ فرمائے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17404]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة خالد بن عبيد، وقد توبع
حدیث نمبر: 17405
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو ، أَنَّ مِشْرَحَ بْنَ هَاعَانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَوْ كَانَ مِنْ بَعْدِي نَبِيٌّ، لَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہوتے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17405]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف